
ٹھٹھہ (جے پی) جھمپیر کے رہائشی ماچھی برادری سے تعلق رکھنے والے محمد رحیم ماچھی، محمد خان ماچھی، محمد عرس ماچھی اور دیگر افراد نے نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ہاشم سولنگی ان کے آبائی گاؤں پر قبضہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہاشم سولنگی کے افراد متعدد بار ان کے گاؤں پر حملے کر چکے ہیں، جن کے نتیجے میں گاؤں کے مرد اور خواتین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ احتجاج کے دوران واٹر سپلائی ماچھی گاؤں کے رہائشیوں نے بتایا کہ وہ کئی مرتبہ پولیس سے رابطہ کر چکے ہیں، تاہم ان کی شکایت پر مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لے کر انہیں تحفظ فراہم کیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
===============
ٹھٹھہ(جے پی) ٹھٹھہ کے قریب پیر پٹھو کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق تعلقہ گھوڑاباری کے گاؤں علی میہار درس کے رہائشی عبدالستار عرف صدر درس موٹرسائیکل پر پیر پٹھو سے گیل موری کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں عبدالستار عرف صدر درس موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔ لاش کو ضروری کارروائی کے لیے رورل ہیلتھ سینٹر منتقل کردیا گیا، جبکہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور مقتول کے ورثاء بھی اسپتال پہنچ گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
===============

ٹھٹھہ(رپورٹ: علی گوہر قمبرانی) 10 محرم الحرام، یومِ عاشورہ، پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غم، عقیدت، صبر اور قربانی کی یاد کا دن ہے۔ اسی روز حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں لازوال قربانیاں دے کر حق و صداقت کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔اسی یومِ عاشورہ کے موقع پر ٹھٹھہ کے عوام کو بھی 17 سال قبل، 28 دسمبر 2009ء کو ایک ایسا ناقابلِ فراموش صدمہ برداشت کرنا پڑا جسے آج بھی فراموش نہیں کیا جا سکا۔ اس روز پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ٹھٹھہ کے صدر اور رکن قومی اسمبلی صادق علی میمن کے بھائی، عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار، ممتاز سیاسی و سماجی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی شہید عبدالجلیل میمن ایک المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ شہید عبدالجلیل میمن اس وقت ضلع ٹھٹھہ سے منتخب رکن سندھ اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ میں محکمہ کوآپریٹو کے صوبائی وزیر بھی تھے۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل، علاقے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی نمایاں خصوصیات اعلیٰ اخلاق، عاجزی، خوش اخلاقی اور عوام سے بے پناہ محبت تھیں۔ وہ چھوٹوں سے شفقت اور محبت سے پیش آتے، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور بزرگوں کے احترام کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ انہوں نے کبھی امیر اور غریب میں فرق نہیں کیا بلکہ ہر شخص کو عزت دی اور ہر طبقے کے لوگوں سے اخلاص، محبت اور اپنائیت کا رشتہ قائم رکھا۔ شہید عبدالجلیل میمن صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک مخلص، بااخلاق اور عوام دوست رہنما تھے، جن کی کمی آج بھی ضلع ٹھٹھہ کے عوام شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ 28 دسمبر 2009ء، جو یومِ عاشورہ کا دن تھا، پہلے ہی حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کے غم کی وجہ سے سوگ کا دن تھا، اسی روز ٹھٹھہ ایک اور بڑے سانحے سے دوچار ہوا جب شہید عبدالجلیل میمن ایک ٹریفک حادثے میں اپنے چاہنے والوں سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ٹھٹھہ کے صدر صادق علی میمن ہر سال اپنے شہید بھائی عبدالجلیل میمن کی برسی کے موقع پر قرآن خوانی، دعائے مغفرت اور نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ شہید عبدالجلیل میمن کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔


















































































