وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کے کامیاب سیاسی سفر کی کہانی

وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کے کامیاب سیاسی سفر کی کہانی

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

انہوں نے جرات ہمت اور بہادری کی نئی مثالیں قائم کیں ۔
پاکستان دشمن قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ۔

انہوں نے دشمن کے دانت کھٹے کیے اور پاکستان کے خلاف سازشوں کو نہ صرف بے نقاب کیا بلکہ انہیں ناکام بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ۔

وطن کے لیے ان کے جذبے اور وفا کو سلام ۔
خصوصی رپورٹ

وزیراعلیٰ بلوچستان کی دشت میں شہید کراچی کے تاجر کی رہائش گاہ آمد، اہلخانہ سے تعزیت
01 جولائی ، 2026


کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے ، ایک انچ ایسا نہیں جہاں ریاست کی رٹ نہ ہو،دشت میں شہید کراچی کے تاجر علی مرتضیٰ جمیل کی رہائش گاہ آمد کے موقع پر اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کے بعدمیڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئےمرتضیٰ جمیل کوپاکستان کا شہید قراردیتے ہوئے حکومت بلوچستان کی جانب سے شہید کےبچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کااعلان کیا۔


اسلام آباد، 28 جون 2026
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کو یہاں اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان کی امن و امان کی موجودہ صورتحال اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جاری اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں امن، استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے عزم سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے ملکی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور بلوچستان میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
===================

اسلام آباد، 27 جون 2026
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ہفتہ کو اسلام آباد میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر شعیب اختر کی رہائش گاہ گئے اور ان سے ان کے بڑے بھائی شاہد اختر کے انتقال پر دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مرحوم شاہد اختر کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں


جگہ نصیب کرے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندان، بالخصوص شعیب اختر کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کسی عزیز کی جدائی ایک بڑا انسانی المیہ ہے اور ایسے غم کی گھڑی میں متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑا ہونا ہماری قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں شعیب اختر اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔


وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابل جان ریسٹورنٹ کے مالک محمد ہاشم نورزئی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لے لیا

کوئٹہ، 27 جون 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کابل جان ریسٹورنٹ کے مالک محمد ہاشم نورزئی کے قتل کے افسوسناک واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکومت بلوچستان نے واقعہ کی شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے مقدمہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سپرد کر دیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس پی رینک آفیسر تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کریں گے اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مقتول محمد ہاشم نورزئی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے

کہ اس سنگین واقعہ میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا اور تمام ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔شاہد رند نے بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی ملک نعیم بازئی اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ احتجاج کرنے والے لواحقین کے ساتھ موجود ہیں اور حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان نے

کہا کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ حکومت بلوچستان شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور کسی بھی مجرم یا قانون شکن عنصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کے مطابق تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔
=================

