
متاثرہ بچوں اور خاندان کی ہر ممکن مدد کی جائے گئی، ہم انھیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گئے, وزیر محنت سعید غنی
غفلت و کوتاہی کے ذمہ داروں کو سزائیں دیں گئے کسی کو نہیں بخشا جائے گا، وزیر محنت
یہ اتنا چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، یہ انتہائی حساس اور سنگین مسئلہ ہے، متاثرہ خاندانوں کو سپورٹ کرنے کے لیے جو کچھ ہمیں کرنا پڑا ہم کریں گئے
(کراچی)۔ صوبائی وزیر محنت و سماجی تحفظ اور چیئرمین گورننگ باڈی سیسی سعید غنی نے سوشل سیکورٹی کے کلثوم ولیکا بائی ولیکا اسپتال، سائیٹ کراچی میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کے کیسز کے حوالے سے صحافیوں کو بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت حساس اور سنگین مسئلہ ہے
انہوں نے کہا کہ جب میں نے 27 ستمبر 2025 کو وزیرِ محنت کا قلمدان سنبھالا تو اکتوبر کے آخری ہفتہ میں، شاید 27 یا 28 اکتوبر کو میرے علم میں یہ بات آئی کہ کچھ ایسے کیسوں کی نشاندھی ہوئی ہے جن میں ایچ آئی وی مثبت آیا ہے۔ اس وقت نہ تو اخبار میں کوئی خبر تھی اور نہ ہی میڈیا میں کوئی خبر آئی تھی
میں نے اسی روز سندھ سوشل میں افسران کا ایک اجلاس طلب کیا، تمام کیسسز کی تفصیلات حاصل کیں اور معاملے کی فوری تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ تحقیقات کر کے اپنی مکمل رپورٹ جلد از جلد پیش کرئے، انکوائری کمیٹی 29 اکتوبر 2025 کو قائم کی گئی، بعدازاں انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں بہت سے افسران کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں انھیں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے کچھ لوگوں کو معطل بھی کیا گیا
اس درمیاں نومبر کے پہلے ہفتہ میں کچھ افراد نے صوبائی محتسب اعلی سے رجوع کیا اور وہاں درخواست دی۔ صوبائی محتسب اعلی نے ہدایت جاری کیں کہ آپ مزید تحقیقات کروائیں اور ایک اور انکوائری کروائیں، ہم نے ایک دوسری انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ اسی دوران کچھ لوگوں نے سندھ ہائی کورٹ میں بھی کیس دائر کردیا اس دوران صوبائی محتسب کے پاس بھی یہ کیس چلتا رہا
میں ایک بات یقین سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ جب ہم نے 28 یا 29 اکتوبر کو جب ہم نے انکوائری کمیٹی بنائی، اس کے بعد نئے کیسسز نہیں ہوئے ہیں، جو مثبت کیسز سامنے آرہے ہیں، یہ وہ ہیں جو پہلے سے متاثر تھے اب اسکینگ کے نتیجہ میں سامنے آرہے ہیں
اس وقت ہم متاثرہ افراد کی حتمی تعداد نہیں بتا سکتے کیونکہ مکمل اسکریننگ کے عمل کے بعد ہی اصل تعداد سامنے آئے گی۔
ہمیں موصول ہونے والی تازہ ترین انکوائری رپورٹ کے مطابق اب تک 78 متاثرہ بچوں کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔ بہت سے خاندانوں سے انکوائری کمیٹی نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کچھ لوگ خود سامنے نہیں آئے۔ ہم ان کی مشکلات کو سمجھتے ہیں اور انہیں مجبور نہیں کر سکتے، تاہم ہم ہرممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ان تک پہنچ کر تمام ضروری معلومات حاصل کی جائیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ، چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، اور جن لوگوں کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی، چاہیے وہ ڈاکٹر ہوں، اسپتال کا کوئی عملہ یا کوئی افسر، کسی کو نہیں بخشا جائے گا
انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے کسی نے جان بوجھ کر تو یہ نہیں کیا ہوگا، لیکن کسی نہ کسی سے تو غفلت یا کوتاہی ہوئی ہوگئی، ہم ان کے خلاف سخت کاروائی کریں گئے
انکوائری کمیٹی نے ہمیں کچھ سفارشات دیں ہیں کہ کن لوگوں کے خلاف مس کنڈیکٹ کے تحت کاروائی کی جائے ہم اس کے تحت کاروائی کریں گئے یہ اس کا ایک پہلو ہے
دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ جو بچے متاثر ہیں، جو خاندان متاثر ہیں، ان کا ہم نے کیا کرنا ہے، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کمپنسیشن ایک چھوٹا لفظ ہے، یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے کہ ہم صرف کمپنسیشن دیں،
انھوں نے کہا کہ ہمیں جو جو کچھ کرنا پڑا، ہمیں جتنا خرچہ کرنا پڑا، ان بچوں کے علاج کے پر، ہم کریں گئے اور یہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کرئے گا
ان متاثرہ خاندانوں کو سپورٹ کرنے کے لیے ہمیں جو کرنا پڑا ہم کریں گئے، ہم انہیں کسی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گئے
اور میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ان متاثرہ بچوں کے خاندان ہم سے جو امید کررہے ہوں گئے ، ہم انشاء اللہ اس سے زیادہ کر کے دیکھائیں گئے، ہم ان بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گئے، ہم ان کے ساتھ ہیں، ساتھ کھڑے رہیں گئے
انھوں نے آخر میں اس بات کو پھر دوہرایا کہ ہم اس غفلت و کوتائی کے اس اصل ذمہ داران کا تعین کریں گئے اور اس کے ذمہ داروں کو سزائیں بھی دیں گئے
جو بچے متاثر ہیں جو خاندان متاثر ہیں، ان کی ہر طرح سے ہر ممکن مدد کی جائے گئی


















































































