
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی کہانی جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی




special report
coming soon
سردار سلیم حیدر کا سیاسی سفر جدوجہد، استقامت اور پارٹی کے تئیں وفاداری کی ایک داستان ہے۔ ان کا تعلق ضلع اٹک سے ہے اور انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بطور کارکن کیا۔ 2002 کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ ان کی سیاسی وفاداری اور عوامی خدمات کے جذبے نے انہیں پارٹی میں ایک مضبوط مقام عطا کیا اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلع راولپنڈی کے صدر بنے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عہدے دولت یا اثر و رسوخ کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے نظریاتی عزم اور محنت کی بدولت ملے ۔

ان کی سیاسی زندگی کا اہم سنگ میل 2008 کا الیکشن تھا جب انہوں نے پہلی بار قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا ۔ اس کے بعد وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی کابینہ میں شامل ہوئے اور وزارت دفاع اور دفاعی پیداوار کے معاون خصوصی کے عہدے پر فائز رہے ۔ 2013 کے الیکشن میں شکست کے باوجود انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم میں بطور معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز خدمات انجام دیں ، جس سے ان کی سیاسی بصیرت اور عملی مہارت کا ایک بار پھر ثبوت ملا۔
سال 2024 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی صورت حال بدلی اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت سردار سلیم حیدر کو پنجاب کا گورنر مقرر کیا گیا ۔ صدر آصف علی زرداری نے ان کی تعیناتی کی منظوری دی اور 10 مئی 2024 کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انہیں حلف دلایا ۔ اس تقریب میں چیف منسٹر پنجاب مریم نواز اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی، جس سے سیاسی اتحاد کی مضبوطی کا اظہار ہوا ۔ گورنر بننے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ عہدہ انہیں غریبوں کی دعاؤں کی برکت سے ملا اور وہ سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنائیں گے ۔
گورنر بننے کے بعد سردار سلیم حیدر نے اپنے کردار کو عوامی خدمت اور ترقی کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے اپنے آبائی ضلع اٹک میں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے منصوبے شروع کیے، جیسے مفت ڈائیلاسز سینٹرز، پینے کے صاف پانی کے پلانٹس اور یونیورسٹی آف اٹک کا قیام ۔ مزید برآں، انہوں نے انتخابی اصلاحات اور قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس ہر شہری کے لیے کھلا ہے اور وہ امیر غریب کی بلا تفریق خدمت کریں گے ۔ ان کا یہ سفر ایک عام کارکن سے آئینی عہدے تک پہنچنے اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنانے کی ایک بہترین مثال ہے ۔


















































































