
ظلم کی انتہا ۔۔۔۔۔عورتوں پر بدترین تشدد ،ظلم و ستم ،قتل کے سچے واقعات
۔۔۔۔تفصیلات صرف جیوے پاکستان ڈاٹ کام پر
=========================
غیر ملکی خواتین کے اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت ہوگئی: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ لاہور میں 2 غیر ملکی خواتین کے اغواء کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جو 29 جون کو لاہور پہنچتے ہی اغواء ہو گئیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت کر لی گئی اور معلوم کیا گیا کہ وہ کس کے نام پر رجسٹرڈ تھی، تاہم گاڑی کے مالک کا موبائل فون بند تھا۔
فیصل کامران کا کہنا ہے کہ تفتیش میں کچھ افراد کا تعلق سرگودھا اور دیگر علاقوں سے سامنے آیا، جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گاڑی کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔
لاہور میں مبینہ زیادتی کی شکار 1 غیر ملکی خاتون کا بیان سامنے آ گیا
انہوں نے کہا ہے کہ سیف سٹی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ گاڑی موٹروے کے راستے سرگودھا گئی، جس کے بعد وہاں چھاپہ مارا گیا، بعد ازاں شاہدرہ اور ڈیفنس کے علاقوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 2 جولائی کو 4 افراد کو گرفتار کیا گیا، جب بڑی سیاسی شخصیت کا رشتہ دار ملزم کے طور پر سامنے آجائے تو افسران کو اطلاع دینی ہوتی ہے۔
فیصل کامران نے بتایا کہ بہت ساری خبریں چل رہی ہیں کہ غیر ملکی خواتین برآمد نہیں ہوئیں خود باہر آئیں ہیں، غیرملکی خواتین کا بیان موجود ہے کہ پنجاب پولیس نے ان کو بازیاب کروایا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے کہا ہے کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ سے رابطہ کیا گیا، رابطہ نہ ہونے پر ایس ایچ او مجسٹریٹ کے گھر گیا، مجسٹریٹ کے گھر پر چھوٹا سا واقعہ بھی ہوا، جس پر میں معذرت خواہ ہوں، گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایمبیسی چاہتی تھی کہ لڑکیاں جلد از جلد یہاں سے نکلیں، ہم نے کہا کہ ایک دن اور دے دیں، تاکہ ان کا بیان ہوسکے، ہم نے کہا کہ ٹکٹ کا خرچ لاہور پولیس دے گی۔
فیصل کامران کا کہنا ہے کہ میڈیکل اور اسٹیٹمنٹ کے بعد غیرملکی خواتین کو بیرون ملک روانہ کیا گیا، یکم جولائی کو اغوا برائے تاوان کی پہلی کال آئی، جس گھر پر چھاپہ مارا تو بتایا گیا کہ کچھ لڑکے یہاں کرائے پر رہے تھے، بتایا گیا کہ ڈپٹی پرائم منسٹر کا کوئی رشتہ دار ہے، ہم نے یہ معلومات کنفرم کرنے کے لیے فیملی سے رابطہ کیا، فیملی کو سب بتایا۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے کہا ہے کہ فیملی نے نمبر دیا اور ہم نے لوکیشن حاصل کرنا شروع کر دی، تمام ملزمان کو ہتھکڑی لگا کر ملزموں کی طرح پیش کیا گیا اور ریمانڈ لیا گیا، ہمیں اغواء کاروں کے بارے میں اطلاع غیرملکی خاتون کے والد نے دی، اس کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی کال آئی اور میرٹ پر کارروائی کا کہا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کو میرٹ پر دیکھنا ہے جس نے گناہ کیا ہے اس کو سزا ملے گی۔
=====================
تھرپارکر ، دو کمسن کزن بچیوں کی لٹکتی لاشیں ملنے کا معاملہ،19 افراد کے خلاف مقدمہ
04 جولائی ، 2026
تھرپارکر(رپورٹ:عبدالغنی بجیر ) تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں دو کمسن کزن بچیوں کی لٹکتی لاشیں ملنے کے معاملے پر پولیس نے 19 افراد کے خلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔
=================
خدا کی بستی میں گھر سے 15 سالہ لڑکی کی لاش برآمد، منگنی سے خوش نہیں تھی
01 جولائی ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سرجانی خدا کی بستی میں گھر سے 15 سالہ زویا دختر زرباب احمد کی پر اسرار حالت میں لاش برآمد، دو روز قبل منگنی ہوئی تھی جس سے وہ خوش نہیں تھی ،پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی لاش اس کا حقیقی بھائی مدثر اور تایا عباسی شہید اسپتال لائے تھے ،لڑکی کے منہ سے جھاگ آرہے تھے جس سے شبہ ہے کہ موت طبی نہیں ، اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ لڑکی رات معمول کے مطابق سوئی تھی اورصبح مردہ پائی گئی ، اس نے اپنےوالد کو منگنی توڑنے کا بھی کہاتھا۔
===============

ملزم نے خاتون وکیل کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا، ویڈیو
پشاور (04 جولائی 2026): پشاور میں جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں ایک خاتون وکیل مدیحہ پرویز پر تشدد کا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے۔
پشاور کچہری کے جوڈیشل کمپلیکس میں زیر سماعت ایک دیوانی مقدمے کے دوران مخالف فریق عبد الصادق نے کمرہ عدالت سے نکلتے ہی خاتون وکیل مدیحہ پرویز پر وحشیانہ تشدد کیا، اور اسے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔
پشاور پولیس نے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی انکوائری کے بعد ملزم عبد الصادق کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
متن کے مطابق یہ واقعہ 23 جون کو پیش آیا تھا، خاتون وکیل نے دیوانی مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست جمع کرائی تھی تو مخالف فریق نے گالم گلوچ کی، جس پر اسے کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد جب خاتون وکیل کمرہ عدالت سے باہر نکلیں تو عبد الصادق نے اس پر حملہ کر دیا۔
اسلام آباد میں 4 خواتین کا جعلی مجسٹریٹ بن کر جرمانے وصول کرنے کا انکشاف
