سید خورشید احمد شاہ ۔۔۔۔۔۔ان کا ذکر کیے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ نامکمل رہے گی

سید خورشید احمد شاہ ۔۔۔۔۔۔ان کا ذکر کیے بغیر پاکستان کی سیاسی تاریخ نامکمل رہے گی

جمہوریت کا علمبردار ،
آئین پاکستان کا محافظ اور وفادار

اہم تفصیلات پر مبنی خصوصی رپورٹ

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

سید خورشید احمد شاہ کی سیاسی کامیابی کا سفر ایک طویل اور پُرزحمت جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ سندھ کے ضلع سکھر میں 1952ء میں پیدا ہونے والے خورشید شاہ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1988ء میں صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے کیا。 اپنی ذہانت اور سیاسی بصیرت کی بدولت وہ جلد ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات کے عہدوں پر کام کرتے ہوئے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

قومی سیاست میں ان کا سفر 1990ء میں شروع ہوا جب وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد وہ مسلسل عوام کی نمائندگی کرتے رہے اور 1993ء میں بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں وفاقی وزیر تعلیم مقرر ہوئے۔ خورشید شاہ نے اپنی عملی سیاست میں عوامی خدمت کو ترجیح دی اور مختلف ادوار میں وزیر مذہبی امور، وزیر محنت و انسانی وسائل جیسے اہم قلمدان سنبھالے۔ ان کا مستقل حلقہ انتخاب سکھر رہا جہاں انہوں نے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا۔

خورشید شاہ کی سیاسی زندگی کا ایک اہم سنگ میل 2013ء میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کا حصول تھا۔ جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو پاکستان پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت تھی اور خورشید شاہ کو پارلیمانی لیڈر منتخب کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں ان کی قابلِ اعتماد شخصیت، مخالف جماعتوں سے ان کے اچھے تعلقات اور مشکل مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاحیت نے انہیں اس عہدے کا حقدار بنایا۔ اپنے پانچ سالہ دور میں انہوں نے مؤثر طریقے سے اپوزیشن کی قیادت کی اور آئینی اداروں میں قائد حزب اختلاف کے کردار کو بحال کیا۔

اپوزیشن لیڈر کے طور پر خورشید شاہ کا کردار انتہائی اہم رہا۔ انہیں احتساب بیورو کے چیئرمین، چیف الیکشن کمشنر اور نگراں وزیراعظم کی تعیناتی جیسے آئینی معاملات میں مشاورت کا حق حاصل تھا۔ انہوں نے اس عہدے کو وقار بخشا اور حکومت کے ساتھ تعمیری کردار ادا کیا، جبکہ اپنی جماعت کے موقف کو مضبوطی سے پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا، جو کہ جمہوری روایت کو فروغ دینے کی ایک مثال تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خورشید شاہ اپنے دور میں سب سے زیادہ اسمبلی اجلاسوں میں شریک ہونے والے قانون سازوں میں سے تھے۔

2018ء کے انتخابات کے بعد جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی تو خورشید شاہ کو عوام نے ایک بار پھر قومی اسمبلی کا رکن منتخب کیا۔ اس بار پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے اتحاد نے انہیں اسپیکر قومی اسمبلی کا مشترکہ امیدوار بنایا، جو ان کی سیاسی اہمیت اور تمام جماعتوں میں ان کی قبولیت کا ثبوت تھا۔ اگرچہ وہ اس عہدے کے لیے منتخب نہ ہو سکے، لیکن ان کی نامزدگی نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا۔ ان کا شمار پیپلز پارٹی کے ان چند رہنماؤں میں ہوتا ہے جو ہر دور میں جماعت کے وفادار اور مشکلوں میں پارٹی کے سہارا رہے ہیں۔

خورشید شاہ کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ان کی سخت گیر سیاسی حکمت عملی اور دوستوں اور مخالفین یکساں طور پر ان کی شخصیت کا احترام کرتے ہیں۔ انہیں اسمبلی میں “مشکل کشا” کے طور پر جانا جاتا تھا، جو ہنگامی حالات میں صورتِ حال کو سنبھال لیتے تھے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد وہ وزیراعظم کے امیدواروں میں بھی شامل تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی میں ان کا مقام کس قدر بلند تھا۔ وہ 2008 سے 2013 تک حکومتی پارٹی کے چیف وہپ بھی رہے اور انہوں نے اپوزیشن کو مطمئن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

آج سید خورشید احمد شاہ پاکستان کی سیاست میں ایک قابل احترام شخصیت ہیں۔ ان کا سیاسی سفر ایک عام کارکن سے قومی سطح کے رہنما تک کا سفر ہے، جو مشکلات اور چیلنجز کے باوجود کامیاب رہا۔ انہوں نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ادوار میں پارٹی کی خدمت کی اور آج بھی وہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کے طور پر متحرک ہیں۔ خورشید شاہ کی زندگی اس بات کی عکاس ہے کہ سیاسی بصیرت، جمہوری اقدار سے وابستگی اور عوام کے ساتھ مضبوط روابط ایک کامیاب سیاستدان کی پہچان ہیں۔