بوھری برادری کے بارے میں اپ کیا جانتے ہیں ؟ ان کے موجودہ روحانی پیشوا کون ہیں کہاں رہتے ہیں ؟


بوھری برادری کے بارے میں اپ کیا جانتے ہیں ؟

ان کے موجودہ روحانی پیشوا کون ہیں کہاں رہتے ہیں ؟

پاکستان میں بہت ہی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد کس شہر میں رہتی ہے ؟


پاکستان میں بوھری برادری کا سب سے بڑا اجتماع کب ہوتا ہے ؟

ایک معلوماتی رپورٹ

**: تعارف اور شناخت**
پاکستان میں آباد بوہری برادری (داؤدی بوہرہ) ایک خوشحال، تعلیم یافتہ اور انتہائی منظم شیعہ اسماعیلی مسلم گروہ ہے۔ یہ برادری اپنی تجارتی مہارت، محنت کشی اور سماجی فلاح کے کاموں کے لیے پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔ پاکستان میں ان کی آبادی اگرچہ مجموعی آبادی کے مقابلے میں کم ہے، لیکن کراچی، حیدرآباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ان کی موجودگی نمایاں ہے۔ ان کی شناخت ان کے مخصوص لباس، خاص طور پر خواتین کا گلابی یا سرخ رنگ کا روایتی برقعہ (ریزا)، اور ان کی منفرد مساجد کی تعمیر سے بخوبی کی جا سکتی ہے۔

**: روحانی پیشوا (موجودہ رہنما)**
بوہری برادری کے روحانی اور دنیاوی پیشوا **سیدنا مفضل سیف الدین** ہیں، جو داؤدی بوہرہ برادری کے 53ویں امام ہیں۔ وہ نہ صرف مذہبی رہنما ہیں بلکہ ایک عالمی شخصیت بھی ہیں جن کا اثر و رسوخ برصغیر سے لے کر مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک پھیلا ہوا ہے۔ سیدنا مفضل سیف الدین اپنی فصیح و بلیغ تقریر، علمی بصیرت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششوں کے لیے مشہور ہیں۔ پاکستان میں انہیں بے حد عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور حکومت پاکستان بھی انہیں ایک معزز مہمان کا درجہ دیتی ہے۔

**: پاکستان کے لیے خصوصی تعلق اور دوروں کی اہمیت**
پاکستان کے ساتھ بوہری برادری کا رشتہ صرف مذہب تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی اور تاریخی جڑوں سے جڑا ہوا ہے۔ سیدنا مفضل سیف الدین پاکستان کا بار بار دورہ کرتے ہیں، خاص طور پر ماہِ محرم الحرام کے دوران، جب وہ کراچی میں عشرۂ مبارکہ (پہلی 10 تاریخیں) کے اجتماعات کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ دورے محض رسمی نہیں ہوتے بلکہ ان میں لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں، جن میں پاکستان کے علاوہ بھارت، یمن، مشرقی افریقہ اور امریکہ سے آنے والے بوہری شامل ہوتے ہیں۔ ان اجتماعات کا مرکزی مقام کراچی کا “طیبہ مسجد” کمپلیکس ہوتا ہے، جو استقبالیہ اور روحانی فیض کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

**: حالیہ دوروں کا سیاسی و سماجی پس منظر**
گزشتہ چند برسوں میں سیدنا مفضل سیف الدین کے پاکستان کے دورے انتہائی شاندار اور اہم رہے ہیں۔ جولائی 2024 میں ان کے دورے کا اختتام اس وقت ہوا جب صدر پاکستان، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ نے خود انہیں کراچی ایئرپورٹ پر رخصت کیا، جو ریاستی سطح پر ان کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان دوروں کے دوران وہ صرف مذہبی خطابات ہی نہیں کرتے بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی، قرضوں کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے دورے مذہبی رسومات کے ساتھ ساتھ ایک سفارتی اور فلاحی پہلو بھی رکھتے ہیں۔

**: بوہری برادری کا منفرد طرز زندگی**
بوہری برادری کا طرز زندگی انتہائی منظم، نظم و ضبط اور اخوت پر مبنی ہے۔ ان کا روزمرہ کا معمول مذہبی فرائض، تلاوت قرآن اور تجارت کے گرد گھومتا ہے۔ ان کی خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور کاروبار، طب اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ اپنے روایتی گلابی برقعے (ریزا) کو فخر سے پہنتی ہیں۔ برادری کا ایک منفرد نظام “جماعت” ہے، جہاں ہر شہر کی اپنی ایک تنظیم ہوتی ہے جو نکاح، تعلیم، صحت اور قرضوں کے معاملات کو حل کرتی ہے۔ کراچی کا مشہور **بوہری بازار** ان کی تجارتی شناخت کا مرکزی نشان ہے، جو برطانوی دور میں قائم ہوا اور آج بھی اشیائے خوردنی اور گھریلو سامان کے سستے داموں ملنے کی وجہ سے معروف ہے۔

**: پاکستانی معاشرے میں کردار اور مستقبل کی راہ**
پاکستانی حکومت اور عوام نے ہمیشہ بوہری برادری کو ایک مثالی اقلیتی کمیونٹی قرار دیا ہے، جس نے تعلیم، صحت عامہ اور فلاحی کاموں میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ سیدنا مفضل سیف الدین نے اپنے خطابات میں پاکستانی عوام سے اتحاد، ایمانداری اور قومی ترقی کے لیے کام کرنے کی تلقین کی ہے۔ ان کے دوروں نے نہ صرف بوہری برادری کو مذہبی طور پر مستحکم کیا ہے بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مثبت پاکستان امیج کو بھی فروغ دیا ہے۔ یہ برادری اپنے روحانی پیشوا کی قیادت میں پاکستان کے کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی تانے بانے کا ایک روشن اور قیمتی دھاگہ ہے۔

https://www.youtube.com/shorts/LPM9MX9rRzU