علیمہ خان کی سیاست ۔ پارٹی کے اندر کون ان کے ساتھ کون مخالف ؟


علیمہ خان کی سیاست ۔
پارٹی کے اندر کون ان کے ساتھ کون مخالف ؟
ان پر الزامات اور ان کے ساتھ جڑے تنازعات کی حقیقت کیا ہے ؟


اہم تفصیلات پر مبنی خصوصی رپورٹ
coming soon

سیاست میں علیمہ خان کا نام اُٹھنا دراصل ایک بہن کا اپنے بھائی کی رہائی کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا ہے، جو کسی منصوبہ بند سیاسی ایجنڈے سے زیادہ جذباتی اور اخلاقی وابستگی کا عکاس ہے۔ وہ خود کو پارٹی میں کسی عہدے کی خواہاں نہیں بتاتیں، بلکہ اپنی تمام تر توانائی عدالتی کارروائیوں اور جیل کی باہر میڈیا کے سامنے آواز اُٹھانے پر صرف کرتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ وہ سیاست دان نہیں بلکہ ایک بہن ہیں، اور ان کی کامیابی کا سب سے بڑا معیار عوام میں اپنے بھائی کی گرفتاری کے خلاف بیداری پیدا کرنا ہے۔ میڈیا پر ان کی مستقل موجودگی اور عدالتوں کے باہر ان کے بیانات نے انہیں تحریک انصاف کی ایک ایسی آواز بنا دیا ہے جو جماعت کی اندرونی سیاست سے بالا تر ہے۔

علیمہ خان کی سیاست کا مرکزی نکتہ “آزاد عدلیہ” اور “شفاف انتخابات” کا مطالبہ ہے، جسے وہ اپنے بھائی کی رہائی کی شرط قرار دیتی ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کی سمجھوتہ یا “ڈیل” کو مسترد کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، بلکہ وہ عدلیہ کی بحالی کو سب سے بڑی کامیابی سمجھتی ہیں۔ ان کا یہ موقف پارٹی کے اندر بھی ایک سخت گیر لہر کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کسی بھی کوشش کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ تاہم، ان کی یہی سخت گیری پارٹی کے اندر تنازعات کا باعث بھی بنی، جب انہوں نے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنماؤں پر گرفتاری روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔

علیمہ خان پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی تک رسائی اور اس کی مرضی کو اپنی مرضی سے پیش کرتی ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی میں اندرونی طور پر “دوغلا پن” پیدا ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، وہ جیل میں عمران خان تک پہنچنے والی معلومات کو کنٹرول کرتی ہیں اور پارٹی کے اندر ایک ایسا گروہ بنا رہی ہیں جو منتخب رہنماؤں، خاص طور پر بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو “غدار” قرار دیتا ہے۔ نومبر 2025 کے احتجاج کے دوران ان پر عدالتی کارروائی بھی ہوئی، جہاں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے میڈیا کے ذریعے احتجاج کی کال دی، تاہم ان کی قانونی ٹیم نے اسے ثبوت کی کمی قرار دیا۔

سیاسی مبصرین اور پارٹی ذرائع کے مطابق، علیمہ خان کا سوشل میڈیا پر کنٹرول اور ان کی سخت گیر پالیسیاں جماعت کو تنہا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ جب کہ کچھ رہنما حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حق میں تھے، علیمہ خان نے عمران خان کو یہ باور کرایا کہ وہ الگ تھلگ ہو رہے ہیں اور کوئی بھی ڈیل ان کی اصولی سیاست کے خلاف ہے۔ اس کے برعکس، ان کے حامی انہیں “جمہوریت کی محافظ” اور “مظلوم کی آواز” قرار دیتے ہیں، جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف واحد شخصیت ہیں جو بلا خوف بولتی ہیں۔ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا موازنہ محمڈ علی جناح کی بہن فاطمہ جناح سے کیا جاتا ہے، جو ایک عورت ہونے کے باوجود آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت تھیں۔

علیمہ خان کی سیاسی حیثیت ایک متضاد حقیقت ہے: ایک طرف وہ اپنے بھائی کی گرفتاری کے خلاف جذباتی اپیل کے ذریعے عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں، تو دوسری طرف پارٹی کے اندر انہیں “غیر منتخب طاقت” کا مرکز قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اگرچہ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کا کوئی سیاسی منصوبہ نہیں، لیکن ان کے بیانات اور فیصلے براہ راست پاکستان کی قومی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی ایک بہن کی بے باکی میں ہے، جبکہ ان کے خلاف الزامات یہ ہیں کہ وہ جمہوری اصولوں کو نظر انداز کر کے ایک سخت گیر ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں، جس نے پارٹی کو اندرونی انتشار اور بیرونی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
=======================

عمران خان کی 6 ماہ سے اہل خانہ سے ملاقات نہیں کرائی گئی ، 22 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان
بانی کو قید تنہائی میں رکھنا غیر قانونی قرار دے کر قانونی اور آئینی حقوق کی فراہمی کے احکامات جاری کئے جائیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست
| June 27, 2026
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف ان کی بہن علیمہ خانم نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے درخواست دائر کی، جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات، چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے اور ایم ایس پمز کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 8 اپریل کو وکیل سے ہونے والی ملاقات میں معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ 22 گھنٹے جبکہ بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ چھ ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی نہ اہلِ خانہ سے ملاقات کرائی گئی اور نہ ہی پارٹی رہنماؤں سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے بغیر بتائے محسن نقوی سے ملاقات کی ، علیمہ خان

درخواست گزار کے مطابق کسی عدالتی فیصلے میں بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کا حکم موجود نہیں، اس کے باوجود انہیں اس سخت سزا جیسی صورتحال کا سامنا ہے، جو غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک کے مترادف ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے وکیل سے ملاقات کے دوران بتایا کہ ان کی ایک آنکھ تقریباً 85 فیصد متاثر ہو چکی ہے، جس پر فوری طبی توجہ کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنا غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس عمل سے روکنے اور قانونی و آئینی حقوق کی فراہمی کے احکامات جاری کیے جائیں۔