آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹی شعر و سخن کے زیر اہتمام حمیرا گل تشنہ کے شعری مجموعے ’’رودالی‘‘ کی تقریب رونمائی

*آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹی شعر و سخن کے زیر اہتمام حمیرا گل تشنہ کے شعری مجموعے ’’رودالی‘‘ کی تقریب رونمائی*

*ادب اور مطالعے کا فروغ معاشرے کی فکری ترقی کے لیے ناگزیر ہے،ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی*

*اہل علم و ادب کی صحبت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، شاندار تقریب کے انعقاد پر احمد شاہ کی شکر گزار ہوں ، شاعرہ حمیرا گل تشنہ*

کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹی شعر و سخن کے زیر اہتمام حمیرا گل تشنہ کے شعری مجموعے ’’رودالی‘‘ کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال میں کی گئی جس کی صدارت معروف شاعر و ماہر تعلیم ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کی، جبکہ تقریب سے لیجنڈ اداکار منور سعید،سلمان ثروت، وضاحت نسیم، ناصرہ زبیری، ایڈمن ڈائریکٹر آرٹس کونسل شکیل خان اور حمیرا گل تشنہ نے اظہار خیال کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض خلیل اللہ فاروقی نے انجام دیے۔ خطبہ صدارت میں ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہاکہ گھروں میں کتاب، ادب اور زبان کی روایت فروغ پائے تو نئی ادبی شخصیات جنم لیتی ہیں۔حمیرا گل تشنہ کا ادبی سفر علم و ادب سے وابستگی خاندانی ماحول کا نتیجہ ہے، انہوں نے اپنے فکر و خیال کو خوبصورت انداز میں کتاب کی صورت دی ہے، یہ کتاب صرف ادبی لحاظ سے نہیں بلکہ اپنے معیار، سلیقے اور پیشکش کے اعتبار سے بھی منفرد ہے۔ ادب اور مطالعے کا فروغ معاشرے کی فکری ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ معیاری کتابیں قارئین کی توجہ حاصل کرتی ہیں اور لائبریریوں کا قیمتی سرمایہ بنتی ہیں۔ میں حمیرا گل تشنہ کی کتاب کی شاندار رونمائی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔تقریب میں سنائی گئی دونوں نظمیں نہایت عمدہ اور پختہ تخلیقی اظہار کی حامل تھیں، اب قارئین کو ان کی نظموں کے مجموعے کا بھی انتظار کرنا چاہیے۔ معروف اداکار منور سعید نے کہا کہ حمیرا گل تشنہ کے شعری مجموعے ’’رودالی‘‘ کا سرورق دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے اس پر موجود تصویر خود حمیرا گل تشنہ کی شخصیت کی مکمل عکاسی کررہی ہو۔ اگرچہ حمیرا گل تشنہ ایک بہادر، مضبوط اور بااعتماد خاتون ہیں، تاہم ان کے چہرے پر حساسیت، درد اور جذبات کی ایک منفرد کیفیت بھی جھلکتی ہے۔ سلمان ثروت نے کہا کہ حمیرا گل تشنہ کا تعلق ایک بت شکن قبیلے سے ہے۔ اُنہوں نے معاشرے کی قائم کردہ صنفی درجہ بندی اور روایتی حدود کو توڑتے ہوئے اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی سعی کی ہے، جو یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ حمیرا نے اپنی شاعری میں برابری کی سطح پر بات کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حمیرا کی شاعری میں عورت کسی لاچار، بے بس یا مجبور کردار کے طور پر سامنے نہیں آتی، بلکہ وہ ایک باوقار، خوداعتماد اور بااختیار وجود کے طور پر مردوں کے شانہ بشانہ ہم قدم نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہےاور ان کا کلام عصری شعور، فکری جرأت اور ایک منفرد تخلیقی وژن کی آئینہ دار ہے۔ وضاحت نسیم نے کہا کہ حمیرا گل تشنہ شاعری کا ایک جوہرِ قابل ہیں، جنہوں نے پہلی ہی ملاقات میں اپنی شخصیت اور تخلیقی صلاحیتوں کا گہرا تاثر قائم کیا۔ حمیرا کی شاعری محبت، احساس اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاس ہے، ان کے اشعار زندگی کے گہرے تجربات، مشاہدات اور باطنی کیفیات کی مؤثر ترجمانی کرتے ہیں۔ناصرہ زبیری نے کہا کہ حمیرا گل مٹی کی مہک اور کلاسیکی رنگ سے نا آشنا نہیں، ان کی شاعری میں بغاوت کا جذبہ نظر آتا ہے، حمیرا نے اپنی کتاب میں لجپال سمیت ایسے بہت سے غیر مروجہ الفاظ اپنے اشعار میں شامل کیے ہیں، ان کی کتاب میں زبان کی چاشنی دکھائی دیتی ہے۔ شاعرہ حمیرا گل تشنہ نے ’’رودالی‘‘ کی شاندار تقریب رونمائی پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس ادبی محفل کو یاد گار بنانے میں آرٹس کونسل کا اہم کردار ہے، میں تقریب میں شریک تمام مہمانوں، اہلِ قلم دوست حاضرین کی تہہِ دل سے شکرگزار ہوں کہ ان کی شرکت نے تقریب کی رونق میں بے پناہ اضافہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے منور سعید اور ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی جیسے سینئراہلِ علم و ادب کی صحبت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، جسے وہ اپنے لیے اعزاز اور خوش نصیبی سمجھتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے اپنا منتخب کلام منفرد اور مؤثر انداز میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور بھرپور داد سے نوازا۔ آرٹس کونسل کے ایڈمن ڈائریکٹر شکیل خان نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں اہلِ ادب اور شائقین کی موجودگی اس تقریب کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ حمیرا گل تشنہ کے شعری مجموعے ’’رودالی‘‘ کی تقریبِ رونمائی کے لیے آرٹس کونسل کا انتخاب اعزاز کی بات ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا بنیادی مقصد ادب، فن، ثقافت اور کتاب کے فروغ کے لیے مسلسل کام کرنا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جاتا ہے اور اہلِ قلم و ادب کو بار بار مدعو کیا جاتا ہے تاکہ تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ ہر ادیب، شاعر اور مصنف کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے لیے آرٹس کونسل کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