خاتون وکیل مدیحہ پرویز کے مطابق ملزم عبد الصادق نے اُن کے خلاف دیوانی مقدمہ درج کیا ہے، جس میں 23 جون کو سماعت تھی، میں نے عدالت میں نظر ثانی کی درخواست جمع کرائی تو اس دوران ملزم نے عدالت میں گالیاں دیں، جس پر جج نے اس کو احاطہ عدالت سے باہر نکال دیا۔
مدیحہ نے بتایا کہ جب وہ عدالت سے باہر نکلیں تو ملزم نے ان پر تشدد کرتے ہوئے زخمی کر دیا، پولیس نے خاتون وکیل کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفیش شروع کر دی۔
========================
خاتون سے نازیبا حرکات، ملزم گرفتار
01 جولائی ، 2026FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان بازار پولیس نے سر راہ خاتون سے نازیبا حرکات کرنے والا ملزم محمد سجاول عرف فیاض گرفتارکرلیا،پولیس نے ویڈیو کی مدد سے ملزم کی شناخت کے بعد گرفتار کرکے اس کے قبضے سے شراب برآمد کرلی ۔

خبر نامہ نمبر 2026/5185
کوئٹہ29 جون :حکومت بلوچستان نے کوئٹہ کی مقامی خاتون شاہدہ مختیار پر مبینہ تشدد کے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا ہے معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر پرسنل اسٹاف آفیسر سید امین نے پولیس حکام سے فوری رابطہ کیا، جس کے بعد واقعے
میں ملوث ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے شاہد رند نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور میرٹ پر تحقیقات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ذمہ دار شخص کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد، ہراسانی اور کسی بھی قسم کی زیادتی ناقابل برداشت ہے۔ حکومت بلوچستان متاثرہ خاتون کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائے گی اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
=================
کراچی میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ
کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ میں خاتون پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ پیش آیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق علی نامی شخص کافی عرصے سے ہراساں کر رہا تھا جس کی متعدد بار شکایت کی، 21جون کو گھر سے باہر نکلی تو پڑوسی تیزاب پھنک کر فرار ہو گیا۔
خاتون نے بتایا کہ ملزم کیخلاف ایک ایف آئی آر پہلے ہی درج ہے لیکن تیزاب پھینکنے کا پولیس مقدمہ درج نہیں کر رہی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورنگی تیزاب گردی کا نوٹس لیتے ہوئے اےآئی جی سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ خاتون پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے جب کہ خاتون کو فوری بہترین طبی امداد اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
/ 29 جون 2026
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورنگی تیزاب گردی واقعے پر سخت نوٹس
مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی
خاتون پر تیزاب پھینکنے والے ملزم کو فی الفور گرفتار کیا جائے، وزیراعلیٰ سندھ
مظلوم خاتون کو انصاف فراہم کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھ
خاتون کو فوری طور پر بہترین طبی امداد اور تحفظ فراہم کیا جائے، مراد علی شاہ کی ہدایت
تیزاب گردی جیسے درندانہ فعل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیراعلیٰ سندھ
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ
===================
=========================
کوٹ لکھپت: نجی اسکول کی ٹیچر سے مبینہ اجتماعی زیادتی
تازہ ترینقومی خبریں29 جون ، 2026
کوٹ لکھپت میں نجی اسکول کی ٹیچر کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
متاثرہ ٹیچر کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق کوٹ لکھپت میں نجی اسکول کی ایک ٹیچر سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے ملزمان اسکول کے سیکیورٹی گارڈ محسن اور اس کے دوست اسد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پشاور: لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی میں ملوث 3 ملزمان گرفتار
متاثرہ ٹیچر کے والد کی مدعیت میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق ملزم محسن اسکول میں چھٹی کے بعد متاثرہ ٹیچر کو ورغلا کر اپنے دوست اسد کے گھر لے گیا تھا۔
مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمان نے خاتون ٹیچر کو زبردستی نشہ آور مشروب پلایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
==================
کراچی: اورنگی میں نوجوان کے کلہاڑی کے وار سے سوتیلی ماں قتل
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن نمبر 1 میں گھر میں کلہاڑی کے وار سے خاتون جاں بحق ہو گئی۔
ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا ہے کہ والد کی دوسری بیوی کو قتل کرنے والے نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایس ایس پی ویسٹ نے بتایا ہے کہ ملزم نے تیز دھار آلے کے وار کر کے سوتیلی ماہ کو قتل کیا۔
انہوں نے بتایا ہے کہ ملزم کے قبضے سے آلۂ قتل کلہاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
مقتولہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔
======================
لوئر دیر: 19 سالہ لڑکی کا قتل، کزن گرفتار
تازہ ترینقومی خبریں29 جون ، 2026
لوئر دیر میں 19 سال کی لڑکی کے قتل کے مقدمے میں اس کے کزن کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس حوالے سے ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے چچا کی گرفتاری کے لیے چھاپے ما رہے جا رہے ہیں، لڑکی کو 3 دن قبل رباط میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ قتل کرنے کے بعد لڑکی کی لاش کو خفیہ طور پر دفنایا گیا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کی نشاندہی پر لڑکی کی لاش گھر کے کمرے سے ملی تھی۔
