
چوہدری نثار علی خان ۔۔۔۔۔گمنامی میں کیوں چلے گئے ؟ نواز شریف سے فاصلے اور دوریاں کب اور کیوں پیدا ہوئیں ؟
کیا وہ خود کو وزیر اعظم کا اگلاحقدار سمجھتے تھے ؟

عمران خان کے دھرنے میں ان کا کردار کتنا شفاف تھا ؟

شہباز شریف سے ان کی دوستی برقرار ہے لیکن مسلم لیگ نون سے راستے جدا کیوں ؟

اہم تفصیلات پر مبنی خصوصی رپورٹ
چودھری نثار علی خان کا سیاسی عروج اور زوال پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ ان کا تعلق ضلع راولپنڈی کے گاؤں چکری کی معروف الپیال راجپوت فوجی گھرانے سے تھا، جہاں ان کے والد بریگیڈیئر اور بھائی لیفٹیننٹ جنرل رہ چکے تھے ۔ اس پس منظر نے ان کی شخصیت کو ایک خاص نظم و ضبط اور خودداری عطا کی، جس کا اثر ان کی پوری سیاسی زندگی پر رہا۔ اچیسن کالج اور آرمی برن ہال کالج جیسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے 1980 کی دہائی میں ضلعی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا اور 1985 میں پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔
نثار علی خان کا سیاسی عروج کا سفر 1988 سے 2017 تک جاری رہا، جس میں انہوں نے مسلسل آٹھ مرتبہ قومی اسمبلی میں راولپنڈی کی نمائندگی کی۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے بانی رہنماوں میں شمار ہوتے تھے اور نواز شریف کے پہلی اور دوسری حکومت میں وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل جیسے اہم قلمدان سنبھالے ۔ 2008 میں جب مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو نثار کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا، اور 2013 میں نواز شریف کی تیسری حکومت میں وہ ملک کے وزیر داخلہ بنے ۔ اس عرصے میں وہ اپنی ذہانت، سیاسی بصیرت اور انتظامی مہارت کی وجہ سے ایک مضبوط اور بااثر شخصیت کے طور پر ابھرے، اور کراچی میں رینجرز آپریشن جیسے فیصلہ کن اقدامات کی وجہ سے شہرت حاصل کی ۔
تاہم، یہ عروج کا دور جلد ہی زوال میں بدل گیا جب نثار علی خان اور ان کے سیاسی ساتھیوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگے۔ 2017 میں پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد جب نواز شریف کو نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو نثار نے شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں شمولیت سے انکار کر دیا، جس سے ان کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کا اہم موڑ تھا، کیونکہ انہوں نے اپنی پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی اور 2018 کے انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے ۔ اس فیصلے نے انہیں پارٹی کی مضبوط مشینری اور ووٹ بینک سے محروم کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر شکست سے دوچار ہوئے ۔
اس شکست کے باوجود نثار علی خان نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست جیت لی، مگر انہوں نے تقریباً تین سال تک حلف نہ اٹھایا، جس پر شدید تنقید بھی ہوئی ۔ 2021 میں جب انہوں نے حلف اٹھایا تو یہ عمل ان کی پچھلی سیاسی اہمیت اور اثر و رسوخ کی نسبت کمزور پوزیشن کی عکاسی کرتا تھا ۔ اس عرصے کے دوران وہ سیاسی تنہائی کا شکار رہے اور ان کی ایک زمانے کی مضبوست پکڑ ختم ہوتی نظر آئی۔ 2024 کے عام انتخابات میں یہ زوال اپنے انتہا کو پہنچا، جب انہیں اپنے حلقے NA-54 میں صرف 19,993 ووٹ ملے اور وہ تیسرے یا چوتھے نمبر پر رہے – یہ پچھلی چار دہائیوں میں پہلا موقع تھا کہ وہ کسی بھی نشست پر دوسرے نمبر تک بھی نہ آ سکے ۔
نثار علی خان کے زوال کی چند اہم وجوہات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑی وجہ ان کا اپنے ہی سیاسی گھرانے یعنی مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی کا فیصلہ تھا، جس نے انہیں ایک مضبوط پارٹی کے پلیٹ فارم سے محروم کر دیا ۔ دوسری طرف، ان کی ضدی اور خودمختار طبیعت، جو کبھی ان کی شناخت تھی، بعد میں ایک بوجھ بن گئی۔ انہوں نے کئی اہم سیاسی مواقع کو ٹھکرا دیا، جن میں عمران خان کی طرف سے پی ٹی آئی میں شمولیت کی پیشکش بھی شامل ہے ۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق، ان کی شخصیت میں “فوجی نظم و ضبط، حساس مزاج اور مبالغہ آمیز انا” نے انہیں ایک منفرد تو بنایا، مگر سیاسی اتحاد سازی کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کیں ۔
ان کے زوال میں ان کے دور وزارت داخلہ کے کچھ متنازعہ فیصلوں نے بھی کردار ادا کیا۔ کراچی میں رینجرز آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے مفادات کو ٹھیس پہنچی، جس کے باعث انہوں نے کئی اہم سیاسی حلقوں کو اپنے خلاف کر لیا ۔ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکامی اور اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ میں تاخیر جیسے الزامات نے بھی ان کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ۔ اس کے علاوہ، پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا معاملہ بھی ان کے خلاف تنقید کا باعث بنا ۔
آج چودھری نثار علی خان کی سیاسی زندگی کا انجام ایک سبق آموز مثال ہے کہ کس طرح ایک با صلاحیت اور تجربہ کار سیاستدان اپنے فیصلوں، اپنی انا اور سیاسی حکمت عملی میں غلطیوں کا شکار ہو کر عروج سے زوال تک جا پہنچتا ہے۔ ایک ایسے سیاستدان جو کبھی وزیر داخلہ اور قائد حزب اختلاف جیسے عہدوں پر فائز تھے، انہیں 2024 میں اپنے گڑھ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ زوال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں پارٹی نظم و ضبط اور اتحاد سازی کی اہمیت کتنی ضروری ہے، اور کس طرح ایک مضبوط فرد بھی اپنے سیاسی گھرانے اور عوامی اعتماد سے دور ہو کر بے اثر ہو سکتا ہے ۔


















































































