میئر کراچی بن کر زندگی پر لطف ہو جاتی ہے یا ذمہ داریاں ،فیملی ٹائم بھی چھین لیتی ہیں ؟

میئر کراچی بن کر زندگی پر لطف ہو جاتی ہے یا ذمہ داریاں ،فیملی ٹائم بھی چھین لیتی ہیں ؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا میئر ہونا کتنے اعزاز اور فخر کی بات ہے ٹھیک ہے ؟
دنیا کے بڑے شہروں کے میئر کتنے طاقتور اور کتنے مقبول ہیں ؟

مرتضی وہاب سے عوام کی توقعات کیا ہیں ؟
ان کے اقدامات اور کارکردگی کو لوگ کس انداز سے دیکھتے ہیں ؟

خود میئر کراچی کے خیالات کیا ہیں وہ شہر کے لیے کیا کچھ کرنا چاہتے ہیں ؟
خصوصی رپورٹ

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی کامیابیاں اور چیلنجز

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی قیادت میں شہر کی ترقی اور عوامی خدمت کے حوالے سے نمایاں اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں بلا تفریق ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے . ان کی ایک بڑی کامیابی کورنگی میں 23 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے سڑکوں اور نکاسی آب کے جدید منصوبوں کا اجراء ہے، جس کے تحت 300,000 مربع فٹ کنکریٹ بلاکس بچھائے جا رہے ہیں اور 110 نئے مین ہول تعمیر کیے جا رہے ہیں . اسی طرح شہر کے 106 سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے اور پرانے شہر کے بازاروں کی بحالی کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے کراچی کے تاریخی ورثے کو بھی تحفظ مل رہا ہے .

میئر مرتضیٰ وہاب کی سب سے بڑی کامیابی پانی کی فراہمی کے نظام میں انقلابی بہتری ہے۔ نئی حب نہر کی تکمیل شہر کی پانی کی فراہمی میں نمایاں اضافے کا باعث بنی ہے، جسے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کھولا . اس کے علاوہ کے-4 منصوبے پر تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے اور پانی کی صفائی کے پلانٹس کی بحالی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ ماحولیاتی طور پر پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے . انہوں نے صحت عامہ کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا ہے، جہاں کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں کیتھ لیب کی بحالی کے بعد گزشتہ ایک سال میں 3,000 سے زائد ہارٹ سرجریز اور 240 انجیو پلاسٹیز کی گئیں، اور اب مفت لیبارٹری کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے .

ان کامیابیوں کے باوجود میئر وہاب کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم بلدیاتی اختیارات کی محدودیت ہے۔ میئر کے مطابق وہ کراچی کے صرف 27.4 فیصد حصے پر اختیار رکھتے ہیں، جبکہ بقیہ 72.6 فیصد رقبہ وفاقی اداروں، کینٹونمنٹ بورڈز اور صوبائی اتھارٹیز کے کنٹرول میں ہے . اس صورتحال میں میئر شہر کے بنیادی مسائل جیسے پولیسنگ، ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے انہیں “علامتی میئر” کہا جاتا ہے . میئر کی ایک اور بڑی تشویش وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کو نظر انداز کرنا ہے، جہاں انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اس کی معاشی اہمیت کے مطابق وسائل فراہم کیے جائیں، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ 20 ارب روپے تو “لالی پاپ” کے مترادف ہیں اور 200 ارب بھی شہر کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں .

