فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارتکاری سے ایران۔امریکہ کشیدگی میں کمی، ڈاکٹر عشرت العباد خان

ایران کے ساتھ گیس، پیٹرولیم اور توانائی معاہدوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے

عوام کو سستی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کر کے مہنگائی سے نجات دلائی جائے

کراچی میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، ایل این جی کی دستیابی کے بعد کوئی جواز باقی نہیں رہا

بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ مل سکا، اب حکومت فوری ریلیف پیکج دے

اسرائیلی انتہاپسندی اور خطے میں جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کردار ادا کرے

توانائی بحران کے خاتمے سے صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا

کراچی (MPP میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر)

سابق گورنر سندھ، نشانِ امتیاز، روحِ رواں میری پہچان پاکستان (MPP) ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارتی کوششوں اور مؤثر کردار کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس سازگار ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ گیس، پیٹرولیم مصنوعات، توانائی اور تجارتی شعبوں میں طے شدہ معاہدوں پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے تاکہ عوام کو سستی توانائی میسر آسکے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کی جاسکیں۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ اسرائیلی انتہاپسندی اور خطے میں جاری تنازعات کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ جنگوں اور کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان عام عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور یوٹیلیٹی بلوں کے بوجھ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ اگر علاقائی حالات بہتر ہو رہے ہیں اور توانائی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں تو ان کے ثمرات بھی براہ راست عوام تک پہنچنے چاہئیں۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مطالبہ کیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں گیس لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے۔ ایل این جی کی درآمد اور توانائی کی فراہمی میں بہتری کے بعد شہریوں، صنعتوں، ہوٹلوں اور چھوٹے کاروباروں کو گیس سے محروم رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں کمی، بجلی کے نرخوں میں ریلیف، روزگار کے نئے مواقع، صنعتوں کے فروغ اور عوام دوست معاشی پالیسیوں کے ذریعے عوام کو حقیقی سہولتیں فراہم کرے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی اور معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔

================================

تحریر: عامرعلی بانواز

ڈاکٹر عشرت العباد خان

بصیرت، وقار اور خدمتِ خلق کی روشن مثال

ڈاکٹر عشرت العباد خان پاکستان کی سیاسی و سماجی تاریخ کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہیں تدبر، شائستگی، اعتدال پسندی اور ترقی پسند سوچ کے حوالے سے خاص مقام حاصل ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے منصب کی ذمہ داریاں وقار اور دانشمندی کے ساتھ نبھائیں بلکہ عوامی خدمت، قومی ہم آہنگی اور فلاحی سوچ کو بھی ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان کی شخصیت میں بردباری، معاملہ فہمی اور مثبت سوچ نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو اختلافی حالات میں بھی تحمل، سنجیدگی اور دانش کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی سیاسی بصیرت اور انتظامی فہم نے انہیں ایک ایسے مدبر رہنما کے طور پر متعارف کرایا جو صرف وقتی فیصلوں پر نہیں بلکہ دیرپا نتائج اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر سوچتے ہیں۔
اہمیت حاصل ہے۔ ان کے دور میں کراچی اور سندھ کے عوام نے انتظامی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور ترقیاتی سوچ کی جھلک دیکھی۔ انہوں نے مختلف طبقات کے درمیان رابطے، مفاہمت اور باہمی احترام کی فضا کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں عوامی مسائل کو سمجھنے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور فلاحی کاموں کو آگے بڑھانے کی کوششیں نمایاں رہیں۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی انسان دوستی اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی ہے۔ وہ معاشرے کے محروم اور ضرورت مند طبقات کے مسائل سے آگاہ رہنے اور ان کے لیے عملی اقدامات کی اہمیت کو سمجھنے والے رہنما ہیں۔ ان کی گفتگو، طرزِ عمل اور سیاسی رویّے میں شائستگی اور سنجیدگی کا جو امتزاج دکھائی دیتا ہے، وہ انہیں دیگر شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان ایک ایسے باوقار، مدبر اور ترقی پسند رہنما ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک مثبت اور قابلِ احترام شناخت قائم کی۔ ان کی شخصیت نوجوان نسل کے لیے اس بات کی مثال ہے کہ قیادت صرف اختیار کا نام نہیں بلکہ دانش، تحمل، خدمت اور قومی ذمہ داری کے احساس کا نام بھی ہے۔

ختم شد