استحکام پاکستان پارٹی کیسے بنی ؟ کن کے لیے بنی ؟

استحکام پاکستان پارٹی کیسے بنی ؟ کن کے لیے بنی ؟
سیاست میں علیم خان کے نشیب و فراز کی کہانی ، جیوے پاکستان کی زبانی ۔

گلگت میں اس پارٹی کا نیا جنم کیسے ہوا ؟
اہم تفصیلات منظر عام پر ۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان انتخابات میں کامیاب چاروں آزاد امیدوار استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوگئے۔ آزاد اراکین نے وفاقی وزیر علیم خان سے ملاقات کے موقع پر پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

آئی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں جی بی اے 23 گانچھے سے انور علی، جی بی 24 گانچھے 3 سے اسد شفیق اور جی بی اے 15 دیامر سے محمد دلپذیر اور جی بی اے 21 غذر 3 سے امان علی شامل ہیں جو استحکام پاکستان پارٹی شامل ہوئے ہیں۔

دریں اثنا دلپذیر خان نے کہا کہ ہم چاروں امیدواروں نے گروپ بنا کر آئی پی پی میں شمولیت اختیار کی۔ ہم دیگر آزاد اور ایم ڈبلیو ایم کے امیدواروں سے بھی رابطے میں ہیں۔

دلپذیر خان نے کہا کہ دیگر امیدواروں کو بھی آئی پی پی میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔ جی بی اسمبلی میں دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھریں گے۔

عبدالعلیم خان کا کیریئر ایک کاروباری شخصیت سے وفاقی وزیر بننے تک کا ایک منفرد اور متنازع سفر ہے۔ انہوں نے اپنے کاروباری سلسلے کا آغاز بطور ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کیا، جس میں وژن گروپ کے تحت ‘پارک ویو سٹی’ جیسے منصوبے شامل ہیں۔ یہ منصوبہ لاہور اور اسلام آباد میں قائم کیا گیا اور اس نے پاکستان کی معروف رئیل اسٹیٹ برانڈز میں جگہ بنائی ۔ اس کاروباری بنیاد نے انہیں نہ صرف مالی طور پر مضبوط کیا بلکہ معاشی اور سیاسی حلقوں میں بھی ایک اہم مقام بخشا، جس کی بدولت وہ مختلف ادوار میں صوبائی اور وفاقی سطح پر اہم وزارتوں تک پہنچے۔

ان کا سیاسی سفر بھی مختلف اتار چڑھاؤ کا حامل رہا ہے۔ وہ 2002 میں مسلم لیگ (ق) سے سیاست میں آئے اور صوبائی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی رہے۔ بعد ازاں 2012 میں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 2018 میں صوبائی وزیر بنے ۔ سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے میڈیا کی دنیا میں بھی قدم رکھا اور 2021 میں پاکستان کے معروف نیوز چینل ‘سماء ٹی وی’ کو حاصل کیا، جسے ریگولیٹری اور حکومتی اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جاتا ہے ۔

ان کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ شدید تنازعات بھی جڑے ہوئے ہیں، خاص طور پر ان کے رئیل اسٹیٹ کاروبار سے متعلق۔ 2019 میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ۔ مزید برآں، پارک ویو سٹی کے حوالے سے یہ الزامات لگے کہ یہ منصوبہ ریاستی زمین اور دریائے راوی کے ماحولیاتی طور پر حساس علاقے پر بنایا گیا ہے، جسے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے غیر قانونی اور غیر محفوظ قرار دیا ۔ حالیہ سیلاب میں اس سوسائٹی کے ڈوبنے کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ۔

تاہم، ان کے خلاف قانونی کارروائیاں اکثر غیر معمولی طور پر ختم ہوتی دکھائی دیں۔ 2022 میں نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد، ان کے خلاف متعدد تحقیقات، خاص طور پر زمین پر قبضے سے متعلق کیس، کو بند کر دیا گیا ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ میڈیا چینل کی خریداری نے انہیں قانونی چارہ جوئی اور عوامی تاثر پر اثر انداز ہونے کا ایک ہتھیار فراہم کیا، جس سے ان کی راہ ہموار ہوئی اور وہ آخر کار 2024 میں وزیر مواصلات اور نجکاری بنے ۔

