بینکنگ کی دنیا کے دوستو ، یاد رکھو ، اگر آپ HBL سے وابستہ ہیں تو ایک دن آپ پاکستان کے وزیر خزانہ بھی بن سکتے ہیں ۔

بینکنگ کی دنیا کے دوستو ، یاد رکھو ،
اگر آپ HBL سے وابستہ ہیں تو ایک دن آپ پاکستان کے وزیر خزانہ بھی بن سکتے ہیں ۔

محمد اورنگزیب کا HBL سے لے کر پاکستان کا وزیر خزانہ بننے تک کا سفر ۔

ایک سچی اور شاندار کہانی ، جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

==========================

محمد اورنگزیب کا بینکر سے پاکستان کا وزیر خزانہ بننے کا سفر ایک غیر معمولی کہانی ہے جو محنت، مہارت اور قومی خدمت کے جذبے کی عکاس ہے۔ مارچ 2024 میں انہوں نے 35 سالہ کامیاب بینکاری کیریئر کو خیرباد کہہ کر ملک کی معاشی باگ ڈور سنبھالی ۔ وہ ایک ایسے وقت میں وزیرخزانہ بنے جب پاکستان شدید معاشی چیلنجز سے دوچار تھا اور ان کا نامزد ہونا اس بات کا اشارہ تھا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہے ۔

ان کا بینکاری کیریئر غیر معمولی طور پر وسیع اور کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پاکستان اور نیویارک میں سٹی بینک سے کیا، پھر اے بی این ایمرو بینک میں بطور کنٹری مینیجر اور ایمسٹرڈیم میں عالمی سطح پر قرضہ جات کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے ۔ اس کے بعد وہ سنگاپور میں آر بی ایس اور پھر جے پی مورگن کے ایشیا پیسیفک علاقے کے کارپوریٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بنے ۔ 2018 میں وہ پاکستان کے سب سے بڑے بینک، حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کے صدر اور سی ای او مقرر ہوئے ۔

ایچ بی ایل میں ان کا دور بے مثال کامیابیوں کا حامل تھا۔ جب انہوں نے بینک کی باگ ڈور سنبھالی تو بینک کو امریکہ میں 225 ملین ڈالر کے جرمانے جیسے چیلنجز کا سامنا تھا، لیکن ان کی دانشمندانہ قیادت میں بینک نے نہ صرف بحالی کی راہ اختیار کی بلکہ ریکارڈ منافع کمایا ۔ ان کے دور میں بینک کے گاہکوں کی تعداد 2018 میں 12 ملین سے بڑھ کر دسمبر 2023 تک 36 ملین ہوگئی ۔ انہیں 2018 میں وال سٹریٹ جرنل اور ڈاؤ جونز گروپ کی جانب سے گلوبل سی ای او کونسل کی خصوصی رکنیت کی دعوت دینے والا واحد پاکستانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔

وزیرخزانہ بننے کے بعد انہوں نے اپنی ڈچ شہریت اور ایچ بی ایل کی 30 ملین روپے ماہانہ تنخواہ کو قربان کر کے قومی خدمت کا مظاہرہ کیا ۔ ایک سیاسی شخصیت نہ ہونے کے باوجود انہوں نے سینیٹ کا انتخاب جیت کر اپنی وزارت کو آئینی جواز فراہم کیا ۔ ماہرین معیشت کے مطابق ان کا عالمی تجربہ اور سیاسی بیانیے سے دوری پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور معاشی اصلاحات میں مدد دے سکتی ہے ۔ اگرچہ ان کے سامنے مہنگائی، قرضوں اور ٹیکسوں جیسے پہاڑ جیسے چیلنجز ہیں، لیکن ان کا بینکاری کا شاندار سفر اور قومی خدمت کا عزم اس مشکل راہ پر گامزن ہونے کا حوصلہ دیتا ہے ۔
=========================


اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہےکہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور ہم معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے۔

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ کم تنخواہ دار طبقے کو زیادہ ریلیف ملے، تنخواہ پر 5 فیصد ٹیکس کو ایک فیصد کیا اور 15 فیصد کو 13 فیصد کیا جب کہ بڑی تنخواہوں اور سرچارج اقدامات پر ہمیں اچھا فیڈ بیک ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں ٹیکسوں کو کم کیا ہے، زراعت پر ایگریکلچر کریڈٹ 15 فیصد بڑھی ہے، حجم 2 ٹریلین سے زیادہ ہے، زرخیزی اسکیم بہتر انداز سے آگے بڑھ رہی ہے، چھوٹے کسانوں کو اپنے گھر گروی رکھنے کے لیے نہیں کہا جائے گا، نوجوان قرض اسکیم کا حجم 262 ارب روپے ہے جس میں 125 ارب زراعت کے لیے ہے، زرعی شعبے کی مشینری باہر سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی صفرکر دی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹتے ہی مہنگائی بھی کم ہوجائے گی: وزیر خزانہ

