منشیات کے سوداگر ۔۔۔۔۔دنیا بھر میں پھیلا ہوا نیٹ ورک ۔ پاکستان اور دیگر ممالک میں روزانہ نئے لوگ نشانہ بنتے ہیں ۔

منشیات کے سوداگر ۔۔۔۔۔دنیا بھر میں پھیلا ہوا نیٹ ورک ۔
پاکستان اور دیگر ممالک میں روزانہ نئے لوگ نشانہ بنتے ہیں ۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں بے شمار نوجوان اپنی زندگی تباہ کر چکے ، ایک پنکی پکڑی گئی ہے لیکن ابھی کئی منشیات کے سوداگر آزاد ہیں ؟
یہ سلسلہ کب کیسے کہاں جا کر رکے گا ؟
حکومت کی جانب سے سخت ترین ایکشن کی ضرورت ہے ۔

خصوصی رپورٹ

**پاکستان میں خاص طور پر نوجوانوں میں آئس (کرسٹل میتھ) کے استعمال کا مسئلہ انتہائی سنگین اور تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔** یہ مہنگا اور انتہائی نشہ آور منشیات نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو تیزی سے تباہ کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ذہنی امراض، جارحیت اور خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وبا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ نوجوانوں کو معاشرے کا فعال حصہ بننے سے قبل ہی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جس سے پورے ایک ممکنہ اور توانا طبقے کا مستقبل تاریک ہو کر رہ گیا ہے۔

**اس صورتحال کے پیدا ہونے کی بنیادی وجوہات میں بے روزگاری، معاشی مشکلات، اور جدید طرز زندگی کا دباؤ شامل ہیں، جبکہ اس کے پھیلاؤ میں آسانی سے دستیابی اور موثر روک تھام کے طریقہ کار کا فقدان بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔** بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مستقبل کی بے یقینی نے بہت سے نوجوانوں کو ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے، اور وہ اس حقیقت سے بچنے کے لیے اس تباہ کن منشیات کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں افغانستان سے آنے والی منشیات کی ترسیل کے راستے اور مقامی سطح پر اس کی تیاری نے آئس کو ہر طبقے میں پہنچا دیا ہے، جس کی روک تھام کے لیے موجودہ ادارے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی موثر اور مربوط حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

**اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قومی پالیسی کی اشد ضرورت ہے جس میں طبی علاج، نفسیاتی معاونت، اور سماجی بیداری کو یکجا کیا جائے، تاکہ نوجوانوں کو اس تباہ کن لت سے نکالا جا سکے۔** والدین، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنا ہوگا اور انہیں اس کے مہلک اثرات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اس المیے کو صرف پولیس کارروائی سے نہیں روکا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی، نوجوانوں کے لیے متبادل مشاغل کی فراہمی، اور انہیں ایک قابل عمل اور روشن مستقبل کی پیشکش کرنا ہی واحد مؤثر حل ہے۔
====================

آن لائن منشیات فروشی میں ملوث ملزم گرفتار
03 جولائی ، 2026
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایس آئی یو پولیس نے مبینہ طور پر آن لائن منشیات فروشی میں ملوث ملزم فیصل اشفاق کو گرفتارکرکے105 گرام آئس برآمد کرلی۔
===============

ویڈ منشیات فروخت کرنے کا الزام ثابت ، 2ملزمان کو عمر قید
21 جون ، 2026
کراچی -ا نسداد منشیات کورٹ نے ویڈ منشیات فروخت کرنے کا الزام ثابت ہونے پر 2 ملزمان نعمان خالق اور شاہد علی کو عمر قید کی سزاسنا دی ۔نعمان خالق کو 25 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ، شاہد علی کو 23 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی،جرمانہ ادا نہ کرنے پر دونوں ملزمان کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔ شریک ملزمان آصف اور راحت کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا۔
=================

خانیوال:مبینہ پولیس مقابلہ منشیات فروش زخمی حالت میں گرفتار
خانیوال:مبینہ پولیس مقابلہ منشیات فروش زخمی حالت میں گرفتار
خانیوال – تھانہ کہنہ خانیوال کے علاقے حیات پور مائنر میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ایک سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔۔۔

