ایک سات سال کے بچے کے روز و شب کیسے گذرتے ہیں؟ اس کی کیا مصروفیات ہوتی ہیں ؟

Flight of the Living Corpses
ایک تاثر ——–نضیرا اعظم
ایک سات سال کے بچے کے روز و شب کیسے گذرتے ہیں؟ اس کی کیا مصروفیات ہوتی ہیں ؟ بس یہی کہ صبح ماں تیار کر کے اسکول روانہ کرتی ہے، وہاں وہ پڑھتا ہے، اپنے ننھے منے دوستوں کے ہمراہ کھیلتا ہے، کسی نرم خو استاد کے پیریڈ کا انتظار اور کسی سخت گیر استاد کی کلاس میں جانے سے قبل اپنا ہوم ورک اور استاد کے پڑھائے ہوئے سبق کو دل ہی دل میں دہُراتا شاید انکی سخت گیری سے کچھ پریشان بھی ہوتا ہے۔ اور اگر یہی بچہ کسی گاؤں میں رہتا ہے تو بھی یہی کچھ ہوتا رہا ، ہاں اتنا ضرور ہوا کہ چھٹی کے بعد اپنے دوستوں کے ہمراہ کھیتوں کا رخ کرتا جہاں باپ زمین پر ہل چلا تے اپنی آنکھوں میں سجے بچوں کے بہتر مستقبل کو اپنی زمین سے ابھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا۔
آیئے آج ہم آپ کو اسی عمر کے ایک بچے کی کہانی سناتے ہیں، مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں کے ایک بچے کی داستان۔ وہ اور اس کے دوست جن میں سکھ بھی تھے ہندو بھی اور مسلم بھی وہ مذہب کی تقسیم سے مبرا تھا، اس کا ذہن ہر قسم کے خوف اور نفرت سے پاک مستقبل سے بے نیاز بس حال میں جس سے وہ گذر رہا تھا بس وہی اس کا اصل تھا، جہاں محبتیں تھیں، ایک دوسرے کا خیال تھا اور گاؤں کی کھلی ہوا اور صحت مند فضا تھی۔
اس روز وہ اپنی ماں کے ساتھ اسکول کے قصے سنا رہا تھا، اسے کچھ حیرت بھی تھی کہ اس کے سکھ دوست کئی دنوں سے اسکول نہیں آرہے تھے، اور ماں نے اس حیرت کو جواب یوں دیا کہ شاید وہ بیمار ہوں یا گاؤں سے باہر گئے ہوں مگر وہ اپنے بچے کے ننھے سے دماغ کو اس دشمنی اور نفرت سے دور رکھنا چاہتی تھی جو دھیرے دھیرے اس گاؤں میں بھی سرایت کر گئی تھی۔
یہ 1947 کا پرآشوب سال تھا، اچانک کسی نے اس کی ماں کو چھت سے پکارا۔ ادھر آؤ، دیکھو یہ آگ کہاں لگی ہے۔ اس کی ماں اور گھر کے دوسرے افراد چھت پر چڑھ گئے، یہ اس کے گاؤں کے جنوب میں موجود دادی کے گاؤں، میر پور میں آگ لگی تھی۔وہ بچہ اس بات سے بے خبر تھا کہ یہ آگ صرف اس کی دادی کے گاؤں ہی میں نہیں لگی تھی بلکہ اس آگ کی حدت رشتوں ، دوستیوں اور ہمسائیوں سے تعلقات اور رشتوں کو بھی پگھلانے والی تھی۔ وہ بچہ اپنے بے ریا ذہن اور معصوم آنکھوں سے گھر میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہا تھا جہاں گھر کے بڑے ،بانسوں کے سروں پر تیز دھار لوہے باندھ رہے تھے، چھتوں پر اینٹیں، کنکریٹ کے ٹکڑے جمع کئے جا رہے تھے۔ ” یہ سب کیوں ہورہا ہے؟“اس نے اپنی دادی سے سوال کیا۔” دشمنوں سے بچاؤ کے لئے۔“ ان کے جواب پر اس کا ذہن کچھ نہ سمجھا اس نے کچھ اور نہ پوچھا اور نہ ہی دادی نے کوئی تفصیل بتائی اس کا ذہن لفظ ”دشمن“ سے نا آشنا تھا۔ اسے تو بس اپنے دوستوں کی فکر تھی، اپنے اسکول کا خیال تھا اور ان تمام دلچسپیوں کا ادراک تھا جو اس کا اصل تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ بچے کا ذہن بہت سے معاملات کو جذب کر رہا تھا، اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عید کی نماز پہروں اور گروہوں میں کیوں پڑھائی جارہی تھی، وہ اس سے بھی بے خبر تھا کہ اس کے علاقے میں کتنی بڑی تبدیلی آچکی تھی، خوف، خون، انتشاراور نا معلوم مستقبل کا اندھیرا ،کیوں اور کیسے اس کے گھر کا سکون، اس کے گاؤں کی آپسی محبت اور تعلق کو نگل رہا تھا۔ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بیل گاڑی میں اپنی ماں کی گود میں دبکا ایک طویل سفر پر روانہ ہو چکا تھا، راستے کی کٹھنائیاں تھیں، مصائب تھے لیکن کہیں ایک اطمینان بھی تھا کہ وہ جالندھر جارہا ہے، اس کا دوسرا گاؤں جہاں اسے اپنے والدین کی نسبت سب پہچانتے تھے، جہاں کے گلی کوچوں نے سینکڑوں بار اس کے قدم چومے تھے۔اسے یہ بھی یقین تھا کہ جالندھر سے واپسی پر وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اپنے گھر، اپنے گاؤں، کھیتوں اور کھلیانوں میں پہلے کی طرح واپس ہو جائے گا۔کبھی اس کا ذہن یہ بھی کہتا کہ شاید وہ لوگ برما جارہے ہوں جہاں اس کا باپ محاز پر تھا، جنگ کیا ہوتی ہے؟ کیوں ہوتی ہے اور کس وجہ سے ہوتی ہے اسے یہ سب کچھ نہیں معلوم تھا ہاں ایک بات وہ ضرور جانتا تھا کہ اسکا باپ کسی برما نام کی جگہ روٹی کمانے گیا تھا اور اس کے اندر امید کی روشنی تھی کہ وہ اپنے باپ سے ملنے جا رہا ہے۔