اہم بات یہ ہے کہ علیم خان ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ وہ پارک ویو سٹی کو اپنی خاندانی جائداد اور جذبے سے منسلک منصوبہ قرار دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ زمین انہوں نے قانونی طور پر نجی مالکان سے خریدی اور اس کی تمام ضروری منظوریاں پہلے سے موجود تھیں ۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ رہائشیوں کو معاوضے کی پیشکش بھی کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان پر تنقید کی بجائے دیگر سیلاب متاثرین کی مدد کریں ۔ یہ کاروباری کامیابی، قانونی چیلنجز، سیاسی عروج، اور میڈیا کی ملکیت کا ملاپ علیم خان کے سفر کو پاکستان کی طاقت اور اثر و رسوخ کی پیچیدہ حرکیات کی ایک مثال بناتا ہے۔

علیم خان کی سیاسی جماعت، استحکام پاکستان پارٹی (IPP)، بھی ان کے سفر کا ایک اہم پہلو ہے جس نے قومی سیاست میں اپنی موجودگی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ یہ جماعت وفاقی اور پنجاب حکومت کی خارجی حمایت کرتی ہے، اس کا ایک واضح سیاسی ایجنڈا ہے جس میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز شامل ہے، جسے وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک عملی قدم قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، IPP نے گلگت بلتستان میں اپنی تنظیمی جڑیں مضبوط کی ہیں اور علاقائی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جہاں اس نے چار آزاد اسمبلی اراکین کو اپنے ساتھ ملا کر اپنی نمائندگی کو بڑھایا ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کی جانب سے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم اور تنظیم سازی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ 2026 میں ہونے والے انتخابات میں پارٹی نے ووٹ شیئر کے لحاظ سے تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے کا دعویٰ کیا، حالانکہ اسے کوئی براہ راست نشست حاصل نہیں ہوئی تھی۔ تاہم، بعد ازاں چار آزاد اراکین کی شمولیت نے پارٹی کو گلگت بلتستان اسمبلی میں اپنی پہلی نمائندگی دی ہے۔ علیم خان نے اس علاقے کو “پاکستان کا سوئٹزرلینڈ” بنانے کے وژن کا اظہار کیا ہے اور سیاحت، بنیادی ڈھانچے، اور روزگار کے مواقع کو ترجیح دینے کا عزم کیا ہے، جس سے ان کی جماعت کے وسیع تر سیاسی عزائم کا پتہ چلتا ہے۔
=================

سردار تنویر الیاس کو استحکام پاکستان پارٹی میں اہم عہدہ مل گیا
اسلام آباد (4 جولائی 2026): حالیہ ہی میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس
اسلام آباد (4 جولائی 2026): حالیہ ہی میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس کو پارٹی میں اہم عہدہ مل گیا۔

سردار تنویر الیاس کو استحکام پاکستان پارٹی کشمیر کا صدر، جبکہ نثار عنصر ابدالی کو جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا گیا۔

گزشتہ روز سردار تنویر الیاس نے وفاقی وزیر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان سے ملاقات کر کے ساتھیوں سمیت سیاسی جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور اہم شخصیات استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر زراعت چوہدری علی شان سونی بھی آئی پی پی میں شامل ہوئے، جبکہ سابق وزیر صحت انصار ابدالی نے بھی شمولیت اختیار کی۔

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کے سابق مشیر سردار افتخار رشید بھی آئی پی پی کا حصہ بنے، عبدالعلیم خان نے سردار تنویر الیاس اور ان کے ساتھیوں کا خیر مقدم کیا۔ شمولیت اختیار کرنے والوں نے وفاقی وزیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