=====================

پنجاب کے علاقے قصور چونیاں کی ظہیر آباد کالونی میں 16 برس کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
پولیس کے مطابق ندیم نامی بااثر نوجوان پر مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق طبیعت خراب ہونے پر ملزمان لڑکی کو اسپتال چھوڑ کر فرار ہوگئے، ویڈیو میں 3 ملزمان کو لڑکی کو نجی اسپتال چھوڑ کر فرار ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے لڑکی کی والدہ کو کال کرکے بلایا، متاثرہ لڑکی کو ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
=============================

رحیم یار خان: لیاقت پور میں کھیت سے 6 سال کی بچی کی لاش ملی
تازہ خبریں28 جون ، 2026
پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں کھیت سے 6 سال کی بچی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو تشدد کرکے قتل کیا گیا ہے، لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق بچی گزشتہ روز لاپتا ہوئی تھی، نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
==================

ٹھٹھہ (جے پی) ور شہر کے قریب گاؤں بچو چاڑو کی رہائشی ایک ذہنی معذور خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرکے زبردستی نکاح کرانے اور اپنے اہل خانہ کے خلاف بیان نہ دینے پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور اس کے سر کے بال کاٹ کر اس کی تذلیل کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون شازیہ چاڑو اپنی والدہ کزیبا، والد شاہ ڈنو اور ماموں شریف چاڑو کے ہمراہ مکلی پہنچ کر نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چند روز قبل علاقے کے بااثر افراد حسن مانجھریو پانڈھی مانجھریو اس کے بیٹے شہمیر اور دیگر افراد انہیں زبردستی اغوا کرکے لے گئے، جہاں ان کا شہمیر نامی شخص کے ساتھ زبردستی نکاح کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اہل خانہ کے خلاف بیان نہ دینے پر انہیں زنجیروں میں جکڑ کر کراچی کے ایک علاقے میں رکھا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید تشدد کیا گیا اور ان کے سر کے بال کاٹ کر انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ کی والدہ کزیبا نے کہا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، ان کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنا کر ذلیل کیا گیا، آخر ان کی بیٹی کا قصور کیا تھا؟ متاثرہ کے ماموں شریف چاڑو نے الزام لگایا کہ ان کے گاؤں کے قریب رہنے والے حسن مانجھریو اور پانڈھی مانجھریو بااثر اور ظالم لوگ ہیں، جنہوں نے ان کی بھانجی کو اغوا کرکے زبردستی نکاح کرایا اور کئی روز تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ کے ورثاء نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق یہ معاملہ مبینہ طور پر رشتہ داری کے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل چاڑو برادری کے ایک نوجوان نے مانجھریو برادری کی ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی، جو اب بھی چاڑو برادری کے پاس رہ رہی ہے، اور اسی رنجش کے باعث مانجھریو برادری کے بعض افراد نے یہ کارروائی کی۔ واضح رہے کہ یہ تمام الزامات متاثرہ فریق اور ذرائع کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ علاقے کی سماجی اور باشعور شخصیات نے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
=================================

جرگے کے حکم پر شادی شدہ خاتون کا قتل، ٹرائل راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت منتقل
جرگے کے حکم پر شادی شدہ خاتون سدرہ عرب کے قتل کے کیس کا ٹرائل راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت منتقل کر دیا گیا۔
کیس میں دہشت گردی اور لنچنگ کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں، مقدمے کی تفتیش انسپکٹر طارق گوندل کو سونپ دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں ملزمان پر فردِ جرم عائد ہو چکی تھی اور چالان بھی جمع ہو چکا تھا۔
سدرہ عرب قتل کیس میں پیشرفت، نامزد اور روپوش ملزم گرفتار
19 سالہ سدرہ عرب کو جرگے کے حکم پر غیرت کےنام پر گزشتہ سال 16 جولائی کو قتل کیا گیا تھا۔
مقتولہ کی تدفین کے بعد اس کی قبر کے نشانات مٹا دیے گئے تھے۔
پولیس نے قتل میں ملوث 13 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
گرفتار ملزمان میں مقتولہ کا والد، بھائی، چچا، سابق شوہر، قبرستان کا سیکریٹری بھی شامل ہے۔
گرفتار ملزمان نے 8 ماہ جیل میں رہنے کے بعد عدالت سے ضمانت حاصل کی تھی
====================

’شوہر میری بہن مصباح پر تشدد کرتا تھا، تین شادیوں کو بھی خفیہ رکھا‘
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں شوہر کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہونے والی 18 سالہ مصباح کے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سرجانی ٹاؤن میں پسند کی شادی کرنے والی 18 سالہ مصباح کے شوہر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جبکہ مقتولہ کی قبر کشائی کرکے پولیس سرجن نے نمونے بھی حاصل کرلیے ہیں۔
عدالتی حکم پر مصباح کی قبر کشائی کی گئی، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ سیمپل لے لیے گئے ہیں، موت کی اصل وجہ رپورٹ میں واضح ہوگی۔
