
اسپیکر قومی اسمبلی مسلم لیگی رہنما سردار ایاز صادق کی کہانی ۔۔۔۔۔۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

ان کا شاندار سیاسی کیریئر کب کیسے اور کہاں سے شروع ہوا ؟

کتنی مشکلات مسائل اور چیلنجوں کا سامنا کر کے یہاں تک پہنچے ؟
اہم تفصیلات منظر عام پر ۔۔۔۔۔۔
سردار ایاز صادق کی سیاسی کامیابی کا سفر ایک منفرد اور قابلِ تحسین داستان ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف سے کیا تاہم 1998 میں عمران خان سے اختلافات کے باعث اس جماعت کو خیرباد کہہ دیا اور 2001 میں ایسے وقت میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی جب پارٹی اپنے عروج پر نہیں تھی اور نواز شریف جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ یہ فیصلہ ان کی سیاسی بصیرت اور جمہوری اقدار سے وابستگی کا مظہر تھا، کیونکہ انہوں نے طاقت کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر سیاست کا راستہ منتخب کیا۔
ان کی پارلیمانی زندگی کا آغاز 2002 میں ہوا جب وہ لاہور کے حلقہ NA-122 سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 2008، 2013، 2018 اور 2024 کے انتخابات میں مسلسل کامیابی نے انہیں عوامی نمائندے کے طور پر مضبوط کیا۔ خاص طور پر 2013 کے انتخابات میں عمران خان کو شکست دینا ان کے سیاسی کیرئیر کا سنگ میل ثابت ہوا، جس کے بعد انہیں اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کیا گیا۔ 2015 میں الیکشن ٹریبونل کی جانب سے ان کی کامیابی کو چیلنج کیا گیا اور انہیں عارضی طور پر نااہل قرار دیا گیا، تاہم ضمنی انتخاب میں شاندار کامیابی نے ان کی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔
اسپیکر کے طور پر ان کا کردار غیر جانبدارانہ طرزِ عمل اور جمہوری روایات کے فروغ کا باعث بنا۔ انہوں نے نہ صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان توازن قائم رکھا بلکہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی حکومت کی مدت میں دو مرتبہ اسپیکر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ ان کی قیادت میں قومی اسمبلی نے 187 بل پاس کیے، جبکہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی “گرین پارلیمنٹ” میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے ایس ڈی جیز سیکرٹریٹ کا قیام، ڈیجیٹلائزیشن، اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں جیسے اصلاحی اقدامات متعارف کروائے جو آج بھی پارلیمانی نظام کی مضبوطی کا باعث ہیں۔
سیاست میں سردار ایاز صادق کی سب سے بڑی خوبی متنازعہ حالات میں ثالثی اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے دوران جب اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر نے استعفیٰ دے دیا، تو انہیں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی، اور انہوں نے آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پارلیمانی روایات کو برقرار رکھا۔ اسی طرح 2024 میں تیسری بار اسپیکر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم جیسے اہم قانونی اقدامات کو کامیابی سے منظور کروایا، جس میں عدالتی نظام میں اصلاحات اور سود کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ شامل ہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے سراہا جاتا ہے، جو ان کی غیر جانبدارانہ پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پارلیمانی سفارت کاری میں ان کی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی بین الاقوامی فورمز جیسے انٹر-پارلیمانی یونین، دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس، اور سارک اسپیکرز ایسوسی ایشن میں کی اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں کے صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے مؤقف کے اظہار کے لیے 2015 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس کی میزبانی سے انکار کر دیا، جس سے ان کی قوم پرستی اور اصول پسندی عیاں ہوتی ہے۔ ان کی کوششوں سے پاکستان اور روس، چین، ترکی، اور ایران کے ساتھ پارلیمانی تعلقات مضبوط ہوئے، اور وہ پہلی بار اسپیکرز کانفرنس برائے انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی رابطوں کے انعقاد میں کامیاب رہے۔
مارچ 2024 میں تیسری بار اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو کر سردار ایاز صادق نے تاریخ رقم کی جب انہیں 199 ووٹوں کی بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ ان کا سیاسی سفر مشکلات، جدوجہد، اور جمہوری اقدار کے تحفظ کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے نہ صرف ایک کامیاب سیاستدان کے طور پر اپنی شناخت بنائی بلکہ ایک باشعور، ہمدرد، اور غیر جانبدار اسپیکر کی مثال قائم کی۔ آج وہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک اسپیکر رہنے والے شخصیات میں شامل ہیں اور ان کی قیادت میں قومی اسمبلی نے جدید ڈیجیٹل نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم، اور کاغذات سے پاک پارلیمان کا سنگ میل عبور کیا، جو ان کی دوراندیشی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کا ثبوت ہے۔


















































































