سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے تحت سندھ کے 2,662 طلبہ و طالبات کی اسکالرشپس منظور جامعات میں زیرِ تعلیم 5,853 طلبہ و طالبات کی اسکالرشپس کی تجدید کی بھی منظوری

سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے تحت سندھ کے 2,662 طلبہ و طالبات کی اسکالرشپس منظور

جامعات میں زیرِ تعلیم 5,853 طلبہ و طالبات کی اسکالرشپس کی تجدید کی بھی منظوری

غریب اور ہونہار نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا سندھ حکومت کی ترجیح ہے، وزیر تعلیم سندھ

کراچی 15 جون ۔ سندھ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور باصلاحیت طلبہ کی مالی معاونت کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ (SEEF) کے تحت تعلیمی سال 24-2025 کے لیے سندھ سے تعلق رکھنے والے 2,662 طلبہ و طالبات کی یونیورسٹی اسکالرشپس منظور کر لیں، جبکہ پہلے سے زیرِ تعلیم 5,853 طلبہ و طالبات کی اسکالرشپس کی تجدید کی بھی منظوری دی گئی۔ یہ فیصلے وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیرِ صدارت سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس میں کیے گئے۔اجلاس میں سیکریٹری کالجز ندیم الرحمان میمن، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری SEEF اقبال جمانی سمیت بورڈ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ SEEF کے تحت سندھ کے طلبہ و طالبات کو ملک بھر کی 92 سرکاری و نجی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ جون 2026 تک فنڈ کا مجموعی سرمایہ 12 ارب 616.7 ملین روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سندھ حکومت ہر سال فنڈ میں 2 ارب روپے کا اضافہ کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2002 میں قائم ہونے والے سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کی معاونت سے اب تک 42 ہزار 169 طلبہ و طالبات ملک کی مختلف جامعات سے اعلیٰ تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔اس موقع پر وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ صوبے کے غریب، محنتی اور باصلاحیت نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات کسی بھی طالب علم کی تعلیم میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں اور سندھ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ ہر قابل طالب علم کو اس کی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر آئیں۔انہوں نے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکالرشپس کا دائرہ اُن شعبوں تک وسیع کیا جانا چاہیے جن کی مستقبل میں قومی اور عالمی سطح پر زیادہ ضرورت ہوگی، تاکہ سندھ کے نوجوان نہ صرف معیاری تعلیم حاصل کریں بلکہ روزگار اور ترقی کے بہتر مواقع سے بھی مستفید ہو سکیں۔وزیرِ تعلیم نے ہدایت کی کہ اینڈومنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور اسے مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ حاصل ہونے والے منافع میں اضافہ کرکے مزید طلبہ و طالبات کو وظائف فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے SEEF کے تمام نظام کو جدید خطوط پر ڈیجیٹلائز کرنے اور شفافیت و احتساب کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت دی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے SEEF کی ایگزیکٹو کمیٹی سفارشات مرتب کرکے بورڈ کو پیش کرے گی۔ ان سفارشات میں مزید جامعات کی شمولیت، جامعات کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپس کے مؤثر استعمال کا جائزہ، نئے تعلیمی شعبوں کی شمولیت سے متعلق تجاویز اور وظائف کے نظام کو مزید وسعت دینے کے اقدامات شامل ہوں گے۔وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے اجلاس میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی بطور بورڈ ممبران عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے اجلاسوں میں وائس چانسلرز کی فعال شرکت یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ طلبہ کو درپیش مسائل، تعلیمی ضروریات اور سہولیات سے متعلق مؤثر تجاویز سامنے آسکیں اور وظائف کے نظام کو مزید مؤثر اور بہتر بنایا جا سکے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 560۔۔۔اے وی

کراچی

مور خہ 15 جون 2026

سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کو طلب

کراچی، 15 جون۔ گورنر سندھ نے سندھ صوبائی اسمبلی کا اجلاس بدھ، 17 جون 2026ء کو دوپہر 2:00 بجے سندھ اسمبلی بلڈنگ، کراچی میں طلب کر لیا ہے۔