ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب ایک عظیم انسان اور مسیحا

ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب ایک عظیم انسان اور مسیحا
ون پوائنٹ
نوید نقوی
والد محترم سید فیاض حسین نقوی صاحب کے احکامات میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ جو خیر بانٹ رہا ہو، اس کی تعریف کرو اور ایسی کرو کہ دنیا نہ صرف جان جائے بلکہ خراج تحسین پیش کرنے پر بھی مجبور ہو جائے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں بنا مطلب کوئی ہاتھ نہیں ملاتا اگر کوئی بندہ خالص رب کی رضا کی خاطر انسانیت کی خدمت کر رہا ہو تو اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیئے تاکہ دوسروں کے لیے بھی Motivation کا باعث ہو، ہمارے علاقے اور وسیب کی پہچان ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو بلا تفریق زبان و نسل، ذات اور مسلک ہر انسان کی خدمت کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کا ڈاکٹر صاحب نے فری علاج بھی کیا اور ساتھ میں حسب ضرورت امداد بھی کی لیکن آج تک خود کسی کو جتایا اور نہ ہی کسی طریقے سے خودنمائی کرنے کی کوشش کی، ڈاکٹر صاحب کے ہونہار بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں اور انسانیت کی خدمت کرنا ان کا نصب العین ہے۔ یہ ایک امید افزا حقیقت ہے کہ معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے پیشے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنی خدمات، کردار اور انسان دوستی کے باعث لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لیتی ہیں۔ ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب بھی انہی نابغہ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی ہے۔

ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب نہ صرف ایک قابل اور ماہر معالج ہیں بلکہ ایک دردِ دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے مریضوں کو محض ایک کیس یا فائل نہیں سمجھا بلکہ ایک انسان کے طور پر ان کی تکلیف کو محسوس کیا۔ کئی مریضوں کو اپنی جیب سے دوائیں لے کر دینا ان کا معمول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس آنے والا ہر مریض نہ صرف جسمانی علاج پاتا ہے بلکہ اسے حوصلہ، امید اور ہمدردی بھی نصیب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب 1963 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1996 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میڈیکل آفیسر کی جاب حاصل کی اور انسانیت کی خدمت کرنے میں مصروف ہو گئے۔ انیسویں گریڈ میں 2008 سے لے کر 2011 تک بطور ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ہیلتھ لیاقت پور ضلع رحیم یار خان تعیناتی ہوئی۔ 2012 تک گورنمنٹ جاب کے ساتھ ساتھ آپ اپنے وسیب کی خدمت بھی کرتے رہے۔ 2012 میں آپ نے فیصلہ کیا کہ سرکاری ملازمت سے مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ میں یہاں اپنے الفاظ ایک بار پھر دہراؤں گا آج کے دور میں جہاں طب کا شعبہ اکثر کاروبار کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، وہاں ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب جیسے لوگ انسانیت کی روشن مثال ہیں۔ وہ غریب اور نادار مریضوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کئی ایسے مواقع آئے جب انہوں نے مالی حیثیت سے کمزور افراد کا مفت علاج کیا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو عبادت کا درجہ دیا۔
ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو ان کی سادگی اور اخلاق ہے۔ وہ ہمیشہ عاجزی، خلوص اور محبت کے ساتھ لوگوں سے پیش آتے ہیں۔ ان کا حلقہ احباب وسیع ہے، وہ دوستوں کے دوست اور عظیم میزبان بھی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہے جو مریض کے دل کو بھی سکون دے، نہ کہ صرف جسم کا علاج کرے۔ یاد رہے کہ ہم سب کی زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف انسان نہیں بلکہ ایک نعمت، ایک سہارا اور ایک روشنی کی مانند ہوتے ہیں۔ میرے لیے ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی بھی ایسی ہی ایک عظیم ہستی ہیں، جنہیں میں بلا جھجھک اپنا محسن اور ایک حقیقی مسیحا کہہ سکتا ہوں۔ آج کے دور میں جہاں مادہ پرستی نے بہت سے شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، وہیں ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب جیسے لوگ امید کی ایک کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے طب کے مقدس پیشے کو صرف ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ اسے خدمتِ انسانیت کا ذریعہ سمجھا۔ ان کے لیے ہر مریض ایک ذمہ داری ہے، ایک امانت ہے، اور وہ اس امانت کو پورے خلوص اور دیانت داری سے نبھاتے ہیں۔
ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب کی زندگی ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ انسان اگر چاہے تو اپنے پیشے کے ذریعے بھی انسانیت کی عظیم خدمت انجام دے سکتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی امید کی ایک کرن کی مانند ہوتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر نذیر احمد صدیقی صاحب واقعی ایک عظیم انسان اور حقیقی مسیحا ہیں، جن کی خدمات کے صلے میں ہم سب ان کو خراج تحسین پیش کرتے رہیں گے۔ میں خدا پاک سے دعا کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کو صحت و تندرستی والی درازی عمر عطا ہو آمین، تاکہ وہ وسیب کے لوگوں کے لیے امید کی کرن بنے رہیں اور ہم سب کے حوصلے کا باعث بھی۔ میں دل کی گہرائیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب جیسے لوگ اس دنیا میں خدا کی رحمت کا مظہر ہوتے ہیں۔