ماہرہ خان پر قسمت کی دیوی کب کیسے مہربان ہوئی ؟ شہرت کی بلندیوں کا سفر اتنی تیزی سے کیسے طے ہوا ؟


ماہرہ خان پر قسمت کی دیوی کب کیسے مہربان ہوئی ؟

شہرت کی بلندیوں کا سفر اتنی تیزی سے کیسے طے ہوا ؟

دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بننے والی مشہور اور خوبصورت اداکارہ ماہرہ خان کی کہانی جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

خصوصی رپورٹ

ماہرہ خان پاکستان کی ان چند اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت پوری دنیا میں اپنی پہچان بنائی۔ ان کے کامیاب کیرئیر کا آغاز بطور وی جے ہوا، جب انہوں نے 2006 میں ایم ٹی وی پاکستان کے شو ‘موسٹ وانٹڈ’ کی میزبانی شروع کی۔ تاہم، ان کی زندگی آسان نہ تھی؛ امریکہ میں تعلیم کے دوران انہیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مالز میں مشکل کام بھی کرنے پڑے۔ ان مشکلات نے انہیں کمزور نہیں کیا بلکہ ایک مضبوط اور باہمت شخصیت کے طور پر ابھارا، اور اسی جذبے کے بل بوتے پر انہوں نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا۔

ماہرہ خان کو عوام میں مقبولیت ڈرامہ ‘ہم سفر’ سے ملی، جس میں فواد خان کے ساتھ ان کی جوڑی نے پاکستان اور بھارت دونوں طرف دھوم مچا دی۔ اس ڈرامے میں خیراد کے کردار نے انہیں گھر گھر میں مشہور کر دیا اور انہیں پہلا لکس اسٹائل ایوارڈ بھی دلایا۔ اس کے بعد ‘شہر ذات’، ‘صدقے تمہارے’ اور ‘بن روئے’

جیسے یادگار ڈراموں میں اپنے منفرد اور پیچیدہ کرداروں سے انہوں نے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک چہرہ نہیں بلکہ ایک بہترین اداکارہ ہیں جو جذبات کی ہر کیفیت کو پردے پر اتار سکتی ہیں۔

فلمی کیرئیر میں ماہرہ خان نے 2011 میں فلم ‘بول’ سے ڈیبیو کیا،

جو پاکستان کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل ہے۔ اس کے بعد ‘بن روئے’ اور ‘ہو مان جہاں’ جیسی فلموں میں کام کیا، لیکن ان کی بین الاقوامی پہچان کا سب سے بڑا موقع 2017 میں آیا جب انہوں نے شاہ رخ خان کے ساتھ بالی وڈ فلم ‘رئیس’ میں کام کیا۔

یہ فلم نہ صرف بے حد کامیاب رہی بلکہ ماہرہ پہلی پاکستانی اداکارہ بن گئیں جنہوں نے بالی وڈ کی تین بڑی شخصیات میں سے کسی کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا۔ حال ہی میں 2022 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ نے

پاکستانی سنیما کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی اور یہ پنجابی فلم انڈسٹری کی پہلی سو کروڑ روپے کمانے والی فلم بنی، جس نے ماہرہ کو ایک بار پھر کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

ماہرہ خان کی کامیابی کا ایک اور اہم پہلو ان کی ماڈلنگ اور برانڈ اینڈورسمنٹ ہے۔ وہ پاکستان کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکاراؤں میں سے ایک ہیں اور ان کی تخمینہ مالیت 58 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ وہ لوریال، لکس، ویٹ اور کوکا کولا جیسے بڑے بین الاقوامی برانڈز کی سفیر رہ چکی ہیں۔ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ وہ سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہیں اور 2019 سے یونیسیف کی قومی اور عالمی سفیر کے طور پر افغان مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔ بطور اداکارہ، ماڈل اور سماجی کارکن ماہرہ خان کا کیرئیر نہ صرف کامیابی کی ایک مثال ہے بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے جو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

** (فواد خان کے ساتھ مقبولیت)**

اگر ماہرہ کی فلمی تاریخ اور عوام کی محبت کا جائزہ لیا جائے تو **فواد خان** کا نام سب سے اوپر آتا ہے۔ ان دونوں کی جوڑی کو پاکستانی سنیما اور ٹیلی ویژن کی تاریخ کی سب سے مقبول اور آئیکونک جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ڈرامہ سیریل *ہم سفر* میں ان کی کیمسٹری نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دھوم مچائی اور اسے پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے . اس کے بعد فلم *دی لیجنڈ آف مولا جٹ* میں ایک ساتھ نظر آنے والی ان کی جوڑی نے بھی خوب پزیرائی حاصل کی اور حال ہی میں آنے والی فلم *نیلوفر* میں ان کی واپسی کو بھی بے حد سراہا گیا، حالانکہ وہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہ ہو سکی . فواد اور مہرانے کی اسکرین پر موجود موجودگی اور ان کی غیر معمولی کیمسٹری انہیں مداحوں میں سب سے زیادہ مقبول ہیرو بناتی ہے، اور اس جوڑی کو آج بھی لوگ اسی محبت سے یاد کرتے ہیں جس طرح *ہم سفر* کے دور میں کرتے تھے .

