
بلوچستان کا سیاسی منظر نامہ ۔
کہاں پر کس کا پلڑا بھاری ؟
سرداری قبائلی سسٹم کتنا مضبوط کتنا طاقتور ؟
عوام کتنے باشعور کتنے خود مختار ؟
بلوچستان میں زندگی کتنی محفوظ اور سفر کتنا پرخطر ؟
اہم تفصیلات منظر عام پر ۔۔۔۔۔۔۔
special report-coming soon
**پیش نظر**
پاکستان حکومت 2026ء اور اس کے بعد کے سالوں میں بلوچستان کے حوالے سے ایک واضح اور دو رخی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کا مرکز امن، ترقی اور عوامی فلاح ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ان کا حل اجتماعی کوششوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شراکت سے ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت اس صوبے کو قومی ترقی کا سنگ بنیاد سمجھتی ہے اور معاشی استحکام، عوامی بہبود اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
**امن و استحکام اور انسدادِ دہشت گردی**
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی سکیورٹی فورسز بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق، 2022ء سے اب تک تقریباً 4,000 سکیورٹی اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو چکے ہیں جو اس جدوجہد میں قوم کی قربانیوں کا مظہر ہیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی سرگرمیاں بلوچستان میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ہیں، اور اس ضمن میں افغان حکام کو تحریری یقین دہانی کی شرط پر معاونت کی پیشکش بھی کی گئی ۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈے اور بیرونی سپانسر شدہ دہشت گردی سے روکا نہیں جا سکتا اور عوام کی حمایت سے ہر قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا ۔
**معاشی ترقی اور انفراسٹرکچر**
معاشی محاذ پر بلوچستان کو ترقیاتی منصوبوں میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں صوبے کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ایم-8 موٹروے، جو گوادر بندرگاہ کو راٹوڈیرو سے ملاتی ہے، کی تعمیر کو اولین ترجیح دی گئی ہے اور اس کے مختلف حصے مکمل ہو چکے ہیں ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی-کوٹہ-چمن روڈ کی چار لین میں توسیع کے لیے 300 ارب روپے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، جس سے صوبے میں رابطوں میں بہتری آئے گی ۔ اس کے علاوہ، صوبائی حکومت نے 1,089 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں 5,000 نئی نوکریاں پیدا کرنے اور صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے ۔
**سیاسی ہم آہنگی اور مفاہمت**
بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی ہم آہنگی کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کے کوئٹہ کے دورے کے دوران، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جسے جمہوری پختگی اور قومی مفاد کو فوقیت دینے کی علامت قرار دیا گیا ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور تعمیری مشغولیت پر یقین رکھتی ہے، اور تمام جائز مطالبات کو آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے ۔
**وسائل کی منصفانہ تقسیم اور خودمختاری**
حکومت بلوچستان کو وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت رواں مالی سال کے دوران صوبے کو 771 ارب روپے کی منتقلی متوقع ہے، جس سے صوبائی مالیات کو مضبوطی ملے گی ۔ وزیراعظم نے 2010ء کے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کو 175 ارب روپے کا رضاکارانہ حصہ دیا تھا اور نئے ایوارڈ پر بھی کام جاری ہے ۔ اگرچہ اپوزیشن فنڈز میں کمی کا الزام لگاتی ہے، حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ صوبے کے وسائل کے تحفظ اور اس کی خودمختاری کے لیے کوشاں ہے ۔ وزیر دفاع کے مطابق، دیرپا استحکام کے لیے تجارتی راہداریوں اور ٹرانزٹ ٹریڈ روٹس کو فروغ دیا جا رہا ہے جس سے براہ راست عوام کو فائدہ پہنچے گا ۔
**مستقبل کی حکمت عملی اور عزم**
مستقبل میں، حکومت بلوچستان میں عوام مرکوز طرزِ حکمرانی، جامع ترقی، اور سکیورٹی کے شعبے میں بہتری کے ذریعے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے ۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی قیادت میں سول اور ملٹری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو ملکی مسائل کے حل کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔ حکومت کا موقف ہے کہ انہی کوششوں سے بلوچستان نہ صرف امن و استحکام کا مرکز بنے گا بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا، اور عوام کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا ۔


















































































