
این ای ڈی کے چونتیسویں سینٹ اجلاس کا انعقاد
کراچی () میں تعلیمی، تحقیقی اور قومی ترقی میں نمایاں کامیابیوں پر این ای ڈی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، ان خیالات کا اظہار 34ویں سینٹ اجلاس میں صدارت کے انجام دیتے ہوئے پرو چانسلر/وزیر جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے کیا جب کہ سیکریٹری یونی ورسٹی و بورڈز عباس بلوچ بھی شریک ہوئے۔ اسماعیل راہو کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ کی تعلیمی معیار، تحقیق، جدت، صنعتوں سے روابط اور ادارہ جاتی استحکام کے شعبوں میں نمایاں کامیابیوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اور کامیاب سال قرار دیا جانا خوش آئند ہے، میں این ای ڈی یونیورسٹی کے 34ویں سینیٹ اجلاس میں تعلیمی، تحقیقی اور قومی ترقی میں نمایاں کامیابیوں پر جامعہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے رجسٹرار این اے ڈی سید غضنفر حسین نقوی نے ڈائریکٹر فنانس سجیر الدین کو بجٹ پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔ ڈائریکٹر فنانس کے مطابق سینٹ اجلاس میں 2024 تا 2025 کے سالانہ آڈٹ اکاؤنٹ کی رپورٹ کی منظوری جب کہ 26 تا 2027 کا بجٹ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شیخ الجامعہ ڈاکٹر محمد طفیل کا کہنا تھاکہ 2025 تا 2026 کا بجٹ بھی 22 کروڑ 32 لاکھ کے خسارے کا پیش کیا گیا تھا تاہم حکومت سندھ کی مدد سے اس خسارے پر قابو پایا گیا اور آج 20 لاکھ کی بچت پر بجٹ کا اختتام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مالی سال 2026 تا 2027 کی آمدنی کا تخمینہ چھ ارب 73 کروڑ 22 لاکھ روپے ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ چھ ارب 98 کروڑ 96 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ یہ بجٹ بھی 25 کروڑ 73 لاکھ سے زائد خسارے کا ہے، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اسے بھی سرپلس کرکے دکھائیں گے۔ اس سینٹ اجلاس میں ڈین الیکٹریکل انجینئرنگ ڈاکٹر سعد احمد قاضی نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سینیٹ کو بتایاکہ جامعہ کو ٹائمز ہائر ایجوکیشن امپیکٹ رینکنگز میں دنیا کی ٹاپ 600 جامعات میں شامل کیا گیا ہے جبکہ معیاری تعلیم، صاف و سستی توانائی اور صنعت، جدت و انفراسٹرکچر کے شعبوں میں دنیا کی ٹاپ 200 جامعات میں جگہ حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح این ای ڈی کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) نے پاکستان کی 250 سے زائد جامعات میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے مزید بتایاکہ سال 2025 تا 2026 کے دوران جامعہ میں 12 ہزار 258 طلبہ زیر تعلیم رہے جبکہ 3 ہزار 63 طلبہ کو ڈگریاں تفویض کی گئیں، جن میں37 پی ایچ ڈی ڈگریاں شامل ہیں۔ جامعہ نے اس سال میں قریباً 49 کروڑ روپے کی اسکالرشپس اور فیلوشپس فراہم کیں۔
تحقیق اور جدت کے میدان میں این ای ڈی یونیورسٹی نے 33 تحقیقی مراکز اور 189 فنڈڈ تحقیقی منصوبوں کے ذریعے قریباً 1.7 ارب روپے کی بیرونی تحقیقی فنڈنگ حاصل کی، جبکہ جامعہ نے اس برس 10 بین الاقوامی کانفرنسوں کی میزبانی بھی کی۔ جامعہ کی ترجمان فروا حسن کے مطابق سینیٹ نے اس برس کے دوران مکمل ہونے والے اہم منصوبوں کا بھی جائزہ لیا، جن میں تھر انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (TIEST) کے پہلے مرحلے کا افتتاح، سینٹر آف ایکسی لینس اِن گیمنگ اینڈ اینیمیشن (CEGA)کا قیام، نیشنل سینٹر فار کوانٹم کمپیوٹنگ (NCQC) اور نیشنل سینٹر فار نیو مینوفیکچرنگ (NCNM) کی لیبارٹریوں کا آغاز، سیمنز پاور اکیڈمی کا قیام، این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں پیش رفت اور پاکستان کے نیشنل اپ اسکلنگ ٹریننگ پروگرام (USTP) برائے آئی سی ڈیزائن انجینئرز کی قیادت کے ساتھ سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹر (SERC) کا قیام شامل ہیں۔ سینیٹ نے پاکستان میں سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، انٹیگریٹڈ سرکٹ ڈیزائن، وی ایل ایس آئی سسٹمز اور جدید چپ ڈیزائن کے شعبوں میں این ای ڈی یونیورسٹی کی قومی خدمات کو بھی سراہا۔سینیٹ نے پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام (PITP) کا بھی جائزہ لیا جس کے تحت 478 تربیتی کورسز، 57 ہزار سے زائد تربیتی گھنٹے اور 16 ہزار 731 شرکا نے سندھ بھر میں جدید آئی ٹی مہارتیں حاصل کیں۔ این ای ڈی کے ممتاز فارغ التحصیل طلبہ کی عالمی کامیابیوں خصوصاً ریحان جلیل کی کامیابی، جن کی مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سکیورٹی کمپنی کے عالمی سطح پر اربوں ڈالر کے معاہدے کو پاکستانی ٹیکنالوجی شعبے کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی، انجینئر رخسانہ زبیری اور انجینئر اشرف حبیب اللہ کو پاکستان کے اعلیٰ سول اعزازات ملنے پر مبارک باد پیش کی گئی۔ سینیٹ نے حکومت سندھ کے تعاون سے معذور افراد کے لیے ایک ہزار سے زائد مقامی طور پر تیار کردہ معاون ٹیکنالوجیز کی تیاری اور فراہمی کو بھی جامعہ کی اہم سماجی خدمت قرار دیا۔


















































