جبکہ اس کے دو ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے ۔پولیس کے مطابق تھانہ کہنہ کی پولیس پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار تین مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ اس دوران ملزمان نے مبینہ طور پر پولیس پر فائرنگ کر دی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزمان کی اپنی فائرنگ سے ان کا ایک ساتھی زخمی ہو گیا، جسے گرفتار کر لیا گیا۔
==============
5 خواتین سمیت 11ملزمان گرفتار، منشیات برآمد
20 جون ، 2026
کراچی( اسٹاف رپورٹر)اے این ایف نے مختلف کارروائیوں کےدوران 5خواتین سمیت 11ملزمان کو گرفتار کر کے منشیات برآمد کر لی۔اینٹینارکوٹکس فورس کے مطابق علامہ اقبال ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والے مرد اور 3 خواتین کے بیگ میں موجود کپڑوں میں جزب 19.66 کلوگرام آئس برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ علامہ اقبال ایئرپورٹ پر ایک اور کارروائی میں سعودی عرب جانے والے مرد اور عورت کے بیگ میں موجود کپڑوں میں جزب 11.502 کلو آئس برآمد کی گئی۔شب قدر ڈسٹرکٹ چارسدہ کے قریب رکشہ سے 8.4 کلوگرام چرس برآمد کر لی گئی ۔علامہ اقبال ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والے مرد کے پیٹ سے 580 گرام وزنی 108 آئس بھرے اور عورت کے پیٹ سے 227 گرام وزنی 70 ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد کیے گئے۔ ملتان ایئرپورٹ پر دبئی جانے والے مسافر کے پیٹ سے 558 گرام وزنی 84 ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔جناح ایئرپورٹ پر واقع کارگو شیڈ میں سعودی عرب جانے والے پارسل سے بکرم شیٹ میں جذب 650 گرام آئس برآمد کی گئی۔ سیالکوٹ میں واقع کارگو شیڈ میں اسپیکر میں چھپائی 1.2 کلوگرام چرس برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔کارروائیوں کا انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
=============

19 جون ، 2026
طارق روڈ کرتا گلی میں واقع رہائشی عمارت کے فلیٹ سے33سالہ مجتبی ٰ ولد شاہد کی لاش ملی ، موت سر پر گولی لگنے کے باعث ہوئی ، پولیس کے مطابق متوفی کو نشہ کی لت لگ گئی تھی جس کے باعث اہلیہ ناراض ہوکر میکے چلی گئی ، کاروباری معاملات بھی خراب تھے،بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ متوفی نے پریشانیوں سے تنگ آکر اپنی لائسنس یافتہ پستول سے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا
==============

انمول پنکی کے 30بینک اکاونٹس کے بڑے مالیاتی نیٹ ورک کا سراغ
19 جون ، 2026
کراچی (افضل ندیم ڈوگر )وفاقی ادارے نے کوکین کوئین انمول عرف پنکی کے30بینک اکاونٹس کے ذریعے بڑے مالیاتی نیٹ ورک کا سراغ لگا لیاہے۔ انمول پنکی نیٹ ورک سے غیرملکی خواتین کو بھی بھاری رقوم منتقل کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق مالیاتی نیٹ ورک سے 2020 سے رقومات کی 2026 تک منتقل کی گئیں۔ پنکی اور گروپ کے زیر استعمال 30 بینک اکاونٹس سے بھاری رقومات کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ ذرائع کے مطابق محمد سمیر کا کردار مختلف پرنسپل اکاونٹس سے رقم وصول کرنے اور دیگر کو منتقل کرنے کا تھا۔ اکاونٹس ٹرانزیکشنز کیلئے مختلف بینک اکاونٹس ملزمان کے نام سے آپریٹ کئے جاتے رہے۔ فیاض کمیونی کیشنز ذیشان الرحمان، فیاض الرحمان، سہیل الرحمان اور محمد سمیر کے درمیان فنڈز ٹرانسفرکا ایک منظم ذریعہ رہا۔ فیاض کے ذریعے9 ملین سے زائد کی رقم پرمبنی 105 ٹرانزیکشنز سمیرنامی ملزم کو کی گئیں۔ فیاض کے ذریعے سے حمیرا، بیسل ایمیکا اور اوچوبا چیک چنوبا نامی غیرملکی خواتین کو بھی فنڈز منتقل کئے گئے۔

