پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں۔ محمد علی ٹبہ نے حقائق سامنے رکھ دیے ۔

پاکستان کے معروف بزنس مین محمد علی ٹبہ ستارہ امتیاز نے پاکستانی مصنوعات کی برامدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر کھل کر بات کی ہے اور حقائق سامنے رکھ دیے ہیں کچھ عرصہ قبل ہونے والی ایک کاروباری بحث میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکی سیمنٹ کے چیف ایگزیکٹو افیسر محمد علی ٹبہ ستارہ امتیاز جو کیا لکی موٹرز کے چیئرمین اور لکی الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ کے بھی سربراہ ہیں انہوں نے کہا کہ 30 سال سے یہاں جو حکومتیں اتی رہی ہیں وہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ سے سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر پڑ رہا ہے قانون پسند انڈسٹری تباہی کی طرف جا رہی ہے اور غیر قانونی کاروبار اور سمگلنگ کو فروغ مل رہا ہے اسلام اباد میں بیٹھے دماغ لانگ ٹرم پالیسیوں کے بجائے صرف اج کے لیے فیصلے کرتے ہیں ایسے فیصلوں اور پالیسی اور نا اہلی کی وجہ سے نتائج وہ نہیں آ رہے جو انے چاہیے ۔ اس کاروباری نشست میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے لیے کامیاب بولی لگانے والے سے وابستہ عارف حبیب سمیت اور بھی بہت سے معروف بزنس مین موجود تھے جو محمد علی ٹبہ کی باتوں کو غور سے سن رہے تھے حکومت کوئی بھی رہی ہو لیکن وہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے میں تو پچھلے 30 سال میں ناکام رہی ہے اس ملک میں جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں وہ بے فکر ہیں نہ وہ سیلز ٹیکس دیتے ہیں نہ انہیں کوئی اور ٹیکس دینا پڑتا ہے ان کی موج لگی ہوئی ہے دوسری طرف ایسے حالات میں ایک متوازی ایکانومی مضبوط ہو گئی ہے اور ڈاکومنٹڈ اکانومی سکڑتی جا رہی ہے اس کا منفی اثر مینوفیکچرنگ پر پڑ رہا ہے ملک میں مس ڈیکلریشن انڈر انوائسنگ اور سمگلنگ کو فروغ حاصل ہوا ہے جس ملک میں بھی ایسے حالات ہوں گے وہاں کاروبار کیسے اگے بڑھے گا وہ ملک کیسے اپنی مصنوعات کی برامدات کر سکے گا انہوں نے کہا میں مانتا ہوں پاکستانی کمپنیاں ایکسپورٹس سے گھبراتی ہیں کیونکہ یہ اسان کام نہیں بڑا چیلنج ہوتا ہے دنیا کے سامنے جا کر اپنی مصنوعات کو اچھی قیمت پر بیچنا اور اچھی کوالٹی پیش کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی کمپنیاں یہ کام نہیں کر سکتی بالکل کر سکتی ہیں اس کے لیے کلچرل شفٹ چاہیے جو پالیسی بہتر بنانے سے ہوگا حکومت چاہے تو ہر کمپنی کو 10 15 فیصد ریوینیو ایکسپورٹ کے ذریعے حاصل کرنے پر پابند کر سکتی ہے اس کے لیے اسے ضروری پالیسیاں اور ماحول بھی دینا ہوگا جب حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو وہ ٹیکس اور پھر سپر ٹیکس لگا کر بوجھ ڈالتی ہیں اس طبقے پر جو پہلے ہی ٹیکس لے رہا ہوتا ہے یہ مسئلے کا حل نہیں ہے یہ صورتحال ڈاکومنٹ سیکٹر کو مار رہی ہے حکومت کو اپنی پالیسیاں اور اپنے اقدامات میں بہتری لانا ہوگی ملک میں ٹیکس نیٹ کو فروخت دینا ہوگا زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس ادا کریں گے تو ملک اگے بڑھے گا اگر پاکستان برامداد کے حوالے سے اپنا ویژن اور پالیسیاں بہتر نہیں کرے گا تو پھر پاکستان کی ایکسپورٹس کبھی بھی اس ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکیں گی جو ہمارے ملک کی ضرورت


















































