وزیر خزانہ کاکہنا تھا کہ ہم معاشی ترقی کی طرف چل پڑے ہیں، اس سال معاشی لحاظ سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، ہم معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں ہم نے ٹیکس اور ایکسپورٹ کے نظام کےلیے کام کیا، 70 ارب روپے کی ایڈیشنل سبسڈی دی گئی ہے، بجٹ میں کوشش کی ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے قابل عمل اقدامات کیے جائیں، زرعی مشینری کے لیے کسٹم ڈیوٹیزکو ختم کردیاگیاہے، زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کا حجم 20ارب سے تجاوز کرگیا ہے، انرجی انفرا اسٹرکچر پر دباؤ ہے اور کچھ عرصہ آئندہ مالی سال بھی رہے گاْ

محمدا ورنگزیب نے کہا کہ صوبوں کی طرف سے مرکز کی امداد پر شکر گزار ہوں، یہ سہولت آئندہ تین مالی سال جاری رہے گی۔
=========================

آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کے مجموعی حجم کا حامل وفاقی بجٹ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جس میں اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، کم آمدنی والے طبقات، مہنگائی پر قابو پانے اور ہاؤسنگ و تعمیرات، زراعت و صنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اور کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10فیصد اضافہ کر دیاگیا ہے، بڑے تنخواہ داروں کیلئے ریلیف، دفاع کیلئے 3ہزار ارب، قرض ادائیگی کیلئے 8ہزار ارب روپے مختص، قرض ادائیگی وفاقی بجٹ کا 42.9فیصد ہڑپ کر جائیگی، بی آئی ایس پی کیلئے 838 ارب روپے مختص ، سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز، بیرون ملک سفر کیلئے بزنس کلاس پر ڈیوٹی ختم، جائیداد کی منتقلی پر وود ہولڈنگ ٹیکس فائلر کیلئے کم، کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی عالمی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس میں کمی، آزاد جموں و کشمیر کیلئے 146 ارب، گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے جبکہ ملکی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات (07) فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کےلیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15264ارب روپے ، نان ٹیکس ریونیو 5336ارب روپے مقرر کر دیاگیا ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کےلیے 8054ارب روپے، دفاع کےلیے 3ہزار ارب روپے ، سبسڈیز کےلیے 1091ارب روپے ، پنشن کی ادائیگی کےلیے 1169ارب روپے ، وفاقی ترقیاتی پروگرام کےلیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے838ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں اور گزشتہ برس کے مقابلے میں 17فیصد اضافہ کیاگیا ہے ،تنخواہ دار طبقے پر عائد 9فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیاگیا ہے جبکہ تنخواہ کے چار سلیب پر انکم ٹیکس میں بھی کمی کر دی گئی ہے، 22لاکھ روپے سے 32لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس 23فیصد سے کم کر کے 20فیصد ، 32لاکھ روپے سے 41لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس 30فیصد سے کم کرکے 25فیصد اور41لاکھ سے 56لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 35فیصد سے کم کر کے 29فیصد کر دی گئی اور 56لاکھ روپے 70لاکھ روپے تک تک سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کےلیے انکم ٹیکس کی شرح 35فیصد سے کم کرکے 32فیصد کر دی گئی ہے22لاکھ روپے سے کم کی سالانہ تنخواہ کے سلیب پر عائد انکم ٹیکس میں کمی نہیں کی گئی ، جائیداد کی خریدوفروخت پر عائد ٹیکس فائلرز کےلیے عائد ٹیکس میں کمی کر دی گئ ، جائیداد کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5فیصد سے کم کر کے 1.5فیصد اور جائیداد کی فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 5.5فیصد سے کم کر کے 2.5فیصد کر دیاگیا ہے ، بیرون ملک سفر کےلیے بزنس کلاس پر عائد ڈیوٹی ختم کر دی گئی ، خواتین کے سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کر دیاگیا ، بنکوں کے جاری کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال کی صورت میں ہر ٹرانزکشن پر عائد5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 0.5فیصدکر دیاگیا ہے، درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ گیا ہے جبکہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیرغور ہے، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100ارب روپے، سکھر حیدر آباد موٹروے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائیگی جبکہ ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام آئندہ سال شروع ہوگا جس کے لیے 25ارب مختص کیے ہیں۔