
دیوان محمد یوسف فاروقی ۔ کاروباری دنیا کا ایک چمکتا ستارہ ۔
ایک قابل فخر پاکستانی کی کہانی
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی







دیوان محمد یوسف فاروقی ایک ایسے شاہانہ خاندان کے وارث – جہاں دولت، تجارت اور خدمتِ خلق کا سلسلہ پشت در پشت جاری۔ ان کے بزرگ برصغیر کے نامور کاروباری گروہوں میں شمار ہوتے تھے اور سماجی خدمات میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ دیوان صاحب نے اس قیمتی ورثے کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اپنی غیرمعمولی کاروباری صلاحیتوں، دوراندیشی اور جدید حکمت عملیوں کے ذریعے اسے عالمی سطح پر پہنچا دیا۔ انہوں نے خاندانی کاروبار کو نئی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کیا، جس سے نہ صرف منافع میں غیرمعمولی اضافہ ہوا بلکہ ان کی تجارتی سلطنت پوری دنیا میں ایک مثال بن گئی۔ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مارکیٹ کی گہری سمجھ نے انہیں ایک کامیاب تاجر کے ساتھ ساتھ ایک بصیرت کار رہنما بھی بنا دیا۔
کاروبار کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے دیوان صاحب نے اپنے بزرگوں کی سنت کو زندہ رکھا اور صحت کے شعبے میں انقلابی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے متعدد انہوں نے متعدد بڑے بڑے ہسپتالوں اور چھوٹے طبی مراکز کی دل کھول کر مدد کی، جہاں غریب سے غریب مریض کو مفت اور معیاری علاج میسر ہے۔ وباؤں اور قدرتی آفات کے دوران ان کا طبی امداد کا سلسلہ قابلِ ستائش ہے، جب انہوں نے لاکھوں جانوں کو بچانے کے لیے اپنے وسائل کو بے دریغ خرچ کیا۔ ان کے صحت کے ادارے صرف شہروں تک محدود نہیں، بلکہ دور دراز کے دیہی علاقوں میں بھی جدید سہولیات فراہم کرتے ہیں، جس سے عوام کی زندگیوں میں انمول بہتری آئی ہے۔
تعلیم کے میدان میں دیوان محمد یوسف فاروقی کا سب سے بڑا کارنامہ **ایس بی بی دیوان یونیورسٹی کراچی** کا قیام ہے، جو آج علم و دانش کا ایک روشن مینار ہے۔ اس یونیورسٹی کے ذریعے انہوں نے جدید تعلیم، تحقیقات اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جو نوجوان نسل کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد اسکول، کالج اور ٹیکنیکل ادارے قائم کیے اور غریب طلباء کے لیے وظائف اور قرضہ حسنہ کے پروگرام شروع کیے تاکہ کوئی بچہ مالی مجبوری کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ دیوان صاحب کا کہنا تھا کہ “تعلیم وہ میراث ہے جو ہمارے بزرگوں نے دی اور ہم نے اسے مزید روشن کر کے آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے”۔ ان کی یہی خوبی ہے کہ انہوں نے خاندانی شان و شوکت کو برقرار رکھتے ہوئے کاروباری فراست اور انسان دوستی کا ایسا حسین امتزاج پیش کیا جس کی مثال خود ان کے بزرگوں کو بھی باعثِ فخر ہے۔ آج ایس بی بی دیوان یونیورسٹی ان کے اس عزم کا زندہ جاویداں ثبوت ہے، اور ان کی زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حقیقی کامیابی وہی ہے جو ورثے کی حفاظت کرتے ہوئے اسے ترقی دے اور معاشرے کی بہبود کا ذریعہ بنے۔


















































































