کراچی – وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کراچی کے ساتھ ہونے والی مالی ناانصافی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر سالانہ جو ٹیکس وصول کرتا ہے، اس میں سے 800 سے 900 ارب روپے اس شہر کا جائز حصہ بنتا ہے، لیکن سندھ حکومت کراچی کو صرف 50 سے 60 ارب روپے دیتی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا کہ اس محدود رقم میں سے بھی بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو کر بیرونِ ملک، خاص طور پر دبئی منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے کراچی کے بنیادی مسائل حل ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کراچی کی 80 فیصد آبادی آج بھی صاف پانی سے محروم ہے اور مجبوراً مہنگے داموں ٹینکر کا پانی خریدنے پر مجبور ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں گیس دستیاب نہیں، جبکہ بجلی کئی کئی گھنٹے غائب رہتی ہے۔ گلیوں میں کوڑا جمع رہتا ہے کیونکہ حکومت اسے اٹھانے میں ناکام ہے اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔وفاقی وزیر نے کے-فور منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کے لیے اضافی پانی لانے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن پچھلے 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت اسے مکمل نہیں کر سکی۔ ان کے مطابق یہ تاخیر کراچی کے عوام کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے۔ اگر شہر کو اس کا قانونی اور جائز فنڈ دیا جائے تو یہ شہر نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتا ہے بلکہ پورے ملک کی معیشت کو آگے لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کراچی کے عوام کو ان کے حقوق دے تاکہ شہر کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
سید مصطفیٰ کمال کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ ان کا سیاسی سفر ایک عام کارکن سے شروع ہو کر کراچی کے میئر، سینیٹر اور وفاقی وزیر تک کا سفر طے کرتا ہے، جس میں شدید مخالفت، علیحدگی اور پھر ایک غیر معمولی واپسی شامل ہے ۔ یہ کہانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اندرونی بحرانوں اور کراچی کی سیاست کی عکاس ہے۔
ان کا عروج ایم کیو ایم کے اندر ہوا، جہاں انہوں نے ایک ٹیلی فون آپریٹر سے ترقی کرتے ہوئے 2005 سے 2010 تک کراچی کے میئر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ اس عرصے میں انہوں نے شہر کی بہبود کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے اور بین الاقوامی سطح پر پہچان حاصل کی ۔ تاہم، 2013 میں الطاف حسین سے اختلافات کے باعث انہوں نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے کر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی اور دبئی چلے گئے ۔
مارچ 2016 میں واپس آکر انہوں نے ایک دھماکہ خیز پریس کانفرنس کی جس میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی پالیسیوں کو براہ راست چیلنج کیا اور پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کی بنیاد رکھی ۔ اس اقدام نے ایم کیو ایم کو گہرا دھچکا پہنچایا اور کراچی کی سیاست میں ایک نئی لکیر کھینچ دی۔ انہوں نے ایم کیو ایم پر الزام عائد کیا کہ وہ کراچی میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے اور اپنی نئی جماعت کو ایک پرامن متبادل کے طور پر پیش کیا ۔
پی ایس پی کے طور پر انہیں مطلوبہ کامیابی نہیں ملی اور 2018 کے انتخابات میں وہ کوئی نشست جیتنے میں ناکام رہے ۔ اس ناکامی کے بعد انہوں نے ایک نیا سیاسی موڑ لیا اور جنوری 2023 میں اپنی پارٹی کو ایم کیو ایم-پاکستان میں ضم کر دیا، جس کی قیادت خالد مقبول صدیقی کر رہے تھے ۔ اس فیصلے کو ایم کیو ایم کے ٹوٹے ہوئے دھڑوں کو متحد کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا گیا، تاکہ کراچی کے حقوق کے لیے مشترکہ آواز اٹھائی جا سکے ۔
اس مصافحہ کے بعد مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم-پاکستان کے سینئر نائب کنوینر بن گئے اور 2024 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وفاقی وزیر صحت مقرر ہوئے ۔ خالد مقبول صدیقی نے خود اس انضمام کو مشکل اور غیر معمولی قرار دیا، جس میں دونوں گروہوں کے درمیان تلخی تھی، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ وقت کے ساتھ یہ اختلافات ختم ہو جائیں گے ۔


















































