** (ہمایون سعید کے ساتھ تجارتی کامیابی)**

جب بات تجارتی کامیابی اور حالیہ دور کی مقبولیت کی ہو تو **ہمایون سعید** کا نام سر فہرست آتا ہے، جو اس لحاظ سےماہرہ خان کے سب سے کامیاب ہیرو ثابت ہوئے ہیں۔ 2025 میں ریلیز ہونے والی فلم *لو گرو*، جس میں ہمایون سعید اور ماہرہ خان نے مرکزی کردار ادا کیے، نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی اور تقریباً 80.1 کروڑ روپے کا بزنس کیا . اس فلم کی کامیابی نے مہرانے خان اور حمایون سعید کی جوڑی کو ایک نیا مقام دیا اور ان کی اسکرین پر موجود کیمسٹری کو خوب سراہا گیا . اگرچہ مہرانے اور فواد خان کی جوڑی کلاسک اور دیرپا مقبولیت رکھتی ہے، لیکن باکس آفس پر حالیہ کامیابیوں کے لحاظ سے حمایون سعید کا شمار زیادہ کامیاب اور مقبول ہیرو میں ہوتا ہے، خاص طور پر جب مہرانے خان کی فلم *نیلوفر* (فواد کے ساتھ) باکس آفس پر ناکام ہوئی .

ماہرہ خان اور فواد مصطفیٰ کی جوڑی پاکستانی فلمی صنعت میں ایک نیا اور تازہ رنگ لے کر آئی ہے۔ ان دونوں کی پہلی فلم *قائداعظم زندہ باد* (2022) میں شائقین نے ان کی کیمسٹری کو بے حد پسند کیا اور ان کی اسکرین پر موجود موجودگی کو خوب سراہا گیا . اس فلم میں فواد مصطفیٰ نے ایک پولیس افسر کا کردار ادا کیا جبکہ مہرانے خان نے ایک اینیمل رائٹس ایکٹوسٹ کا کردار نبھایا، اور ناظرین نے ان کی جوڑی کو منفرد اور دلکش قرار دیا . اس کامیابی کے بعد اب یہ جوڑی ایک بار پھر نئی فلم *آگ لگے بستی میں* (ALBM) میں ساتھ نظر آئے

ماہرہ خان اور بھارتی اداکار رنبیر کپور کی 2017 میں نیویارک میں سگریٹ نوشی کرتی ہوئی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو اس نے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایک بڑا طوفان کھڑا کر دیا ۔ ماہرہ خان کو نہ صرف ان کے لباس اور سگریٹ نوشی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ان کی اور رنبیر کی مبینہ دوستی کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئیں ۔ ماہرہ نے خود اس مشکل وقت کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ روزانہ روتی تھیں اور بستر سے اٹھنے کی ہمت نہیں پاتی تھیں، اور انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کا کیریئر ختم ہو گیا ہے ۔ انہوں نے بی بی سی کے ایک مضمون “The Little White Dress” کا ذکر کیا جس میں ان کی زوال پذیر کامیابی کی پیش گوئی کی گئی تھی، اور اسے پڑھ کر وہ سوچنے پر مجبور ہو گئیں کہ کیا واقعی ان کا کیریئر ختم ہو گیا ۔

اس تنازعے نے ماہرہ کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی دونوں کو بری طرح متاثر کیا، اور وہ اس وقت ایک سنگل ماں بھی تھیں جس نے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ۔ تاہم، مہرانے نے اس مشکل وقت میں خاموشی اختیار کی اور اپنے بیٹے کے لیے بہتر فیصلے کرنے پر توجہ دی ۔ انہیں اس دوران برانڈز اور ان کے مداحوں کی طرف سے بھرپور حمایت ملی جنہوں نے ان کا ساتھ دیا ۔ بعد ازاں رنبیر کپور نے بھی ماہرہ کے دفاع میں بیان جاری کیا اور کہا کہ انہیں اس بنیاد پر پرکھنا ناانصافی ہے کہ وہ ایک خاتون ہیں ۔ ماہرہ خان نے اس طوفان کو برداشت کیا اور اپنے عزم اور مداحوں کی محبت کی بدولت ایک بار پھر کامیابی کے سفر پر گامزن ہو گئیں ۔