یہ پڑھیں: کراچی: پسند کی شادی کرنیوالی 18 سالہ مصباح کی موت کے کیس میں اہم پیش رفت
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی ایم ایل او کی رپورٹ میں بھی کچھ شواہد ملے تھے۔
مصباح کے بھائی نے میڈیا کو بتایا کہ شوہر اس پر بہت تشدد کرتا تھا، ملزم نے اپنی تین شادیون کو بھی خفیہ رکھا تھا۔
وکیل کا کہنا ہے کہ لڑکی کے ہاتھوں پر بھی تشدد کے نشان موجود تھے۔
یاد رہے کہ مقتولہ مصباح کے اہلخانہ نے ان کے شوہر پر مبینہ طور پر شدید تشدد کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ مصباح زخمی حالت میں میکے پہنچی تھی اور دو روز بعد انتقال کر گئی تھی۔
=============================
کراچی: ملیر میں گھر سے ماں اور اس کی 8 سالہ بیٹی کی پھندا لگی لاشیں برآمد
کراچی کے علاقے ملیر کھوکھرا پار میں ایک گھر سے ماں اور اس کی 8 سال کی بیٹی کی پھندا لگی لاشیں ملی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سال کی صبا زوجہ حنیف اور 8 سال کی نبیہ دختر حنیف کے نام سے ہوئی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور دونوں لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
====================
کراچی: قائد آباد میں قتل ہوئی 3 سالہ بچی سے زیادتی اور تشدد کی تصدیق
کراچی کے علاقے قائد آباد میں قتل کی جانے والی 3 سال کی بچی کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہو گئی۔
’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا ہے کہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا ہے کہ موت کی وجہ کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کر لی گئی ہے، کیمیکل ایگزامن رپورٹ آنے پر موت کی وجہ کا تعین ہو گا۔
دوسری جانب واقعے کا مقدمہ تھانہ قائد آباد میں والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں اغوا، زیادتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مدعیٔ مقدمہ کے مطابق میری بیٹی باہر گئی تھی واپس نہیں آئی تو اہلیہ نے کال کی، ہم نے بچی کو تلاش کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
بچی کے والد کا کہنا ہے کہ رات میں گھر پہنچے تو محلے میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کر گئے ہیں، میرے والد نے تصدیق کی کہ لاش میری بیٹی کلثوم کی تھی۔
========================
بھارت: بیوی کو دریا میں پھینک کر قتل کرنیوالا شوہر 9 سال بعد گرفتار
بھارتی ریاست گجرات کی کرائم برانچ نے 2017ء کے ایک پرانے گمشدگی کے کیس میں حادثہ سمجھے جانے والے ایک واقعے کو منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل قرار دے دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 25 جون 2017ء کو مینش دینیسبھائی سولنکی اپنی اہلیہ کوملبین سولنکی کو شہر کی سیر کے بہانے ساتھ لے گیا تھا، دن بھر مختلف مقامات پر گھومنے کے بعد رات گئے وہ اسے سبھرمتی ریور فرنٹ لے گیا۔
تحقیقات کے مطابق وہاں گفتگو کے دوران مینش نے موقع پا کر اپنی اہلیہ کو اچانک اٹھا کر دریا میں پھینک دیا جس کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی۔
واقعے کے بعد اگلے دن ملزم نے کالوپور پولیس اسٹیشن میں جا کر گمشدگی کی جھوٹی رپورٹ درج کروائی تاکہ جرم کو چھپایا جا سکے۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثاتی موت سمجھا گیا اور لاش ملنے کے بعد کیس اسی زاویے سے بند کر دیا گیا۔
تقریباً 9 سال بعد پولیس نے تکنیکی شواہد اور پرانے گواہوں کے بیانات کی دوبارہ جانچ کی جس سے حقیقت سامنے آ گئی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شوہر اور اہلیہ کے درمیان شادی کے صرف چند ماہ بعد سے ہی گھریلو تنازعات چل رہے تھے۔
پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مینش دینیسبھائی سولنکی کا پہلے سے بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ تھانے کے حوالے کر دیا ہے۔
========================
ویلز: لاپتہ 14 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں نوعمر لڑکا گرفتار
جنوب مغربی برطانوی ملک ویلز میں 14 سالہ لڑکی لیلیٰ کے قتل کے شبے میں اس کے 14 سالہ دوست کو گرفتار کر لیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ لڑکی کی لاش پیر کی رات بلائنا کے علاقے ڈفرین پارک سے ملی تھی، اسے اس سے پہلے لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ لیلیٰ کو آخری بار ہفتے کی شام شہر کی مرکزی سڑک پر ایک لمبے سیاہ لباس میں دیکھا گیا تھا جبکہ اس کی لاش اس کی رہائش سے تقریباً 18 میل دور علاقے سے ملی ہے۔
پولیس کے مطابق لیلیٰ کے قتل کے شبے میں اس کے ہم عمر ایک مشتبہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لیلیٰ اور نو عمر لڑکے کے درمیان تعلق اور لڑائی کے سبب یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔
========================

خیبر میں مبینہ گھریلو تشددکا شکار فرانسیسی خاتون کو 5 بچوں سمیت بازیاب کرالیا گیا
خیبر کی تحصیل باڑہ میں مبینہ گھریلو تشددکا نشانہ بننے والی فرانسیسی خاتون کو بازیاب کرالیا گیا۔
پولیس کے مطابق 18 جون کو اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ تھانہ باڑہ کی حدود میں واقع ایک گھر میں ایک غیر ملکی خاتون کو مبینہ طور پر گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں گھر میں محدود رکھا گیا ہے۔
اطلاع کے بعد ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں خاتون کو مبینہ طور پر تشددکا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
