پہلے قانون دان پھر سیاست دان اور اب گورنر سندھ ۔۔۔نہال ہاشمی کی کہانی ، جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی ۔

پہلے قانون دان پھر سیاست دان اور اب گورنر سندھ ۔۔۔نہال ہاشمی کی کہانی ، جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی ۔

ایک ذہین بہادر باصول اور وفادار انسان کے کیریئر پر ایک نظر

**۱۔ تعارف اور سیاسی سفر کا آغاز**
سندھ کے ۳۵ویں گورنر سید نہال ہاشمی کا سیاسی سفر قانون، جماعتی وفاداری اور مشکلات کے خلاف استقامت کی ایک بہترین داستان ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والے اور وکالت کو پیشہ بنانے والے نہال ہاشمی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفادار رہنما ہیں۔ ان کا عروج قانون اور سیاست کے پیچیدہ راستوں کو سمجھنے اور ان پر عبور حاصل کرنے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز ۱۹۹۲ میں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت سے کیا اور اپنی محنت اور قانونی مہارت کی بدولت جلد ہی پارٹی میں اہم مقام حاصل کر لیا۔

**۲۔ بطور وکیل پیشہ ورانہ شناخت**
نہال ہاشمی کی پہچان ایک ماہر آئینی اور فوجداری وکیل کے طور پر ہے۔ انہوں نے ۱۹۸۰ کی دہائی کے آخر میں قانون کی پریکٹس شروع کی اور “نہال ہاشمی لا ایسوسی ایٹس” کے منیجنگ پارٹنر کے طور پر متعدد ہائی پروفائل مقدمات لڑے، جن میں مرحوم مرتضیٰ بھٹو کا قتل کیس اور نیب کے سامنے نواز شریف کے مقدمات شامل ہیں۔ ایک سخت گیر اور بےباک وکیل کے طور پر ان کی شہرت تھی اور وہ عوامی مفاد کے مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں غیر رسمی طور پر “مسٹر پٹیشنر” بھی کہا جاتا تھا۔

**۳۔ پارٹی میں عہدے اور سینیٹ کا سفر**
ان کی قانونی صلاحیتوں کو سیاسی میدان میں بھی سراہا گیا۔ ۱۹۹۷ سے ۱۹۹۹ تک وہ وزیراعظم نواز شریف کے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے مشیر رہے، جس نے انہیں پارٹی کا انتہائی معتمد رہنما ثابت کیا۔ ۲۰۱۲ میں وہ مسلم لیگ (ن) کراچی کے صدر اور ۲۰۱۴ میں سندھ کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ ان کے پارلیمانی کیرئیر کا اہم سنگ میل ۲۰۱۵ میں سینیٹ کا انتخاب تھا۔ چونکہ سندھ میں ان کی جماعت کو سیٹ نہیں مل سکی تھی، اس لیے پارٹی قیادت نے انہیں پنجاب سے سینیٹر بنوایا، جو ان پر اعتماد کا واضح ثبوت تھا۔

**۴۔ مشکلات اور عدالتی چیلنجز**
ہر کامیاب سفر میں مشکلات بھی آتی ہیں۔ ۲۰۱۷ میں ایک متنازعہ تقریر کے باعث نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے مقدمے میں ایک ماہ قید اور ۲۰۱۸ میں پانچ سال کے لیے عوامی عہدے سے نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ان کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج تھا، لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ ۲۰۲۱ میں ان کی پارٹی رکنیت بحال ہوئی اور وہ مسلسل مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں کام کرتے رہے۔ اس عرصے میں ان کی قانونی مہارت اور سیاسی بصیرت نے انہیں مشکل حالات میں بھی منظم رکھا۔

**۵۔ گورنر سندھ کے عہدے تک رسائی اور کامیابی**
ان کی اس استقامت کو آخر کار رنگ لایا۔ مارچ ۲۰۲۶ میں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں سندھ کا گورنر نامزد کیا اور صدر آصف علی زرداری نے ان کی تعیناتی کی منظوری دی۔ اس طرح وہ نہ صرف ایک قانونی اور پارلیمانی سفر کے بعد سندھ کے سب سے اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز ہوئے بلکہ انہوں نے ثابت کیا کہ محنت، وفاداری اور قانون کی گرفت کو سمجھنے والا سیاستدان کسی بھی چیلنج کو کامیابی میں بدل سکتا ہے۔ آج وہ ایک کامیاب وکیل، سابق سینیٹر اور موجودہ گورنر کے طور پر پاکستان کی سیاست میں ایک مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