پاکستانی مزاح کے عظیم فنکار معین اختر کو 15ویں برسی پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا

پاکستانی مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو ان کی 15ویں برسی کے موقع پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

معین اختر نے محض 16 سال کی عمر میں اپنے اسٹیج کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی بے مثال نقلوں، برجستہ مزاح اور مختصر مگر مؤثر خاکوں کے باعث بہت کم وقت میں عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی۔ جلد ہی وہ ہر گھر کی پہچان بن گئے۔

پاکستانی مزاح کے بے تاج بادشاہ معین اختر کو ان کی 15ویں برسی کے موقع پر بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

معین اختر نے محض 16 سال کی عمر میں اپنے اسٹیج کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی بے مثال نقلوں، برجستہ مزاح اور مختصر مگر مؤثر خاکوں کے باعث بہت کم وقت میں عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی۔ جلد ہی وہ ہر گھر کی پہچان بن گئے۔

ڈرامہ مس روزی میں ان کی خواتین کردار کی اداکاری کو پاکستانی ٹیلی وژن کی کامیاب ترین پیشکشوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے انہیں بے پناہ شہرت دی۔

بعد ازاں انہوں نے نامور مزاحیہ شخصیت انور مقصود کے ساتھ کام کیا۔ دونوں نے مل کر 1995 کے طنزیہ ٹاک شو لوز ٹاک کی 400 سے زائد اقساط کی میزبانی کی اور مختلف کرداروں کے ذریعے عوام کو محظوظ کیا۔

معین اختر کو برصغیر کے عام عوام کا نمائندہ فنکار سمجھا جاتا تھا اور ان کے مداح پاکستان سمیت بھارت میں بھی موجود ہیں۔

ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1996 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 2011 میں پاکستان کا تیسرا بڑا سول اعزاز ستارہ امتیاز بھی دیا گیا۔ انہوں نے 22 اپریل 2011 کو کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پائی۔