سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کا قبضہ نا دینے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے معاملہ کسی دوسرے بینچ منتقل کرنے کیلیے چیف جسٹس کو بھجوادیا۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت کا قبضہ نا دینے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ توہین عدالت کی درخواست پر متروکہ املاک ٹرسٹ کے وکیل نے اعتراض کردیا۔ محمد منصف ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ بینچ کے سربراہ جسٹس عدنان الکریم میمن اس کیس کی سماعت سے پہلے ہی انکار کر چکے ہیں۔ انور منصور خان ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ عدالت نے 18 جون کو ایف آئی اے کے اقدامات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیئے تھے۔ اپنے حکم میں عدالت نے کرایہ کی ادائیگی کی شرط کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن ایف آئی اے نے ابھی تک ایکسچینج کی عمارت خالی نہیں کی۔ درخواستگزار اور اس کے نمائندوں کو عمارت میں داخلے اور سرگرمیوں کا حق نہیں دیا جارہا۔ متروکہ املاک ٹرسٹ کی جانب سے عدالتی حکم کے اس حصے پر عملدرآمد پر زور دیا جارہا ہے کہ ملکیت کے بارے میں موقف پیش کیا جائے۔ ہماری دستاویزات ایکسچینج کی عمارت یا ایف آئی اے کے پاس ہیں۔ مکمل دستاویزات کے بغیر کسی بھی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ وکیل متروکہ املاک ٹرسٹ نے موقف اپنایا کہ توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت 13 جولائی کو مقرر ہے، اس درخواست کو بھی اس سے منسلک کردیا جائے۔ بینچ نے درخواست کی سماعت سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے معاملہ کسی دوسرے بینچ منتقل کرنے کیلیے چیف جسٹس کو بھجوادیا۔
========
انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں گلستان جوہر میں رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر حملہ اور دھماکہ کیس کی ابتدائی رپورٹ جمع کرادی۔ سی ٹی ڈی پولیس نے کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز عمر قاری سمیت 6 دہشتگردوں کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیدیا۔ پولیس نے ملا عمر مولوی احرار عبد الواجد ودیگر کو مفرور قرار دیدیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق 27 جون شب 8 بجکر 10 منٹ پر ورکشاپ کمپنی کے گیٹ پر دہشتگرد نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔ گیٹ پر موجود رینجرز اہلکار حوالدار ریاض، سپاہی داؤد پرویز اور سپاہی عبد القدیر موقع پر شہید ہوگئے۔ جوابی کارروائی پر دو دہشت گردوں ہلاک جبکہ عثمان عرف علی کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشتگرد نے ہلاک ساتھیوں کے نام عمر، عبد الہادی اور خودکش کا نام جانان بتایا۔ گرفتار زخمی دہشتگرد نے انکشاف کیا کہ اس کا تعلق افغانستان جلال آباد سے ہے۔ دہشتگرد جانان اور عمر افغان شہری تھے، جبکہ عبد الہادی پاکستانی اور باجوڑ کا رہنے والا تھا۔ عبد الہادی عرصہ دراز سے افغانستان میں دہشتگرد تنظیم کا حصہ ہے، ایک ہفتہ قبل کراچی آئے تھے۔ مقامی سہولتکاروں کی مدد سے دہشتگردوں نے کورنگی میں عارضی رہائشگاہ پر قیام کیا۔ دہشتگردوں نے رینجرز ورکشاپ کمپنی کی ریکی کی، چاروں دہشتگردوں کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار افغانستان سے ہے۔ کالعدم تنظیم کے کمانڈر عمر قاری، مولوی احرار اور عبد الواجد نے دہشتگردوں کو حملہ کرنے پاکستان بھیجا۔ افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار کے ملا طاہر افغانی، ملا عبد المنان اور عمر آفریدی نے حملے کے لئے تربیت دی۔ حملے کے حوالے سے درج دیگر 4 مقدمات پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیئے گئے ہیں۔


















































