اپنے گاؤں” گرلے“ سے بلًا چا ور“ تھانے تک مدد کی امید کا یہ سفر جاری تھا انہیں جالندھر پہنچنا تھا جو گرلے گاؤں سے سو میل دور تھا، اس تھانے میں بھی انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا پھر دو مسلمان پولیس والوں کی معیت میں یہ قافلہ اگلے پڑاؤ تک جاپہنچا جہاں بہتے دریا سے تیر کر اور ایک چھوٹی ناؤ کے ذریعے یہ قافلہ ایک اور گاؤں نور پور جھگیاں پہنچا۔ وہ گاؤں خالی تھا کوئی انسان بھی نظر نہیں آتا ما سوا چند جانوروں کے، وہاں ان لوگوں نے اپنا کیمپ لگایا اور ستم ظریفی یہ ہوئی کہ انڈین آرمی کے سپاہیوں نے انکا سب زیور، روپیہ مال و اسباب لوٹ کر تین بوریوں میں بھر کر لے گئے۔جالندھر کے کھلے کیمپ میں گرلے گاؤں کا یہ قافلہ پہنچا، جہاں آسمان کی چھت اور کھردری زمین ہی ان کا ٹھکانہ تھا، وہاں بارشوں کے طوفان کا سامنا کرنا پڑا، اس ننھے سے ذہن پر نالے کو کھاڑی میں تبدیل ہوتے دیکھا، اس میں کئی انسانوں کو ڈوبتے دیکھا تھا۔
وقت نے ایک کروٹ لی اور سات سالہ بچہ لڑکپن، نوجوانی،اور جوانی کی دہلیز پار کرتے ہوئے بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں ایک آزاد دنیا میں عمر کے اس حصے پر پہنچ چکا تھا جہاں اس کے بچے جوان ہوچکے تھے، وہ اب بزرگوں کی صف میں کھڑا ماضی کےگذرے ہر پل کو اکثر سوچتا اس کا ذکر کرتا اور پھر اپنے بچوں کے اصرار پر اس نے ماضی کو زندگی دینے کا فیصلہ کیا اور 2023 میں تقسیم کی اس کہانی کے سرے ملاتے ہوئے ایک ایسی دستاویز تیار کی جس میں اس دور کی غیر منقسم تہذیب کو معدوم ہوتے دیکھا، نفرت اور عداوت کو آن کی آن میں قد آور ہوتے پرکھا تھا، اپنی زمین اور گھر سے بچھڑنے کا المیہ سہا تھا۔ اور پھر، ذہن میں موجود سات سال کی عمر کی کتاب کے اوراق پلٹنا شروع کردئیے جہاں ہر صفحے پر درد کے نقوش بکھرے ہوئے تھے، وہ ان بکھرے نقوش کو منظم کرنے لگے ، واقعات ابھرنے لگے۔ اس کام میں انہوں نے کئی دہائیوں کی دھند میں پوشیدہ چہروں کو اجاگر کیا اور وہ باتیں جو بچے کے ذہن میں تو تھیں مگر ابھی بھی رونما ہونے والے واقعات کی تفصیل انہیں درکار تھی۔ اور یوں محنت، تحقیق اور تلا ش نے Flight of the living Corpses جیسی بہترین کتاب سے دنیا کو متعارف کرایا۔
یہ نہ کوئی فکشن ہے اور نہ ہی افسانوی واقعات بلکہ ہماری کمیونٹی کی ایک معزز شخصیت صابر عبدالرحمٰن کے خاندان اور ان کے گاؤں کے دیگر افرادکی آگ اور خون کے دریا کو پار کرنے کی آنکھوں دیکھی داستان ہے، یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ، حتیٰ کے جانیں تک لٹا کر ایک نئے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
میں سمجھتی ہوں کہ میری چند سطور اس دور کا اشارہ تو دے سکتی ہیں جنہیں میں نے ان کی کتاب پڑھتے ہوئے محسوس کیا لیکن جو تفاصیل صابر رحمٰن نےدل کی روشنائی سے تحریر کی ہیں وہ صرف کتاب پڑھنے سے ہی معلوم ہوں گی، انہوں نے نہ صرف ان مصائب کا تذکرہ کیا جن سے ان کا اور دیگر خاندان گذرے بلکہ بہت سے تاریخی مماثل دئیے ہیں، پنجاب کے نام کی وجہ تسمیہ بیان کی ہے، نقشوں کی مدد سے اس پوری مسافت کو واضح کیا ہے۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ثبات صرف تبدیلی کو حاصل ہے اور برصغیر میں تقسیم کی داستان ، ایک نئی تبدیلی کا رونما ہونا، ایک ملک کا قائم ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جسے آنے والی ہر صدی ، دنیا کو اس خطے کےانسانوں کی لازوال قربانیوں، دم توڑتے رشتے، خوف، نفرت اور دہشت میں گھرے جیتے جاگتے لاکھوں افراد کی لہو رنگ کہانیاں اپنے اپنے انداز میں سناتی رہیں گی۔