
بشری بی بی ۔۔۔۔۔ حقائق اور مفروضے
کیا کچھ ٹھکرایا ، کیا کچھ پایا ؟
زندگی کے نشیب و فراز ، سچائی تلخی اور مشکلات کا پہاڑ ؟

آزمائش اور امتحان ، یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے اس کی دعوت خود دی یا سب کچھ ہونا طے تھا ؟ قید و بند اور سزاؤں کے پس پردہ عوامل کیا تھے ؟ آگے کیا ہوگا ؟

اہم تفصیلات اور چونکا دینے والے انکشافات پر مبنی خصوصی رپورٹ
coming soon

**شادی سے پہلے کا پس منظر اور نکاح**
بشریٰ بی بی، جن کا تعلق ایک مذہبی اور روحانی پس منظر سے تھا، عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں۔ ان کی پہلی شادی کھاور مانیکا سے ہوئی تھی، جن سے ان کے پانچ بچے ہیں۔ 2017 میں طلاق کے بعد، بشریٰ بی بی نے 2018 میں ایک سادہ تقریب میں عمران خان سے شادی کر لی ۔ تاہم، یہ شادی اپنے ساتھ ایک قانونی تنازعہ لے کر آئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ یہ شادی عدت (طلاق کے بعد کا انتظاری عرصہ) کے دوران ہوئی تھی، جس کی وجہ سے بعد میں انہیں “غیر قانونی شادی” کے الزام میں سزا سنائی گئی ۔
**سیاسی عروج اور پہلی قانونی مشکلات**
عمران خان کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دینے کے دوران، بشریٰ بی بی نے ایک خاموش اور پردہ نشین خاتون اول کے کردار کو برقرار رکھا۔ تاہم، 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور ان کی گرفتاری کے بعد، بشریٰ بی بی کی زندگی کا رخ یکسر بدل گیا۔ انہوں نے خود کو اپنے شوہر کے ساتھ قانونی چارہ جوئی اور سیاسی مقدمات کی زد پر پایا۔ فروری 2024 میں، عدالت نے انہیں غیر قانونی شادی کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ اپنے شوہر کے ہمراہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہو گئیں ۔
**جیل کی زندگی اور قیادت کا کردار**
جیل میں قید کے دوران، بشریٰ بی بی کا کردار صرف ایک قیدی سے بڑھ کر ایک سیاسی علامت میں تبدیل ہو گیا۔ جیل کی سخت حالات میں بھی، انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ڈی فیکٹو لیڈر کے طور پر ابھر کر پارٹی کو متحد رکھنے اور عمران خان کی رہائی کے لیے عوامی تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ نومبر 2024 میں، انہوں نے عمران خان کی رہائی کے لیے ہونے والے بڑے مظاہروں میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر کتنے متحرک ہیں۔ اسی دوران، ان پر علیحدہ کرپشن کیس میں بھی سزائیں سنائی گئیں، جنہیں انہوں نے سیاسی ایذا رسانی قرار دیا ۔
**قانونی کشمکش اور مستقبل**
بشریٰ بی بی کا عدالتی سفر اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف جولائی 2024 میں ان کی غیر قانونی شادی کی سزا کو اپیل کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا، وہیں دوسری جانب انہیں کرپشن کے دیگر مقدمات میں گرفتار کیا جاتا رہا اور ضمانت بھی ملی ۔ ان کی جیل کی زندگی اور قانونی جدوجہد پاکستان کی پیچیدہ سیاست کا آئینہ دار ہے، جہاں وہ ایک روحانی پیشوا سے سیاست کی ایک اہم شخصیت بن گئی ہیں، اور ان کا مستقبل اب بھی عدالتوں کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے ۔
=======================
190 ملین پاؤنڈ کیس: بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے فیصلہ چیلنج کر دیا
بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا، درخواست قابلِ سماعت مان کر بھی کیس کے نکات نظر انداز کیے گئے، دورانِ قید بینائی کا عارضہ لاحق ہوا، علاج کے لیے جیل سے باہر منتقل کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو شدید صحت مسائل کے باوجود رہائی نہ دینا ناانصافی ہے، تنہائی میں قید سے دونوں کو غیر معمولی ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، سزا معطلی کی درخواست جان بوجھ کر مؤخر کی جاتی رہی، ٹرائل کے دوران ضمانت مل چکی تھی، الزام بے بنیاد قرار دے دیے گئے تھے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی پر فیصلہ کرتے ہوئے مقدمے کے نکات دیکھنا قانونی طور پر ممکن ہے، شواہد کا ابتدائی جائزہ لیے بغیر درخواست مسترد کرنا غلط تھا، نیب نے بار بار التواء لے کر اپیل کو طول دیا اور انصاف میں تاخیر پیدا کی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری کا طریقۂ کار غیر قانونی اور غیر ذمے دارانہ تھا، غیر قانونی گرفتاری پر اعلیٰ عدالت نے رہائی کا حکم دیا تھا، احتساب کے نام پر سیاسی بنیادوں پر کارروائی کی گئی، نیب قوانین میں ترمیم سے حتمی اپیل آئینی عدالت کو سننے کا اختیار دیا گیا، اپیل میں آئینی عدالت جانے کا ذکر موجود نہیں، سزا معطلی کی اپیل سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہے۔
درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے کر سزا معطل کی جائے اور رہائی کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانئ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیلیں خارج کی تھیں۔


















































