میئر وہاب کو سیاسی مخالفت اور شدید تنقید کا بھی سامنا ہے، خاص طور پر جماعت اسلامی کی طرف سے، جو انہیں کارکردگی میں ناکام قرار دیتی ہے۔ جماعت اسلامی کے یوسی چیئرمینز کا کہنا ہے کہ میئر حقیقت کو مسخ کرکے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور شہر بھر میں کوڑا کرکٹ، ٹوٹی سڑکیں اور نکاسی آب کے سنگین مسائل موجود ہیں . ایک اور سنگین چیلنج حالیہ مین ہول کے واقعے کے بعد سامنے آیا، جہاں ایک 8 سالہ بچے کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر میئر کے خلاف شدید احتجاج ہوا اور اپوزیشن نے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا . میئر کا کہنا تھا کہ معاملے کو سیاست نہ بنایا جائے، لیکن ان کے اس موقف کو ناقابل قبول قرار دیا گیا اور ان پر بنیادی ذمہ داریوں میں غفلت کا الزام عائد کیا گیا .

باوجود تمام چیلنجز کے، میئر مرتضیٰ وہاب نے شہر کی بہتری کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے اور عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ انہوں نے 2026 کو کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا ہے اور 67 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس میں 1000 سے زائد ترقیاتی اسکیموں کی تکمیل شامل ہے . شہر کے مختلف اضلاع میں سڑکوں، پلوں، انڈر پاسز اور نکاسی آب کے جدید نظام کی تعمیر جاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شہر کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں . انہوں نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس اختیارات نہیں تو وہ نہیں مانتے، لیکن وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے پرعزم ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ کراچی کے مسائل حل کیے جا سکیں .

============================

جو سڑکیں کے ایم سی کے ماتحت نہیں، وہ بھی بنائیں گے: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کا متوازن اور ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے، کراچی کے تمام اضلاع میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہیں، انفرا اسٹرکچر، سڑکوں، پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر و بحالی جاری رہے گی، جبکہ ایسی سڑکیں جو کے ایم سی کے ماتحت نہیں ہیں انہیں بھی بنایا جائے گا۔

سٹی کونسل اجلاس میں بجٹ پیش کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے ساڑھے گیارہ ہزار ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کر دی گئی، ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن کارڈ متعارف کروانے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی ترجیحات میں کراچی کی خدمت شامل ہے، پیپلز پارٹی کو بلدیاتی سطح پر پہلی مرتبہ خدمت کا موقع ملا ہے۔

میئر کراچی نے مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں شہری مسائل کے حل، انفرااسٹرکچر کی بحالی، ملازمین کی فلاح اور ماحول دوست منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کراچی کے انفرااسٹرکچر میں دلچسپی نہیں رکھتے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کی تعمیر و ترقی، انفرااسٹرکچر کی بحالی، سڑکوں، پلوں اور فلائی اوورز کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، ایسے علاقوں میں بھی ترقیاتی کام کیے گئے اور آئندہ بھی کیے جائیں گے جو کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں 31 لاکھ 92 ہزار اسکوائر فٹ پیچ ورک مکمل کیا گیا، ایک کروڑ 23 لاکھ 31 ہزار اسکوائر فٹ پیور بلاکس لگائے گئے، 99 ہزار 450 اسکوائر فٹ فٹ پاتھ تعمیر و بحال کیے گئے۔ نرسری فلائی اوور، جناح برج اور شہید ملت روڈ کی تعمیر و بحالی مکمل کر لی گئی، عظیم پورہ فلائی اوور صرف 93 روز میں مکمل کیا گیا، اسٹون سرکل کی بھی تزئین و آرائش کی گئی۔