پنکی گینگ کے لیے کام کرنے والے دو رائیڈرز گرفتار
19 جون ، 2026
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )ساؤتھ زون پولیس نے پنکی گینگ کے لیے کام کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کالا گیٹ کلفٹن بلاک 6 کے قریب دو ملزمان کو گرفتار کیا ۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان آن لائن کوکین اور آئس سپلائی کے رائیڈرز ہیں۔ملزمان کی شناخت عاقب الرحمن اور غلام مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
=================


منشیات کا بڑھتارجحان نسلِ نو کیلئے زہر
تحریر : انور خان لودھی
06-21-2026

ہر سال 26 جون کو انسدادِ منشیات کا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کو واپس زندگی کی طرف لایا جائے گا اور اس لعنت سے معاشرے کو پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا کام نہایت محدود اور خاصی سست روی کا شکار ہے۔

عالمی دن کے حوالے سے خصوصی رپورٹ
لندن کے طبی تحقیقی جریدے’’ لینسٹ‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ نشے میں مبتلا محض30 ہزار لوگوں کے علاج کی سہولت ہے جبکہ نشے میں مبتلا افراد کی تعداد اس سے کئی سو گنا زیادہ یعنی 70 لاکھ سے بھی زائد ہے جس میں ہر سال مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا یہ دن تقاضا کرتا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے بحالی سنٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، ایک دوسرا مسئلہ موجودہ بحالی سنٹرز میں پرتشدد طریقہ علاج اور مارپیٹ کا ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی بھی از حد ضروری ہے۔ محض سگریٹ نوشی کے اشتہارات پر پابندی کافی نہیں‘ اس کی بیخ کنی کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں کیونکہ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سگریٹ نشے کی پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔ منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔کتنے ہی خاندان اس کی وجہ سے برباد ہو چکے ہیں، بے شمار والدین ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل سے ناامید ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں منشیات کا استعمال 22 فیصد بڑھا اور سب سے زیادہ اضافہ 2017 کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں نوجوان نسل میں بھی منشیات کے اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ ہیش، ڈرٹی ہیش، ایکسٹیسی، کرسٹل، کوکین، آئس اور تازہ ترین اضافہ آکسیجن شاٹس ہیں جنہیں بعض طبقات میں اب بھی برا نہیں سمجھا جاتا۔ ویپنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔کچھ عرصہ قبل تک اسلام آباد اور کراچی جیسے شہروں میں باقاعدہ ایسے کیفے موجود تھے جہاں آکسیجن شاٹس لگائے جاتے تھے۔ اگرچہ شیشہ کیفے کی طرح ان پر بھی پابندی ہے تاہم اس کے باوجود تمام نشہ آور اشیا بہ آسانی سے دستیاب ہیں۔ انسدادِ منشیات فورس کے مطابق‘پاکستان میں ہیروئن مقبول ترین نشہ ہے اور 77 فیصد منشیات کے عادی افراد اس کی لت میں مبتلا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ منشیات کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کا آغاز چرس سے ہوتا ہے جو سستی بھی ہے اور بہ آسانی ہر جگہ دستیاب بھی ہے۔
ایک رپورٹ جس میں نشے کے بڑھتے رجحان اور طالبعلموں میں نشے کی عادات کا احاطہ کیا گیا ہے‘ کے مطابق‘ 96 فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں منشیات کی ابتدا اپنے دوستوں اور سماجی طور پر مقبول اور لڑکے اور لڑکیوں کے گروپ میں داخل ہونے کے لیے کرتے ہیں۔ 90 فیصد نوجوان پڑھائی کے شدید دبائو اور 88 فیصد تجسس کے باعث نشے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76 لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ان میں 78 فیصد مرد جبکہ 22 فیصد خواتین ہیں۔اس رپورٹ میں جس تشویشناک بات کی نشاندہی کی گئی ہے‘ وہ یہ کہ ہر سال منشیات کی لت میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں40 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی پاکستان میں نشہ کرنے والے افراد کا تخمینہ سات ملین یعنی 70 لاکھ سے زیادہ لگایا گیا ہے۔
