
ہمت مرداں ،مدد خدا
عابد لاشاری ، عزم و حوصلے کی روشن مثال
پوری دنیا میں وہ پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں






============================

عابد لاشاری نے افراد باہم معذوری کو عطیہ کردہ ٹرائی موٹر بائیک کے رجسٹریشن دستاویزات مستحقین کے حوالے کر دیے
نواب شاہ:
نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈاولپمنٹ فورم (NDF) پاکستان کے صدر، عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز نے افراد باہم معذوری کو عطیہ کردہ ٹرائی موٹر بائیکس کے سیل لیٹرز (رجسٹریشن دستاویزات) باضابطہ طور پر نجف علی اعوان، جمو خان جمالی، شبیر بروہی، پرویز علی لغاری، علی رضا ابڑو، جاوید علی سومرو، علی حسن کھوسو، زین العابدین اور مٹھل علی کے حوالے کیے تاکہ ان کی معاون سفری گاڑیوں کی قانونی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عابد لاشاری نے کہا کہ آزادانہ نقل و حرکت ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور معذور افراد کو بااختیار بنانے میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائی موٹر بائیکس معذور افراد کو خودمختاری کے ساتھ سفر کرنے، تعلیم، روزگار، صحت کی سہولیات اور دیگر سماجی سرگرمیوں تک باوقار رسائی فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائی موٹر بائیکس کی قانونی رجسٹریشن نہ صرف مستحقین کو محفوظ اور قانونی انداز میں سفر کرنے کے قابل بناتی ہے بلکہ ان کی خودمختاری، سماجی شمولیت اور باعزت زندگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عابد لاشاری نے محکمہ بااختیاری افرادِ باہم معذوری (DEPD)، حکومتِ سندھ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی مسلسل معاونت سے معذور افراد کو معاون سفری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے اور معاشرے میں ان کی شمولیت کو فروغ مل رہا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ NDF پاکستان حکومتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر معاون آلات، بحالی کی خدمات اور معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد باہم معذوری باوقار، خودمختار اور فعال زندگی گزار سکیں۔
=================
معاون آلات معذوری نہیں، صلاحیتوں کے دروازے کھولتے ہیں
تحریر: عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز

ہمارے معاشرے میں اکثر معاون آلات (Assistive Devices) کو معذوری کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ آلات بچوں اور بڑوں کی صلاحیتوں کو محدود نہیں کرتے بلکہ انہیں خودمختاری، وقار، اعتماد اور نئی امید فراہم کرتے ہیں۔
وہیل چیئر ہمت ہارنے کی علامت نہیں بلکہ آزادی کا ذریعہ ہے، جو ایک بچے کو اسکول جانے، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور بااعتماد انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔ اسی طرح واکر کمزوری کی نشانی نہیں بلکہ ایسا سہارا ہے جو بچے کو ایک ایک قدم چلتے ہوئے دنیا کو دریافت کرنے اور خود اعتمادی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اسٹینڈنگ فریم صرف بچے کو کھڑا ہونے میں مدد نہیں دیتا بلکہ جسمانی ساخت، ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی، بہتر صحت اور روزمرہ زندگی میں فعال شرکت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اسی طرح مواصلاتی آلات (Communication Devices) ایسے بچوں کو آواز دیتے ہیں جو بولنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے خیالات، احساسات، ضروریات اور خواب دوسروں تک پہنچا سکیں۔
ہر معاون آلے کا مقصد ایک ہی ہے: معذور افراد کی خودمختاری، اعتماد، سماجی شمولیت اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا۔ یہ آلات معذوری کی علامت نہیں بلکہ صلاحیت، مواقع، شمولیت اور بااختیار بنانے کی علامت ہیں۔
حکومتِ سندھ کے محکمہ بااختیاری افرادِ باہم معذوری (DEPD) نے معاون آلات کی فراہمی کے لیے 800 ملین روپے مختص کرکے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ یہ فنڈز صوبے بھر کی 105 غیر منافع بخش تنظیموں میں تقسیم کیے گئے ہیں تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے ان معذور افراد تک معاون آلات پہنچائے جا سکیں جو اب تک ان سہولیات سے محروم تھے۔ یہ اقدام سندھ میں معذور افراد کی شمولیت اور بااختیاری کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔
اس پروگرام نے ہزاروں بچوں اور بالغ معذور افراد کے چہروں پر خوشی کی مسکراہٹ بکھیر دی ہے اور ان کے خاندانوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ سندھ معذور افراد کو باوقار، خودمختار اور مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
محکمہ DEPD کے شراکت دار اداروں کی حیثیت سے نیشنل ڈس ایبلٹی اینڈ ڈوالپمنٹ فورم (NDF) اور پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن (PDSA) اس عظیم اقدام میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ٹرائی موٹر سائیکلز، ٹرائی سائیکلز، الیکٹرک وہیل چیئرز، مینوئل وہیل چیئرز، سی پی چیئرز، بیساکھیاں، سفید چھڑیاں، واکرز، سماعتی آلات اور دیگر معاون آلات مستحق افراد میں تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ معاون آلات معذور افراد کو تعلیم، روزگار، صحت، بحالی کی خدمات اور معاشرتی زندگی میں بھرپور شرکت کے قابل بنا رہے ہیں۔
تاہم صرف معاون آلات کی فراہمی کافی نہیں۔ ان کے ساتھ قابلِ رسائی عمارتیں، جامع تعلیم، مؤثر پالیسیاں، معیاری بحالی کی خدمات اور ایسا معاشرہ بھی ضروری ہے جو معذور افراد کے حقوق، صلاحیتوں اور وقار کو تسلیم کرے۔
ہمیں معاون ٹیکنالوجی میں مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ ہر وہ بچہ اور بالغ فرد جسے ان آلات کی ضرورت ہے، بروقت اور بلاامتیاز یہ سہولت حاصل کر سکے۔ حکومت، سول سوسائٹی، ترقیاتی شراکت دار، نجی شعبہ اور مقامی اداروں سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ معاون آلات ہر ضرورت مند تک پہنچیں۔
ہر بچے کو چلنے، سیکھنے، کھیلنے، بات چیت کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ ہر بالغ معذور فرد کو بھی روزگار، سفر، سماجی شرکت اور خودمختار زندگی گزارنے کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔
آئیے اپنا نقطۂ نظر بدلیں۔ معاون آلات معذوری کی نہیں بلکہ صلاحیت، خودمختاری، وقار، مساوی مواقع اور ایک جامع معاشرے کی علامت ہیں۔
==============================

پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن (PDSA) کی جانب سے ملیر، کراچی میں معذور افراد میں معاون آلات کی تقسیم
کراچی: پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن (PDSA) نے محکمہ بااختیار افرادِ باہم معذوری (DEPD)، حکومتِ سندھ کے تعاون سے نصرت ٹرسٹ ووکیشنل سینٹر، میمن گوٹھ، ضلع ملیر کراچی میں معاون آلات (Assistive Devices) کی تقسیم کی تقریب کا انعقاد کیا۔
تقریب کے دوران معذور افراد میں مختلف معاون آلات تقسیم کیے گئے جن میں ٹرائی موٹر بائیکس، ٹرائی سائیکلز، الیکٹرک وہیل چیئرز، مینوئل وہیل چیئرز، سی پی چیئرز، اسٹینڈیز، کموڈ چیئرز، واکرز، سماعتی آلات (Hearing Aids)، بیساکھیاں، سفید چھڑیاں اور دیگر نقل و حرکت میں معاون آلات شامل تھے۔
تقریب میں اعتبار علی برڑو، ایڈیشنل سیکریٹری DEPD، فرمان علی ٹانوری، ریجنل ڈائریکٹر DEPD کراچی ریجن، سمیر علی بلوچ، اسسٹنٹ کمشنر گڈاپ میمن گوٹھ، عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز، چیف ایگزیکٹو آفیسر PDSA، طارق حسین چنڑ، زین العابدین انصاری، انچارج نصرت ٹرسٹ ووکیشنل سینٹر اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاون آلات معذور افراد کی نقل و حرکت، خودمختاری اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث بہت سے معذور افراد ایسے آلات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اسی لیے حکومتِ سندھ محکمہ DEPD کے ذریعے ہر سال بجٹ مختص کرتی ہے تاکہ صوبہ بھر میں مستحق افراد کو یہ آلات مفت فراہم کیے جا سکیں۔
مقررین نے معذور افراد کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں مکمل اور باعزت شرکت کے مواقع فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
معاون آلات حاصل کرنے والے افراد نے DEPD، حکومتِ سندھ اور PDSA کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی، دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس اقدام کو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے والا قرار دیا۔
==========================