پولیس کے مطابق 54 سالہ فرانسیسی خاتون سلوی یاسمینہ نے ایک پاکستانی شہری سے شادی کی تھی اور وہ 2014 سے باڑہ میں مقیم تھیں۔ خاتون کے پانچ بچے ہیں جن میں ایک بچہ قوت سماعت اورگویائی سے محروم ہے۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ انہیں اپنے شوہر کی جانب سے مسلسل بدسلوکی کا سامنا تھا اور انہیں گھر سے باہر جانےکی اجازت بھی نہیں دی جاتی تھی۔
خیبر میں مبینہ گھریلو تشددکا شکار فرانسیسی خاتون کو 5 بچوں سمیت بازیاب کرالیا گیا
خاتون کے بیان کے بعد پولیس نے انہیں اور ان کے 5 بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا اور انہیں مزید تحفظ، طبی معائنے اور قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن پشاور منتقل کر دیا۔ حکام کے مطابق خاتون اور بچوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
خاتون کے شوہرکے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے جب کہ دفتر خارجہ کے ذریعے فرانسیسی سفارت خانےکو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔
ڈی پی او خیبر وقار احمد کے مطابق فرانسیسی خاتون نے خواہش ظاہر کی ہےکہ انہیں واپس فرانس جانےکی اجازت دی جائے، اس سلسلے میں متعلقہ سفارتی اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے جب کہ خاتون کی درخواست اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔
خیبر پولیس کے مطابق واقعےکے تمام پہلوؤں کی چھان بین جاری ہے اور شواہد، بیانات اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہےکہ خاتون کے الزامات کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے معاملات میں بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائےگی اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن قانونی اور حفاظتی سہولت فراہم کی جائےگی۔
بورے والا میں خانہ بدوش خاتون مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل
بورے والا:(دنیا نیوز) پنجاب کے علاقے بورے والا میں خانہ بدوش خاتون کو مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے کام کے بہانے گھر لیجا کر مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا اور مقتولہ کی نعش ٹی ایچ کیو ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
دوسری جانب مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج کرلیا گیا، تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ شواہد اکٹھے کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے شروع کردیے ہیں۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ قدمے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے، حقائق جلد سامنے لائے جائیں گے۔
=================
سسر نے بہو کو غیرت کے نام پر ٹوکے کے وار سے قتل کر دیا
ملتان: (دنیا نیوز) سسر نے بہو کو غیرت کے نام پر ٹوکے کے وار سے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ حسن آباد گیٹ نمبر 2 خانیوال روڈ پر پیش آیا، 30 سالہ عروشہ زوجہ عامر کو اس کے سسر نے ٹوکوں کے وار سے قتل کیا۔
خاتون کے منہ اور گلے پر گہرے زخم آئے اور موقع پر دم توڑ گئی، خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ڈیڈ باڈی کو پوسٹ مارٹم کے لئے منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لئے گئے، مزید تحقیات جاری ہیں۔
==================
تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کو مزید علاج کے لئے امریکا بھجوانے کا فیصلہ
20 جون ، 2026
کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)، معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے بیرونِ ملک علاج معالجے کا فیصلہ۔
=====================
بیوہ سے شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی ،ویڈیوز بنا لیں
20 لاکھ روپے بھی ہتھیا لیے ،متاثرہ خاتون کا ایف ائی ار میں موقف
کہروڑپکا-بیوہ خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی اور ویڈیوز بنا لیں 20 لاکھ روپے بھی ہتھیا لیے ۔متاثرہ خاتون کا ایف ائی ار میں موقف۔ تفصیل کے مطابق سرگودھا کی رہائشی(ب) نے تھانہ سٹی کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ غلام یاسین ولد ممتاز قریشی سے پانچ سالہ جان پہچان تھی اور آنا جانا تھا ملزم نے نکاح کی پیشکش کی اور میرے نظر انداز کرنے پر کسی طرح میری نازیبا ویڈیوز بنا کر مجھے بلیک میل کرنے لگا اور مختلف اوقات میں زنا بالجبر کے ساتھ ساتھ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے 20 لاکھ روپے بھی لے لیے اور پھر مجھے چار روز قبل نکاح کے لیے کہروڑ پکا بلوایا ،میرا موبائل مالیتی ایک لاکھ 70 ہزار روپے بھی چھین لیا ۔ملزم نے میرے ساتھ انتہائی زیادتی کی ہے ۔رقم اورموبائل واپس دلایا جائے ،ویڈیوز برآمد کر کے ختم کرائی جائیں اور اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔
================
کوئٹہ: ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر 14 سالہ امریکی لڑکی کا قتل، والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا
ہفتہ 20 جون 2026
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک مقامی عدالت نے 14 سالہ پاکستانی نژاد امریکی لڑکی حرا انوار کے قتل کے جرم میں ان کے والد اور ماموں کو عمر قید کی سزا سنادی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوئٹہ (دس) شاہد جاوید نے سنیچر کو اس ہائی پروفائل مقدمے کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت اور ماموں محمد طیب بھٹی کو عمر قید کے ساتھ ساتھ دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔
واشنگٹن میں لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی شہری کی پراسرار موت
اس مقدمے کی تفتیش ’سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ‘ (SCIW) نے کی تھی جس کے تفتیشی افسر اسسٹنٹ سب انسپکٹر بسم اللہ خان تھے جبکہ استغاثہ کی جانب سے مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر قیصر خان نے کی۔
حرا انوار قتل کیس کیا تھا؟
چودہ سالہ حرا انوار کو جنوری 2025 میں کوئٹہ کے علاقے بلوچی سٹریٹ میں گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد مقتولہ کے والد انوار الحق راجپوت نے خود گوالمنڈی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔
انہوں نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے تھے، تاہم وہ اپنے بھائی کا موبائل فون واپس دینے کے لیے دوبارہ گھر کے اندر چلے گئے اور اسی دوران باہر فائرنگ ہو گئی۔
ان کے مطابق جب وہ باہر آئے تو حرا شدید زخمی حالت میں پڑی تھیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
تاہم جب پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے، عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا تو شک کی سوئی مقتولہ کے والد اور خاندان کے دیگر افراد پر گھوم گئی۔
قتل کی مبینہ وجہ اور منصوبہ بندی
بعد ازاں یہ مقدمہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کیا گیا، جس نے تفتیش کے بعد مقتولہ کے والد اور ماموں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر سخت اعتراض تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے اور حرا انوار کی پیدائش بھی وہیں امریکہ میں ہوئی تھی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جنوری 2025 میں حرا اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں، جہاں انہیں ان کے والد اور ماموں نے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لا کر قتل کر دیا۔
بین الاقوامی توجہ اور والدہ کا موقف
پاکستان کے علاوہ اس مقدمے کو امریکہ اور عالمی سطح پر بھی کافی توجہ حاصل ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران امریکی سفارت خانے کی ایک ٹیم نے کوئٹہ کا دورہ بھی کیا تھا اور قونصلر رسائی کے تحت مقتولہ کے والد سے ملاقات کی تھی، کیونکہ وہ خود بھی امریکی شہری ہیں۔
پولیس کے مطابق دوسری جانب امریکہ میں مقیم لڑکی کی والدہ نے پولیس کی مکرر درخواستوں کے باوجود اس کیس میں اپنا بیان قلمبند کرایا اور نہ ہی وہ پاکستان آئیں۔
پولیس حکام نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ والد کو اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں، رہن سہن اور طرزِ زندگی پر اعتراض تھا۔
پولیس کے مطابق انوار الحق قریباً تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم تھے جہاں وہ ٹیکسی چلاتے تھے۔ حرا انور وہیں امریکہ میں پیدا ہوئی تھیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق جنوری 2025 میں وہ اپنے والد کے ہمراہ امریکہ سے پاکستان کے شہر لاہور آئیں اور چند روز بعد کوئٹہ پہنچیں جہاں انہیں قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کو اس کے والد اور ماموں نے منصوبہ بندی کے تحت امریکہ سے پاکستان لا کر قتل کیا۔
========================

ایرانی گلوکارہ کو بغیر حجاب گانا پیش کرنے پر 74 کوڑوں کی سزا
پرستو احمدی کی سزا ایرانی خواتین کے بنیادی حقوق پر سنگین حملہ ہے ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور فنکار برادری کا ردعمل
ایران کی گلوکارہ پرستو احمدی کو بغیر حجاب گانا پیش کرنے پر 74 کوڑوں، دو سالہ سفری پابندی اور دو سال تک فنی سرگرمیوں سے محرومی کی سزا سنائے جانے کی اطلاعات پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 29 سالہ گلوکارہ نے دسمبر 2024 میں ایک تاریخی مقام سے یوٹیوب پر براہِ راست کنسرٹ کے دوران بغیر حجاب حب الوطنی پر مبنی گیت “از خون جوانان وطن” پیش کیا تھا، جسے لاکھوں افراد نے دیکھا۔ بعد ازاں ایرانی حکام نے اسے “عوامی اخلاقیات کے خلاف” قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق صوبہ قم کی ایک عدالت نے پرستو احمدی سمیت ان کی پروڈکشن ٹیم کے آٹھ ارکان کو بھی 74 کوڑوں، دو سال کے لیے ملک سے باہر سفر پر پابندی اور فنی سرگرمیوں پر پابندی کی سزا سنائی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قانون میں خواتین کے گانے یا موسیقی تخلیق کرنے کو براہِ راست جرم قرار نہیں دیا گیا، اس لیے یہ سزا قانونی جواز سے محروم دکھائی دیتی ہے۔
یہ واقعہ ایران میں خواتین کے لازمی حجاب اور اظہارِ رائے کی آزادی پر جاری سخت پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ ادھر ایرانی نژاد برطانوی اداکارہ نازنین بنیادی اور جلاوطنی اختیار کرنے والی ایرانی اداکارہ ستازہ ملکی سمیت متعدد فنکاروں نے بھی پرستو احمدی کی حمایت میں آواز بلند کر دی ہے۔
فنکار برادری کا کہنا ہے کہ پرستو احمدی کی سزا نہ صرف فن اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن ہے بلکہ ایرانی خواتین کے بنیادی حقوق پر بھی سنگین حملہ ہے۔
ایک ہزار سے زائد فنکاروں کا اسرائیلی فلمی اداروں سے بائیکاٹ کا اعلان
ستارہ ملکی نے اپنے بیان میں کہا کہ پرستو احمدی کی پرفارمنس نے انہیں مزاحمت، امید اور حوصلے کا نیا پیغام دیا۔ ان کے بقول یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی خواتین تمام تر پابندیوں کے باوجود اپنے حقوق، آزادی اور خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی پرستو احمدی کے حق میں یکجہتی کی مہم زور پکڑ رہی ہے، جہاں انسانی حقوق کے کارکن، فنکار اور سماجی شخصیات ایرانی حکام سے سزا واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