ریاست کی رٹ کے محافظ کامران نواز پنجوتھا اور نصیر آباد میں امن کا نیا عزم

تحریر، دھنی بخش مگسی

بلوچستان اس وقت دہشت گردی، تخریب کاری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے واضح اور دوٹوک بیانیے کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ ریاست کی عملداری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور عوام کے امن کو یرغمال بنانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور میرٹ پر اہل افسران کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ نصیر آباد رینج میں پاکستان پولیس سروس کے قابل، دیانت دار اور نڈر افسر ایس ایس پی کامران نواز پنجوتھا کی بطور ڈی آئی جی تعیناتی بھی اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے کامران نواز پنجوتھا ان پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے پورے کیریئر میں قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور حکومتی رٹ کے قیام کو ہمیشہ اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ثابت کیا کہ ایک پیشہ ور پولیس افسر کی اصل طاقت اس کی دیانت، جرات اور عوامی خدمت کا جذبہ ہوتی ہے۔ بطور ایس ایس پی جعفرآباد ان کی کارکردگی آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ انہوں نے جرائم پیشہ عناصر اور ڈاکوؤں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے نہ صرف امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ پولیس فورس کا مورال بلند کیا، پولیس انفراسٹرکچر میں بہتری لائی اور عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی۔ ان کے دور میں مظلوم کو انصاف ملا، کمزور کو تحفظ ملا اور قانون شکن عناصر کو یہ احساس ہوا کہ ریاست موجود ہے اور اپنا اختیار استعمال کرنا جانتی ہے۔ کامران نواز پنجوتھا اس سے قبل پنجاب کے ضلع چکوال اور سندھ کے اضلاع شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، میرپورخاص اور گھوٹکی میں بھی بطور ایس ایس پی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان تمام اضلاع میں جرائم کے خلاف ان کی مؤثر حکمت عملی، بہترین انتظامی صلاحیتوں اور عوام دوست طرزِ عمل کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی انہوں نے خدمات انجام دیں وہاں کے عوام نے انہیں عزت، اعتماد اور محبت سے نوازا۔ نصیر آباد ڈویژن بلوچستان کا ایک اہم اور زرخیز خطہ ہے، جس میں جعفرآباد، صحبت پور، اوستہ محمد، نصیر آباد، جھل مگسی اور کچھی شامل ہیں۔ یہ خطہ نہ صرف زرعی لحاظ سے اہم ہے بلکہ قومی شاہراہ کی وجہ سے تجارتی اور سفری اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماضی میں بولان قومی شاہراہ پر دہشت گردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے جبکہ نوتال سے لمجی تک ڈاکوؤں کی سرگرمیوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔ مسافروں کے لیے اس شاہراہ پر سفر خوف اور بے یقینی کی علامت بنتا جا رہا تھا۔ ڈی آئی جی کا چارج سنبھالتے ہی کامران نواز پنجوتھا نے زمینی حقائق کا جائزہ لیا اور قومی شاہراہ پر پولیس پکٹنگ کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے ایسی حکمت عملی ترتیب دی جس کے تحت جرائم پیشہ عناصر کی شاہراہ تک رسائی کو محدود کیا جا سکے، جبکہ کسی بھی ممکنہ واردات کی صورت میں فوری اور مؤثر پولیس ردعمل کو یقینی بنایا جائے۔ اگر یہ منصوبہ اسی عزم کے ساتھ جاری رہا تو قومی شاہراہ پر امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آنا یقینی ہے۔ دوسری جانب کچھی اور جھل مگسی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران پولیس چوکیوں اور تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم بلوچستان پولیس کے بہادر جوانوں نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان حملوں کو ناکام بنایا اور دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ کامران نواز پنجوتھا نے ان حساس اضلاع کے فوری دورے کر کے نہ صرف سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا بلکہ پولیس افسران اور جوانوں کا حوصلہ بھی بلند کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی بارہا اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی جنگ نہیں بلکہ ریاست کی رٹ، عوام کے اعتماد اور اداروں کی مضبوطی کی جنگ ہے۔ ان کا واضح مؤقف ہے کہ بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں ہوگی۔ ریاست دشمن عناصر، دہشت گرد، ان کے سہولت کار اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ یہی وژن آج بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ حکمت عملی میں بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ کامران نواز پنجوتھا نے ماتحت پولیس اہلکاروں کے مسائل کے حل کے لیے ہفتے میں دو روز اردلی روم کے لیے مختص کیے ہیں تاکہ فورس کے مسائل بروقت حل ہوں، ان کا مورال بلند رہے اور وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ ایک مضبوط اور باحوصلہ پولیس فورس ہی دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر دفاع ثابت ہو سکتی ہے جعفرآباد، نصیر آباد، اوستہ محمد، کچھی اور جھل مگسی میں سرگرم مقامی جرائم پیشہ گروہوں کو سندھ کے سرحدی اضلاع میں موجود ڈاکوؤں کی معاونت بھی حاصل رہی ہے، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائیاں ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ تاہم کامران نواز پنجوتھا کی اولین ترجیح انہی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا اور عوام کو مستقل تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر رائے صوبے میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور ریاستی عملداری کے فروغ کے لیے ایک واضح وژن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ نصیر آباد رینج میں کامران نواز پنجوتھا کی تعیناتی بھی اسی وژن کی عملی شکل ہے، جس کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں نمایاں ہوں گے۔ عوام کی توقعات بجا طور پر اس نئی قیادت سے وابستہ ہیں۔ اگر انہیں اسی طرح حکومتی اعتماد، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی حمایت حاصل رہی تو وہ نہ صرف دہشت گردی اور جرائم کے خلاف ایک مؤثر مثال قائم کریں گے بلکہ نصیر آباد ڈویژن کو امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کی ایک نئی علامت بنا دیں گے۔ یقیناً کامران نواز پنجوتھا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، دیانت داری اور جرات مندی سے بلوچستان پولیس کی تاریخ میں ایسی خدمات انجام دیں گے جن پر نہ صرف نصیر آباد بلکہ پورا بلوچستان فخر کرے گا۔
=================

کراچی، وزیراعلیٰ ہاوس، 27 جون 2026

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا بلوچستان میں فتۃ الہندستان دہشتگردوں کیخلاف کارروائیوں کا خیرمقدم

وزیراعلیٰ سندھ کا خاران اور مستونگ میں 8 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

ارضِ پاک میں فتنہ پھیلانے والوں کیلیے کوئی جگہ نہیں ہے، وزیراعلیٰ سندھ

سیکیورٹی فورسز ملک میں امن قائم کرنے کے مشن پر ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

پوری قوم سیکیورٹی فورسز کی شجاعت کو سلام پیش کرتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