تاریخی ورثے اور شہری خوبصورتی سے متعلق بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ، ڈینسو ہال اور دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی مکمل کی گئی، شہر کے تاریخی ورثے اور انفرااسٹرکچر کی بہتری سے شہری مستفید ہو رہے ہیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ مختلف پارکس، کھیل کے میدانوں اور اربن فاریسٹ منصوبوں پر کام جاری ہے، تقریباً پونے پانچ ایکڑ رقبے پر پارکس کی بحالی مکمل کی گئی، لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کو 30 سال بعد عوام کے لیے بحال کیا گیا، ضلع غربی میں نئے اسپورٹس کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا گیا، شاہراہ بھٹو پر ایک لاکھ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جن میں سے تقریباً 10 ہزار پودے لگائے جا چکے ہیں، شہید بےنظیر بھٹو پارک میں 5 ہزار مینگروز لگانے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کے تمام اثاثوں کی جی آئی ایس میپنگ اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کی جائے گی، کے ایم سی ہیڈ آفس میں 150 کلوواٹ سولر سسٹم نصب کیا گیا، مختلف محکموں کے لیے نئی ہیوی گاڑیاں اور 20 الیکٹرک بائیکس فراہم کی گئیں، نئی گاڑیاں پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدی گئیں، ڈیوٹی گاڑیوں کے لیے 110 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی میں 25 سال بعد تنخواہیں ہر ماہ بروقت ادا کی جا رہی ہیں، اب ملازمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے پہلے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ریٹائرڈ ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی کو ترجیح دی گئی ہے، کوشش کی جائے گی کہ نئے مالی سال میں بقایاجات ادا کیے جائیں، حکومت سندھ سے اضافی فنڈز کی درخواست کی جائے گی، فائر بریگیڈ ملازمین کو 24 سال بعد ٹائم اسکیل دیا گیا، لائف گارڈز کو کئی برس بعد ترقی دی گئی، دہری تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں اور ہاؤس آفیسرز کے بقایاجات ادا کر دیے گئے، حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔

میئر کراچی نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال، کے آئی ایچ ڈی اور اسپنسر آئی اسپتال میں جدید طبی سہولیات فراہم کی گئیں، میوہ شاہ انسینیریشن پلانٹ بحال کر دیا گیا، جہاں طبی اور صنعتی فضلہ تلف کیا جائے گا۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی ملک کا پہلا شہر بن گیا جہاں میونسپل بانڈز جاری کیے گئے، کے ایم سی کی 32 چارجڈ پارکنگ سائٹس پر پارکنگ فیس ختم کر دی گئی، کراچی چڑیا گھر، سفاری پارک اور دیگر تفریحی مقامات کی بہتری پر بھی کام جاری ہے۔

اجلاس میں رینجرز کے کیمپ میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی۔
========================

================

مئیر کراچی نے شہید بے نظیر بھٹو پارک میں تمر کی شجرکاری کا افتتاح کردیا

مئیر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہید بے نظیر بھٹو پارک کلفٹن میں تمر کی شجرکاری کا افتتاح کردیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مئیر کراچی نے کہا کہ کیماڑی کے علاقے میں بائیو ڈائیورسٹی پارک کا نومبر 2026 سے پہلے افتتاح کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پارک میں بھی اس سرگرمی کو آگے لے جانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں پانچ ہزار سے زائد مینگروز کے درخت لگائیں گے۔ گٹر باغیچہ ہارون آباد سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کو 30 جون کو آپریشنل کرنے جا رہے ہیں۔ 31 دسمبر 2026 میں 100 ایم جی ڈی پلانٹ کو ایکٹیویٹ کر کے دیں گے۔

میئر کراچی نے کہا کہ ماڑی پور ٹریٹمنٹ پلانٹ سے 54 ایم جی ڈی پانی ٹریٹ ہوگا۔ مائی کولاچی پر ٹی پی فائیو بننا ہے جسے کراچی پورٹ ٹرسٹ کو بنانا تھا۔ گزشتہ دنوں کے پی ٹی چیئرمین سے اس بات پر اتفاق ہوا کچھ تجاوزات اور غیر قانونی الاٹمنٹ کو ختم کرنا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ راشد منہاس پر الہ دین پارک کو فاریسٹ میں تبدیل کریں گے۔ پچاس ایکڑ زمین ہے جس کو استعمال میں لایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو یہ بات ناگوار گزری گلگت بلتستان کے مینڈیٹ میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی وفاقی حکومت کوشش کر رہی ہے ۔گلگت بلتستان میں حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی بنے گی۔