ایک جائزے کے مطابق دنیا بھر میں منشیات استعمال کرنے والے 24 کروڑ 70 لاکھ افراد میں سے 18 کروڑ 25 لاکھ افراد بھنگ کا نشہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہیروئن اور بھنگ کا استعمال زیادہ ہے جبکہ کوکین‘ کرسٹل اور آئس جیسی اشیا مہنگی ہونے کی وجہ سے ایک مخصوص طبقے میں ہی زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈرگز اینڈ کرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق دنیا میں منشیات کے دو بڑے مراکز لاطینی امریکا اور افغانستان ہیں۔ لاطینی امریکا سے کوکین اور افغانستان سے ہیروئن پوری دنیا میں سمگل ہوتی ہے۔ طالبان کے اقتدار سے پہلے افغانستان غیر قانونی منشیات کا 70 فیصد پیدا کرتا تھا۔ اگرچہ طالبان نے اقتدار سنبھالتے ہی منشیات کی کاشت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا مگر عالمی پابندیوں اور افغان حکومت کو تسلیم نہ کیے جانے سے افغانستان میں جو مسائل پیدا ہوئے‘ ان کے باعث طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے اس معاملے میں سختی نہیں برتی گئی اور بعض طالبان نمائندے برسر عام یہ اعتراف کرتے نظر آئے کہ جب تک وہ عوام کو روٹی فراہم نہیں کر سکتے‘ اس وقت تک منشیات کی کاشت پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔ البتہ دوسری جانب افغانستان میں کاشت کی گئی نصف کے قریب نشہ آور اشیا پاکستان کے راستے سمگل ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یو این کی ایک رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ کراچی منشیات کی سمگلنگ کا سب سے بڑا ’’ٹرانزٹ حب‘ ‘ہے اور یہاں سے منشیات کی تجارت روکنے کے لیے بہت سے وسائل، ٹیمیں اور تکنیکی سہولتوں کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ منشیات کے عالمی سمگلر پاکستان میں غیر محسوس طریقے سے اپنی مارکیٹ بنا رہے ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق برازیل کو بھی اسی قسم کی صورتحال سے گزرنا پڑا تھا اور 20 سے 25 سال کے عرصے میں برازیل سب سے زیادہ کوکین استعمال کرنے والا ملک بن گیا۔ اگرچہ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا، لیکن اس طرح کے حالات سے بچنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
یہ کوئی ڈھکا چھپا امر نہیں کہ منشیات فروشوں کا ہدف اُبھرتی ہوئی معیشت والے ممالک ہوتے ہیں اور ان ممالک کے نوجوان ان کا خاص نشانہ ہوتے ہیں۔ سرکاری سطح پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ کئی سال سے سینکڑوں ٹن منشیات پکڑی جا رہی ہے جس کی قیمت اربوں ڈالر میں ہوتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوان منشیات اور جرائم کی دلدل میں دھنس رہے ہیں اور متعلقہ ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ ایک نشہ باز کو تو منشیات بقدرِ ضرورت میسر آ جاتی ہے مگر متعلقہ ادارے منشیات فروشوں کا کھوج لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ پولیس اور انتظامیہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس معاملے سے چشمی پوشی اختیا ر کرتے ہیں۔اینٹی نارکوٹکس، کسٹمز اور ایکسائز سمیت متعدد ایجنسیاں اور ادارے منشیات کے خلاف فعال ہیں مگر تمام تر کوششوں اور کاوشوں کے باوجود یہ زہر معاشرے کی رگوں سے اب جڑوں تک میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ منشیات کی فروخت سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ہو رہی ہے ور اچھی قیمت پر۔’’ہوم ڈلیوری‘‘ کی سہولت بھی مل جاتی ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ منشیات سے وقتی سکون تو مل سکتا ہے مگر ذمہ داریوں سے فرار نہیں۔ درحقیت یہ مستقل روگ ہے جو چند ہی ہفتوں‘ مہینوں میں انسان کی زندگی اور صحت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں والدین کو بھی اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور ان کی صحبت پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ انہیں منشیات کی لعنت سے بچایا جا سکے۔