=========================

ہانیہ قتل کیس: سی سی ڈی کی بجائے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم
درخواست گزار کا موقف تھا کہ ’جب سی سی ڈی کے اہلکار کی فائرنگ سے بچی ماری جائے تو اسی واقعے کی تحقیقات بھی سی سی ڈی خود کیسے کر سکتی ہے؟‘
قرۃ العین شیرازی @annie_shirazi
13 اکتوبر 2020 کی اس تصویر میں لاہور کی ایک عدالت سے جاتی ہوئی پنجاب پولیس کی ایک گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)
لاہور ہائی کورٹ نے چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ماری جانے والی نو سالہ بچی سے متعلق معاملے پر درخواست نمٹاتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ’قانون کے مطابق کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ ’جب سی سی ڈی کے اہلکار کی فائرنگ سے بچی ماری جائے تو اسی واقعے کی تحقیقات بھی سی سی ڈی خود کیسے کر سکتی ہے؟‘
درخواست گزار کے وکیل آصف محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ کسٹوڈیل ٹارچر اینڈ ڈیتھز ایکٹ کے تحت اس نوعیت کے مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ ’آج ڈی ایس پی انویسٹیگیشن سی سی ڈی عدالت میں پیش ہوئے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ملزم کا تعلق سی سی ڈی سے ہو تو اسی ادارے کی جانب سے تحقیقات کیسے کی جا سکتی ہیں؟‘
Hania murder
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نو سالہ بچی اس وقت جان سے چلی گئی اور اس کے خاندان کے دو افراد زخمی ہوئے جب ڈاکوؤں کے تعاقب کے دوران چکوال پولیس نے مبینہ طور پر غلط شناخت پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی (تصویر: توقیر انور)
وکیل آصف محمود کے مطابق ’اسی لیے عدالت نے ان کی درخواست پر قانونی کارروائی کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت جاری کی ہے۔‘
کیس کی سماعت کے بعد آصف محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’عدالت سے استدعا کی تھی کہ چکوال میں نو سالہ ہانیہ کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کی جائیں کیونکہ قانون کے مطابق ایسے کیسز کی تفتیش ایف آئی اے ہی کر سکتی ہے۔‘
میاں آصف محمود نے الزام عائد کیا کہ ’سی سی ڈی نے کم و بیش دو ہزار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔ بعض افراد کو مارنے کے بعد لاوارث قرار دے کر دفن کر دیا گیا اور ان کی قبروں کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپریل 2025، جب سی سی ڈی کی تشکیل ہوئی تھی، اور دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 مقابلوں کو ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 924 اموات ہوئیں جب کہ سی سی ڈی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔
میاں آصف محمود نے مزید کہا کہ پولیس آرڈر 2002 میں سی سی ڈی کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، تاہم چکوال کا واقعہ ٹرپل مرڈر کیس ہے اور اس کی تحقیقات سی سی ڈی نہیں کر سکتی۔ ’چکوال واقعے کے اگلے روز سی سی ڈی کی جانب سے دو مبینہ ڈاکوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ افراد کون تھے اور کس بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی؟‘
=======================

لاہور ہائی کورٹ: موٹروے ریپ کیس کے دونوں مجرموں کی سزائے موت برقرار
عابد ملہی اور شفقت بگا نے نو ستمبر، 2020 کو موٹر وے پر بچوں کے سامنے ایک خاتون کے ریپ اور ڈکیتی پر ملنے والی سزائے موت کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی تھیں۔
ارشد چوہدری @ArshdChaudhary
پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ عابد ملہی کی تصویر
لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے ریپ کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
یہ واقعہ نو ستمبر، 2020 کو پیش آیا تھا، جہاں موٹروے پر گاڑی خراب ہونے کے باعث محصور خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے ڈکیتی کے دوران ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
اس واقعے نے ملک بھر میں شدید عوامی غیظ و غضب کو جنم دیا اور خواتین کے تحفظ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بحث چھیڑ دی تھی۔
مجرموں کی گرفتاری کئی ہفتوں تک صوبائی پولیس کے لیے بڑا چیلنج بنی رہی اور بالاآخر جب انہیں گرفتار کیا گیا تو حکام نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے ذریعے اس کا اعلان کیا تھا۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے مجرموں کی اپیلوں پر تفصیلی سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل محمد قاسم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور دفاع کے دلائل کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔
انہوں نے استدعا کی کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دونوں کو بری کیا جائے۔

وہ کار جس میں متاثرہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ موٹر وے پر سفر کر رہی تھیں (پنجاب پولیس)
پراسیکیوٹر راحیلہ شاہد نے اپیلوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے تمام شواہد اور گواہیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ سنایا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دونوں مجرموں کے خلاف ٹھوس، سائنسی اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، لہٰذا ان کی اپیلیں مسترد کی جائیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سناتے ہوئے دونوں مجرموں کی اپیلیں خارج کر دی گئیں اور سزا برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔
20 مارچ، 2021 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک نے عابد ملہی اور شفقت بگا کو ریپ، اغوا، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔
اس کے علاوہ انہیں دیگر دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں بھی دی گئی تھیں، جس کے بعد 25 مارچ، 2021 کو دونوں مجرموں نے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔
اپیل میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا اور تفتیش و شواہد میں واضح تضادات موجود ہیں۔
تاہم، لاہور ہائی کورٹ نے تمام ریکارڈ اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیا۔
مجرمان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا قانونی حق استعمال کریں گے۔
==========================
بھارت: شوہر کے ڈی این اے ٹیسٹ کے مطالبے و مبینہ ہراسانی سے دلبرداشتہ حاملہ خاتون نے خودکشی کر لی
تازہ ترینبین الاقوامی خبریں29 جون ، 2026
بھارتی ریاست تلنگانہ میں 23 سالہ حاملہ خاتون نے مبینہ طور پر شوہر اور ساس کی جانب سے مسلسل ذہنی و جسمانی ہراسانی کے بعد خودکشی کر لی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق متوفیہ سشمیتا کی والدہ نے الزام لگایا ہے کہ بیٹی کے شوہر کو بچے کی نسبت پر شبہ تھا اور اس نے اہلِ خانہ کے سامنے بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق متوفیہ کی والدہ کی جانب سے بیٹی کی ساس پر بھی بدسلوکی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس نے بتایا ہے کہ خاندان کے بڑوں کے سامنے ہونے والی بات چیت اور صلح کے بعد معاملہ وقتی طور پر ختم ہو گیا تھا تاہم متوفیہ کے اہلِ خانہ کے مطابق بیٹی کے سسرالیوں کی جانب سے ہراسانی کا سلسلہ جاری رہا۔
متوفیہ کے اہلِ خانہ کے مطابق صلح صفائی کے محض 2 دن بعد سشمیتا اپنے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے سشمیتا کے شوہر اور ساس کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دیا ہے جہاں سے دونوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقدمہ شوہر اور سسرالی رشتے داروں کے خلاف ظلم، خودکشی پر اکسانے اور ذہنی و جسمانی حراسانی سے متعلق دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔
=========================

بھارت: 3 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے 65 سالہ مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی
تازہ ترینبین الاقوامی خبریں29 جون ، 2026
بھارتی شہر پونے کی ایک عدالت نے 65 سالہ مجرم بھیم راؤ کامبل کو 3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور بعد ازاں اس کے بہیمانہ قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے اس جرم کو ’نایاب ترین (Rarest of Rare)‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسا خوفناک جرم ہے جو ناصرف عدالت بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ دیتا ہے۔
یہ فیصلہ پونے کے ضلع و سیشن جج ایس آر سلونکھے نے سنایا ہے۔
سماعت کے دوران استغاثہ نے سزائے موت سے متعلق سپریم کورٹ کے 12 اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ ’نایاب ترین مقدمات‘ میں شامل ہے۔
بھارت: مندر کے عطیات میں کروڑوں کا خرد برد کرنیوالے 8 ملزمان گرفتار
عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جرم کی نوعیت اتنی سفاکانہ اور غیر انسانی ہے کہ کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔
جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بچی کے جسم پر موجود زخم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اس کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم پہلے بھی ایک جنسی جرم کے مقدمے میں ملوث رہ چکا تھا اس لیے وہ قانونی نتائج سے واقف تھا مگر اس کے باوجود اس نے یہ جرم کیا اور مقدمے کے دوران بھی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔
جج نے کہا کہ 65 سال کی عمر میں بھی ملزم کی ہوس ختم نہیں ہوئی بلکہ خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی، ملزم نے جو کچھ بھی کیا، وہ بے خوفی، انتہائی تشدد اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر کیا، کیونکہ اسے پہلے کے تجربے سے یقین تھا کہ اگر اس پر عدالت میں مقدمہ بھی چلے تو اس کے خلاف کچھ نہیں ہو گا۔
پولیس کے مطابق چند روز قبل عدالت نے ملزم کو اغواء، چھیڑ چھاڑ، زیادتی اور قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوس ناک واقعہ یکم مئی کو پونے میں پیش آیا تھا، تحقیقات کے مطابق بھیم راؤ کامبل نے 3 سالہ بچی کو کھانے پینے کی چیزوں کا لالچ دیا اور اسے ایک نومولود بچھڑا دکھانے کا بہانہ بنا کر اپنے ساتھ مویشیوں کے باڑے میں لے گیا جہاں اس نے بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق بچی کے لاپتہ ہونے پر اس کے اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی مگر بعد میں اس کی لاش برآمد ہوئی، پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے جن میں ملزم بچی کو اپنے ساتھ لے جاتا ہوا نظر آیا، اسی ویڈیو کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کی شناخت کی اور اسے گرفتار کیا تھا۔


















































































