جنوبی کوریا میں بغیر عملے کی دکانوں کا رجحان عروج پر، روبوٹس نے کاروبار سنبھال لیا

جنوبی کوریا میں بڑھتی پیداواری لاگت اور افرادی قوت کی کمی کے باعث بغیر عملے کے چلنے والی کافی شاپ، ریستوران، پھولوں کی دکان اور دیگر کاروبار تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

ان دکانوں میں روبوٹس اور سیلف سروس نظام کے ذریعے صارفین کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں، بیشتر دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں جبکہ مالکان کے مطابق کم لیبر اخراجات کے باعث منافع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جنوبی کوریا میں بڑھتی پیداواری لاگت اور افرادی قوت کی کمی کے باعث بغیر عملے کے چلنے والی کافی شاپ، ریستوران، پھولوں کی دکانیں اور دیگر کاروبار تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

ان دکانوں میں روبوٹس اور سیلف سروس نظام کے ذریعے صارفین کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں، بیشتر دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہتی ہیں، جبکہ مالکان کے مطابق کم لیبر اخراجات کے باعث منافع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسی حوالے سے جنوبی کوریا میں خودکار روبوٹک کافی شاپ نے انقلاب برپا کردیا ہے بغیر عملے کے کاروبار تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور منافع 40 فیصد سے تجاوز کرگیا۔

جنوبی کوریا میں جدید ٹیکنالوجی سے چلنے والی بغیر عملے کافی شاپس، ریستوران اور دیگر خودکار دکانوں کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی اجرتوں، افرادی قوت کی کمی اور روبوٹس کے مؤثر استعمال نے اس کاروباری ماڈل کو غیر معمولی کامیابی دلائی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران جنوبی کوریا میں بغیر عملے کے اسٹورز کی تعداد تقریباً 9 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2025 میں ان کی تعداد 2020 کے مقابلے میں تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے۔

ان جدید کافی شاپس میں روبوٹ خودکار طریقے سے کافی تیار کرتا ہے جبکہ ایک ملازم صرف روزانہ تقریباً ایک گھنٹے کے لیے آکر کافی بینز اور دیگر ضروری سامان کی بھرائی کرتا ہے اور صفائی کے فرائض انجام دیتا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کی سب سے بڑی کامیابی کم آپریشنل اخراجات ہیں، جس کی بدولت ایسی کافی شاپس کا منافع 40 فیصد سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے، جبکہ روایتی کافی شاپس کا منافع عموماً 10 سے 15 فیصد کے درمیان رہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم جرائم کی شرح، صارفین کا ذمہ دارانہ رویہ اور افرادی قوت کی کمی نے جنوبی کوریا میں بغیر عملے کے کاروباری ماڈل کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