ویپنگ…ایک نئی مصیبت
ویپنگ کے آزادانہ استعمال سے نوجوان نسل نشے کی عادت میں مبتلا ہو رہی ہے جو اس کی جسمانی اور ذہنی صحت پر مضر اثرات مرتب کر رہی ہے۔پنجاب حکومت نے گزشتہ دنوں ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ) کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ۔ حکومت نے اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان ان کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے اور اسے روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ لاہور سمیت پورے پنجاب میں ویپنگ سینٹرز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔(تاہم اس پہ عمل درآمدنظر نہیں آ تا)۔
الیکٹرانک یا برقی سیگریٹ آ ج کل کے نوجوان ایک فیشن کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے عمومی اصطلاح میں ”ویپنگ ”کہا جاتا ہے۔ اس کے شوق میں زیادہ تر نو عمر لڑکے شامل ہیں اور بعض شیخی خورے اور نو دولتیے بھی، جو ویسے سگریٹ نہیں پیتے لیکن دیکھا دیکھی برقی سگریٹ کا شوق کرنے لگے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ نیکو ٹین اپنے جسم میں اتارنے کا خطرناک ذریعہ بن گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی بن رہی ہے کہ اس کے نقصانات سے ابھی لوگ اس طرح آگاہ نہیں جس طرح سگریٹ کے استعمال سے ہیں۔ ڈاکٹرزاس بارے میں خبردار کرتے ہیں کہ برقی سگریٹ کے اثرات صرف پھیپھڑوں کو نقصان نہیں پہنچاتے بلکہ دماغ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کہتے ہیں کہ برقی سگریٹ ”ویپنگ” سے جڑی چکنائی میں کیمیکل اور دھاتی اثرات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس میں نکل اور ٹین سمیت کئی دیگر دھاتی ذرات منتقل ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں متعلقہ فرد کو سانس لینے میں دشواری پیش اتی ہے یا نسبتاً زیادہ کھانسی آتی ہے۔ علاوہ ازیں سینے میں درد ، تھکن،قے یہاں تک کہ بخار بھی ہو سکتا ہے۔ یہ علامات برقی سگریٹ کے بڑھتے چلے جانے والے استعمال کے سبب جلدی بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق زیادہ خراب ہو جانے والے کیسز میں ایک فرد کو ان علامات کے بعد ہسپتال میں داخل بھی کرانا پڑ سکتا ہے۔ ”ویپنگ” کا استعمال کرنے والے نوجوانوں کے دماغ کی نشوونما نہیں ہوپاتی۔ نیکوٹین کے جسم میں بڑھ جانے سے ایک مرحلہ ایسا بھی آجاتا ہے کہ انسان کو دوسروں کا محتاج بن کر رہنا پڑتا ہے۔
اور یہ پنکی کیس…
یہ عجیب بات ہے کہ اکثر اوقات نشہ کرنے والے افراد کی گرفتاری عمل میں آ جاتی ہے مگر پولیس منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کم ہی کرتی ہے۔اس کی مثال انمول عرف پنکی کا کیس ہے جو مئی میں سامنے آ یا۔اس کیس نے سارے سسٹم کو آ شکار کر دیا۔
منشیات فروش انمول عرف پنکی کا کیس پاکستان (خصوصاً کراچی اور لاہور) میں منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک، بااثر شخصیات کی پشت پناہی اور پولیس و سیاسی حلقوں میں ہلچل کی وجہ سے شدید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملزمہ کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔کراچی پولیس اور حساس اداروں نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے مطابق وہ گزشتہ 10 سے 18 سال سے منشیات فروشی کے دھندے سے وابستہ ہے۔پنکی کو اس گینگ کی سرغنہ بتایا گیا جو کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں کوکین اور دیگر مہنگی منشیات سپلائی کرتا تھا۔گزشتہ ماہ یہ انکشاف سامنے آیا کہ ملزمہ نے لاہور کی ایک نجی سوسائٹی میں گھر کرایہ پر لے رکھا تھا، جہاں قریب ہی یونیورسٹی طلبہ کے ہاسٹلز کی بھرمار تھی تاکہ نوجوان نسل کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ گینگ سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور خواتین رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی ہوم ڈیلیوری کرتا تھا۔ ملزمہ کا کوئی باقاعدہ بینک اکاؤنٹ نہیں تھا بلکہ وہ بے نامی اکاؤنٹس اور دوسروں کے نام پر رجسٹرڈ سمیں استعمال کرتی تھی۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عدالت پیشی کے وقت پنکی کو بغیر ہتھکڑیوں کے، پولیس افسران کے حصار میں کسی وی آئی پی کی طرح لایا گیا۔ اس پر عوام اور اعلیٰ حکام کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔
کیس کی ناقص تفتیش اور ملزمہ کو مبینہ غیر قانونی رعایت دینے کے الزامات پر سندھ حکومت نے ایس پی انویسٹی گیشن کو بھی عہدے سے ہٹا یا۔دورانِ تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمہ کے گاہکوں اور سرپرستوں میں کئی اعلیٰ سرکاری افسران اور بااثر شخصیات شامل ہیں۔فی الوقت ملزمہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے رشتہ داروں، بھائیوں اور بین الاقوامی ڈرگ کارٹل سے جڑے دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔
=======================

