زیادہ پانی پینے کے باعث موت

زیادہ پانی پینے کے باعث ہونے والی واٹر انٹوکسی کیشن (Hyponatremia) ایک خطرناک طبی حالت ہے، جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان بہت زیادہ مقدار میں پانی پی لیتا ہے۔ اس صورتحال میں خون میں سوڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے خلیے پھولنے لگتے ہیں—خاص طور پر دماغ کے خلیے۔ یہی سوجن بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

اگرچہ یہ ایک نسبتاً نایاب حالت ہے، لیکن دنیا بھر میں کئی افسوسناک واقعات سامنے آ چکے ہیں جو اس خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

امریکہ (2023) – ایشلے سمرز
ایشیلے سمرز نامی 35 سالہ خاتون نے ایک جھیل پر سیر کے دوران شدید پیاس محسوس ہونے پر مختصر وقت میں بہت زیادہ پانی پی لیا۔ بعد ازاں انہیں شدید سر درد اور چکر آئے اور وہ بے ہوش ہو گئیں۔ ہسپتال منتقل کرنے کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

امریکہ (2007) – جینیفر اسٹرینج
ایک ریڈیو مقابلے میں “Hold your wee for a Wii” کے دوران شرکاء کو زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی گئی۔ 28 سالہ جینیفر اسٹرینج نے تقریباً 7.5 لیٹر پانی پیا، جس کے بعد وہ شدید سر درد کے ساتھ گھر واپس گئیں اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہو گئی۔

برطانیہ (1995) – لیا بیٹس
18 سالہ لیا بیٹس نے ایک پارٹی کے دوران منشیات کے استعمال کے بعد تقریباً 7 لیٹر پانی صرف 90 منٹ میں پی لیا۔ اس کے نتیجے میں دماغ میں شدید سوجن ہوئی اور وہ جان کی بازی ہار گئیں۔

امریکہ (2014) – زیریس اولیور
17 سالہ طالب علم نے سخت ٹریننگ کے بعد ڈی ہائیڈریشن سے بچنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی اور اسپورٹس ڈرنک پی لیا، جس سے ان کے جسم میں سوڈیم لیول خطرناک حد تک کم ہو گیا اور ان کی موت واقع ہو گئی۔

برطانیہ (2021) – مشیل وائٹ ہیڈ
ایک ذہنی صحت کے ادارے میں زیرِ نگرانی خاتون نے غیر معمولی مقدار میں پانی پی لیا، جس کے بعد وہ کوما میں چلی گئیں۔ بعد ازاں تحقیقات میں عملے کی غفلت کو بھی ایک سبب قرار دیا گیا۔

امریکہ (2005) – میتھیو کیرنگٹن
کالج میں ہیزنگ کے دوران طلبہ کو زبردستی پانی پینے پر مجبور کیا گیا، جس کے نتیجے میں 21 سالہ میتھیو کی موت ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد امریکہ میں سخت قوانین بھی نافذ کیے گئے۔

یہ تمام واقعات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ اگرچہ پانی زندگی کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال انتہائی خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