سماجی تنظیم AWHP حیدرآباد کی جانب سے عابد لاشاری تمغۂ امتیاز کے اعزاز میں شاندار استقبالیہ
حیدرآباد: ایسوسی ایشن آف ویلفیئر آف ہینڈی کیپڈ پرسنز (AWHP) حیدرآباد کی جانب سے عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز، صدر این ڈی ایف پاکستان کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب معذور افراد کی فلاح و بہبود اور بااختیاری کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔
اس موقع پر سعید خان (صدر AWHP)، متین خان (جنرل سیکریٹری) اور سینئر رکن نعیم احمد قریشی نے عابد لاشاری کی ان خدمات کو سراہا جو انہوں نے AWHP کے ابتدائی دنوں میں ادارے کی معاونت اور رہنمائی کے لیے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ عابد لاشاری ایک حقیقی رہنما ہیں جن کی معذور افراد کے حقوق، شمولیت اور فلاح کے لیے انتھک جدوجہد کو حکومتِ پاکستان نے اعلیٰ سول اعزاز تمغۂ امتیاز سے نواز کر قومی سطح پر تسلیم کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عابد لاشاری نے پرتپاک استقبال پر AWHP کے عہدیداران اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حیدرآباد اور گرد و نواح میں رہنے والے معذور افراد کی فلاح و بہبود اور بااختیاری کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمغۂ امتیاز کا حصول ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے، جو انہیں مزید محنت اور لگن کے ساتھ معذور افراد کے حقوق اور شمولیت کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
انجینئر انور علی سیال اور انجینئر خورشید احمد کھوکھر نے بھی این ڈی ایف پاکستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ سندھ بھر میں معذور افراد کے حقوق، بحالی کی سہولیات اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کر رہا ہے۔
=====================



حیدرآباد کی ممتاز شخصیات کا این ڈی ایف بحالی مرکز، قاسم آباد کا دورہ
حیدرآباد: حیدرآباد کی ممتاز شخصیات جن میں انجینئر اسد علی میمن، صفی اللہ میمن، ابرار میمن (اٹلی)، انجینئر انور علی سیال، اور انجینئر خورشید احمد کھوکھر شامل تھے، نے این ڈی ایف بحالی مرکز، قاسم آباد، حیدرآباد کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران عابد لاشاری، تمغۂ امتیاز، صدر این ڈی ایف پاکستان نے معزز مہمانوں کو ڈاؤن سنڈروم، آٹزم اور دیگر ذہنی و فکری معذوریوں کا شکار بچوں کو فراہم کی جانے والی بحالی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے سندھ بھر میں معذور بچوں کی شمولیت، بحالی اور بااختیار بنانے کے لیے این ڈی ایف کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔
دورہ کرنے والی معزز شخصیات نے این ڈی ایف پاکستان کی مخلصانہ خدمات کو سراہا اور ذہنی و فکری معذوریوں کے حامل بچوں، خصوصاً حیدرآباد میں، کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ادارے کے نمایاں کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے این ڈی ایف کے مشن کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا اور کمزور و محروم طبقات پر اس کے مثبت اثرات کو تسلیم کیا۔


















































