منشیات، آئس اور گم ہوتی نسل
چوہدری شفیق احمد
29 جون ، 2026
پاکستان اس وقت جن بڑے قومی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ان میں ایک ایسا خطرہ بھی شامل ہے جو خاموشی سے ہماری نوجوان نسل، خاندانی نظام، تعلیمی اداروں اور مستقبل کی افرادی قوت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ یہ خطرہ منشیات، خصوصاً آئس (crystal methamphetamine) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کا ہے۔ اگرچہ منشیات کا مسئلہ پاکستان کیلئے نیا نہیں، لیکن آئس جیسی مصنوعی منشیات نے اس بحران کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک شکل دیدی ہے۔ماضی میں چرس، افیون اور ہیروئن جیسے نشے نسبتاً مخصوص طبقات تک محدود سمجھے جاتے تھے، لیکن آئس نے سماجی اور معاشی سرحدوں کو توڑ دیا ہے۔ چونکہ یہ نسبتاً مہنگی منشیات ہے، اسلئے اس کا استعمال متوسط اور خوشحال طبقے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس کا دائرہ اب کالجوں اور جامعات تک پہنچ چکا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعات بھیجتے ہیں لیکن بعض تعلیمی اداروں میں منشیات کی دستیابی ایک کھلا راز ہے۔
نوجوانی کا جوش، دوستوں کا دباؤ، تجسس اور آسان دستیابی بہت سے طلبہ کو ایسی لت میں مبتلا کر دیتی ہے جس سے واپسی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ آئس محض وقتی سرور پیدا نہیں کرتی بلکہ دماغی کیمیا کو متاثر کرکے شدید نفسیاتی مسائل، پرتشدد رویوں، وہم، بے خوابی، ڈپریشن اور بعض اوقات خودکشی کے رجحانات کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسے خطرناک ترین منشیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر افضل جاوید (obe)، سابق صدر ورلڈ سائیکائٹرک ایسوسی ایشن، اور پروفیسر ڈاکٹر مودت حسین رانا اس بڑھتے ہوئے رجحان کو پاکستان کے مستقبل کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ ان ماہرین کے مطابق اگر نوجوان نسل میں آئس اور دیگر مصنوعی منشیات کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ آٹھ سے دس برسوں میں پاکستان کو ایک ایسے سماجی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جسکے اثرات معیشت، تعلیم، خاندان اور قومی سلامتی تک محسوس کیے جائیں گے۔اس تناظر میں بعض جامعات کا رویہ مزید تشویش کا باعث بنتا ہے۔ بعض ماہرینِ تعلیم اور یونیورسٹی منتظمین یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کے طلبہ بالغ اور باشعور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے نفع و نقصان کا ادراک ہونا چاہیے۔ لیکن جب منشیات تعلیمی ماحول، خاندان اور معاشرے کو متاثر کرنے لگیں تو خاموشی ذمہ داری نہیں بلکہ چشم پوشی بن جاتی ہے۔مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ بعض جامعات میں منشیات کے استعمال یا دستیابی کے بارے میں غیر علانیہ چشم پوشی بھی دیکھی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منشیات کے معاملے میں غیر جانبداری عملاً مسئلے کو قبول کرنے کے مترادف بن جاتی ہے۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ آئس کا استعمال صرف تعلیمی کارکردگی کو متاثر نہیں کرتا بلکہ طلبہ کی شخصیت، تعلقات اور مستقبل کے کیریئر کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ کئی ماہرین کے مطابق ابتدا میں محض تجسس یا دوستوں کی صحبت میں کیا جانے والا تجربہ چند ماہ کے اندر شدید نفسیاتی اور جسمانی انحصار میں تبدیل ہو سکتا ہے۔منشیات کے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند برس قبل لاہور کی نہر، مختلف پارکوں اور گرین بیلٹس میں کھلے عام منشیات کا استعمال ایک معمول کا منظر بن چکا تھا۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں ایسے مناظر میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ منشیات کا کاروبار اب زیادہ منظم اور خفیہ شکل اختیار کر چکا ہے۔یہ صورتحال ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسدادِ منشیات کے محکموں، استغاثہ اور عدالتی نظام کیلئے کئی بنیادی سوالات پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم واقعی منشیات کے اس ناسور پر قابو پانا چاہتے ہیں تو صرف منشیات فروشوں کی گرفتاری کافی نہیں ہوگی۔منشیات کا کاروبار محض ایک مجرمانہ سرگرمی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی نیٹ ورک بن چکا ہے جس میں سپلائی، ترسیل، تقسیم اور وصولیوں کا ایک مکمل نظام موجود ہوتا ہے۔منشیات کے بحران کا ایک اور افسوسناک پہلو نجی بحالی مراکز یا ری ہیب سینٹرز کی بے قابو افزائش ہے۔ ملک بھر میں سینکڑوں ایسے مراکز قائم ہو چکے ہیں جو بظاہر نشے کے مریضوں کی بحالی کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بڑی تعداد بنیادی طبی اور اخلاقی معیارات پر پوری نہیں اترتی۔ریاستی اسپتالوں میں نفسیاتی علاج اور بحالی پروگراموں کی محدود دستیابی نے ہزاروں خاندانوں کو نجی مراکز کی طرف دھکیل دیا ہے۔ والدین جب اپنے بچوں کو شدید نشے اور نفسیاتی انتشار کی حالت میں دیکھتے ہیں تو وہ فوری حل کی تلاش میں ایسے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔بدقسمتی سے متعدد ری ہیب سینٹرز میں مستقل ماہرِ نفسیات، تربیت یافتہ کلینکل سائیکالوجسٹ اور نرسنگ اسٹاف موجود ہی نہیں ہوتا۔
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان ہماری معیشت، دفاع، سائنس، تعلیم اور سماجی ترقی کا مستقبل ہیں۔ اگر یہی طبقہ منشیات کی لت اور سماجی بے سمتی کا شکار ہو جائے تو قومی ترقی کے اہداف محض کاغذی منصوبوں تک محدود ہو کر رہ جائینگے۔ یہ مسئلہ صرف محکمہ صحت یا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مشترکہ چیلنج ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی اور حکومت سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج اپنی نوجوان نسل کو منشیات کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے سنجیدہ اور مربوط اقدامات نہ کئے تو کل ہمیں صرف نشے کے عادی افراد کا ہی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا بلکہ ایک کمزور، مایوس اور پیداواری صلاحیت سے محروم نسل کا بھی سامنا ہوگا۔