کینیڈا میں منہ پر چمگادڑ کے بیٹھنے سے 11 سالہ بچہ ہائڈرو فوبیا سے ہلاک ہوگیا جبکہ کاٹنے کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔
کینیڈا کے شمالی علاقے اونٹاریو میں 11 سالہ لڑکا اس وقت ریبیز سے کا شکار ہوکر ہلاک ہوگیا جب وہ صبح چمگادڑ اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی تھی۔
کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہونے والا یہ کیس 1967 کے بعد سے اس صوبے میں مقامی طور پر منتقل ہونے والی ریبیز سے پہلی موت ہے۔
جسم پر کاٹنے یا کھرچنے کا کوئی ظاہری نشان موجود نہیں تھا، لڑکنے چمگادڑ کو جھٹک کر اڑا دیا اور والد نے اسے باہر چھوڑ دیا چونکہ بچہ بظاہر ٹھیک لگ رہا تھا اس لیے والدین نے طبی امداد حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
تقریباً 19 دن بعد اس کے چہرے پر بے حسی، الٹیاں اور درد شروع ہو گیا اور حالت تیزی سے بگڑتی چلی گئی، زبان کا لڑکھڑانا، بخار، نگلنے میں دشواری، الجھن اور نظر کا دھوکا ہونا شروع ہوگیا۔
پیڈیاٹرک آئی سی یو کے ڈاکٹروں نے چمگادڑ کے بیٹھنے پر اور اعصابی علامات کی بنیاد پر فوراً ریبیز کا شبہ ظاہر کیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی، اسپتال میں داخل ہونے کے 17ویں دن وینٹی لیٹر ہٹائے جانے کے بعد وہ انتقال کر گیا۔
علامات شروع ہونے کے بعد ریبیز کا مرض تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے اور دنیا بھر میں اب تک اس سے بچ جانے والے افراد کی تعداد 35 سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے، شمالی امریکا میں ریبیز کی سب سے بڑی وجہ چمگادڑ ہیں کیونکہ ان کے کاٹنے کا نشان اتنا چھوٹا ہو سکتا ہے کہ وہ نظر ہی نہ آئے۔
ڈاکٹروں کی وارننگ: چمگادڑ کے ساتھ انسان کا کوئی بھی براہ راست رابطہ، خواہ کاٹنے یا کھرچنے کا کوئی ظاہری نشان موجود نہ بھی ہو، پی ای پی (پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسس) کی علامت ہے۔ پی ای پی ویکسین کا ایک سلسلہ ہے جو علامات ظاہر ہونے سے پہلے دیا جاتا ہے اور یہ موت سے بچاتا ہے۔
لڑکے کے خاندان نے بیداری پیدا کرنے کے لیے اس کیس کو عوامی سطح پر شیئر کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز کا کوئی علاج نہیں ہے، صرف بچاؤ ہی تحفظ ہے۔
چمگادڑ سے محض رابطہ ہی پبلک ہیلتھ (محکمہ صحت) سے رابطہ کرنے کے لیے کافی ہے خواہ کوئی زخم نہ بھی ہو۔
یہ 1967 کے بعد سے اونٹاریو میں ریبیز سے ہونے والی پہلی موت ہے۔


















































































