
سکھر حیدرآباد موٹروے کی تازہ صورتحال
وفاق نے کتنے فنڈز دیے ؟

سندھ کی حکومت کیا کہتی ہے کیا چاہتی ہے ؟

کراچی سے پشاور تک موٹروے مکمل ہونے کا خواب پورا ہونے میں مزید کتنا عرصہ لگے گا ؟
اہم تفصیلات پر مبنی خصوصی رپورٹ
**پس منظر اور منصوبے کا تعارف**
سکھر-حیدرآباد موٹروے (ایم-6) پاکستان کے سب سے اہم اور طویل عرصے سے التوا میں پڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ 306 کلومیٹر طویل شاہراہ کراچی سے پشاور تک موٹروے نیٹ ورک کی آخری نامکمل کڑی ہے، جو ملک کی شمال-جنوب رابطہ سڑک کو مکمل کرے گی 。 اس منصوبے کا تصور تقریباً ایک دہائی قبل کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر 2017 میں تعمیر شروع ہونے کی امید تھی، تاہم مالی اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث یہ منصوبہ بارہا ملتوی ہوتا رہا ۔ دسمبر 2022 میں اس کا باقاعدہ افتتاح بھی ہوا تھا، مگر وعدہ کے مطابق 30 ماہ میں تکمیل ممکن نہ ہو سکی ۔
**تاخیر کے اسباب اور مالی مشکلات**
اس منصوبے کی تاخیر کی ایک بڑی وجہ مالی وسائل کی فراہمی میں مشکلات اور لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ 2018 میں جہاں اس منصوبے کی لاگت 175 ارب روپے تھی، وہیں 2022 تک یہ بڑھ کر 309 ارب اور اب 500 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جسے سینیٹ کمیٹی میں “بدانتظامی اور غیر ضروری تاخیر” قرار دیا گیا ۔ حکومت نے اس منصوبے کے لیے مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے رابطہ کیا، تاہم آذربائیجان نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری سے انکار کر دیا ۔ اسی طرح چین نے بھی اسے سی پیک کا حصہ بنانے سے گریز کیا، جبکہ وفاقی حکومت پر یہ الزام بھی لگا کہ اس نے پنجاب میں نئی موٹروے کی تعمیر کو ترجیح دے کر سندھ کے اس اہم منصوبے کو نظر انداز کیا ۔
**منصوبے کی موجودہ صورتحال اور پیش رفت**
تاخیر کے باوجود حالیہ دنوں میں اس منصوبے پر کام میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ اس منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ اسے جلد مکمل کیا جا سکے ۔ تین شمالی حصوں (سیکشن III، IV اور V) کی مالی اعانت اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) اور اوپیک فنڈ نے فراہم کی ہے، جن کے معاہدے طے پا چکے ہیں اور ان پر تعمیراتی کام کا آغاز ہو چکا ہے یا جلد ہوگا ۔ باقی دو حصوں (سیکشن I اور II) کو عوامی-نجی شراکت داری (PPP) کے تحت ترقی دی جائے گی، جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور مشاورتی عمل جاری ہے ۔ وفاقی وزیر مواصلات کے مطابق اس سال اگست یا ستمبر تک عملی تعمیر کا آغاز ہو جائے گا ۔
**منصوبے کی خصوصیات اور متوقع فوائد**
ایم-6 موٹروے چھ لین پر مشتمل ایک باڑ والی جدید شاہراہ ہوگی، جو جدید پلوں، انٹرچینجز اور ذہین ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سے لیس ہوگی ۔ اس کی تکمیل کے بعد حیدرآباد اور سکھر کے درمیان سفر کا وقت موجودہ چھ گھنٹے سے کم ہو کر صرف ڈھائی گھنٹے رہ جائے گا ۔ یہ منصوبہ نہ صرف مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد جیسے اضلاع میں اقتصادی ترقی کا نیا دور بھی آغاز کرے گا ۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ اگلے تین سے چار سال میں مکمل کر لیا جائے گا، جس سے پشاور-کراچی موٹروے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا ۔

ایم-13 کھاریاں تا راولپنڈی موٹروے منصوبے پر پیش رفت جاری
June 27, 2026
اسلام آباد: ایس آئی ایف سی کی مؤثر ادارہ جاتی معاونت سے ایم-13 کھاریاں تا راولپنڈی موٹروے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے، جس کا مقصد محفوظ، جدید اور آسان سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ تیز رفتار اور مؤثر رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
منصوبے کے تحت ایم-13 کو اپ گریڈ کر کے 117.2 کلومیٹر طویل 6 لین موٹروے بنایا جا رہا ہے، جو موجودہ ایم-2 کا تیز، محفوظ اور اسٹریٹجک متبادل ہوگی۔ اس منصوبے سے سفر کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کم ہوگا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے مطابق ایس آئی ایف سی نے تعطل کا شکار ایم-12 سیالکوٹ تا کھاریاں موٹروے منصوبے کی بحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے ایم-11 لاہور تا سیالکوٹ موٹروے کو بھی 4 لین سے بڑھا کر 6 لین کیا جا رہا ہے۔
ایم-11، ایم-12 اور ایم-13 راہداری کی تکمیل کے بعد لاہور اور راولپنڈی کے درمیان 50 سے 60 فیصد ٹریفک ایم-2 سے نئے روٹ پر منتقل ہو جائے گی۔
یہ راہداری لاہور، اسلام آباد، پشاور، سیالکوٹ، افغانستان، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنائے گی۔ منصوبے میں کلر کہار کے مقام پر 3 سرنگیں بھی شامل ہیں، جن سے اس علاقے میں پیش آنے والے حادثات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔


















































































