اطہر اقبال کی کتاب
” ایک کہاوت ایک کہانی”
(جِلد چَہارم)
________________________
تبصرہ : محمد اختر شیخ
(اردو مرکز نیو یارک ، ادبی گروپ)
________________________
یہ کتاب مجھے ایک کرم
فرما دوست کے توسط سے میسر آئی اور جب اس کے اوراق میں جھانکا تو یوں لگا جیسے کسی نے دل کے دروازے پر آہستہ سے دستک دی ہو ، وہی لمحہ تھا جب قلم نے خود کو حرکت دینے پر آمادہ پایا اور دل نے تحریر کی صورت اپنا بیان مانگ لیا۔ اسی داخلی کیفیات کے تحت جناب اطہر اقبال کی تصنیف ” ایک کہاوت ایک کہانی” (جلد چہارم) پر یہ سطور رقم کرتے ہوئے اس مسرت کا اظہار لازم ہے کہ ہمارے سامنے اردو ادب کی وہ نادرۂ روزگار تخلیق موجود ہے جو اپنے ظاہر و باطن دونوں میں تہذیبی ورثے کی امین ہے۔ کہاوتیں گویا قوم کے حکیمانہ تجربات کا نچوڑ ہیں جو نسلاً بعد نسل ایک شعری حسن اور حکیمانہ معنی لیے ہمارے ہاں رائج رہی ہیں۔ انھیں کہانی کے پیرہن میں ڈھالنا اور پھر نونہالانِ قوم کے ذہنوں میں اس طرح رچانا دینا کہ وہ ان کے شعور کا حصہ بن جائیں، یہ وہ دشوار گزار کام ہے جسے اطہر اقبال نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔
میرے پیشِ نظر یہ کتاب جو چوتھی جِلد پر مشتمل ہے ، اپنے اسلوب ، موضوع اور پیش کش کے اعتبار سے اپنی سابقہ جلود سے ایک قدم آگے کی چیز ہے۔ اگر ابتدائی تین جلدیں کہاوتوں کے ابتدائی مفاہیم کی شارح تھیں تو اس جلد میں فکر کی گہرائی ، بیان کی نُدرت اور موضوعات کی وسعت نے اسے ایک جامع اور پائیدار ادبی شہ پارہ بنا دیا ہے۔ مصنف نے اس جلد میں کہاوتوں کو محض ایک تمثیلی جامہ پہنانے کے بجائے انھیں ایک ایسی فکری فضا میں پرویا ہے جہاں ہر کہاوت اپنا ایک جداگانہ عالم معنی رکھتی ہے۔
مصنف اطہر اقبال کی یہ رائے قابلِ غور ہے کہ کہانی نگاری سے زیادہ صبر آزما مرحلہ کہاوتوں کے انتخاب کا ہے۔ اس انتخاب میں انھوں نے جو حکمت و بصیرت سے کام لیا ہے وہ ان کے عمیق مطالعہ اور وسعت ذوق پر دلالت کرتا ہے۔
کون سی کہاوت آج کے تہذیبی اور تمدنی تقاضوں کے عین مطابق ہے؟ یہ سوال مصنف کے پیشِ نظر رہا اور اسی باریک بینی نے اس کتاب کو محض ایک تفریحی مطالعہ نہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے طالب علموں کے لیے ایک مستند حوالہ بنا دیا ہے۔
ناشِر (فرید پبلشرز ، اردو بازار کراچی) نے کتاب کی طباعت و اشاعت میں وہ نفاست اور حسن ترتیب برتی ہے جو لائقِ تحسین ہے۔ سرورق کی جاذبیت ، صفحات کی کیفیت ، تصاویر کی مناسبت ، یہ سب مل کر کتاب کے تاثر کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
اس سے قبل اس سلسلے کی دو جلدیں ایوارڈ یافتہ ہو چکی ہیں اور متعدد تعلیمی اداروں نے انھیں اپنے کتب خانوں کا حصہ بنایا ہے۔
اس مرتبہ اطہر اقبال کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” (جِلد چَہارم) پر جناب رضا علی عابدی جیسے صاحبِ طرز ادیب کی تائید اور پسندیدگی نے اس کتاب کی ادبی قدر و قیمت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
جناب اطہر اقبال کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بچوں کی نفسیات اور ان کے ذہنی رجحانات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ ان کی کہانیاں سادگی کے باوجود پرکاری لیے ہوتی ہیں ، ایک طرف بچہ اسے شوق سے پڑھتا ہے تو دوسری طرف بڑا قاری بھی اس سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہی وصف اس کتاب کو دوآتشہ بنا دیتا ہے۔
کہاوتیں صدیوں پر محیط ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں اور مصنف نے انھیں کہانیوں کے ذریعے زندہ و جاوید رکھنے کا عمدہ سامان کر دیا ہے۔
پچیس برس سے زائد عرصے سے بچوں کے ادب کے میدان میں جناب اطہر اقبال کی مسلسل خدمات لائقِ ستائش ہیں۔ ان کی کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” کی یہ چوتھی جِلد اس بات کی مُتقاضی ہے کہ اسے نصاب کا حصہ بنا کر نئی نسل کو اس سے فیض یاب کیا جائے۔
میں مصنف کے اس دراز سفر پر جو انھوں نے زبان و ادب کی خدمت میں طے کیا ہے ، دل کی گہرائیوں سے داد و تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ کتاب نہ صرف ان کی ذاتی کام یابی ہے بلکہ اردو ادب کے سرمائے میں ایک بیش قیمت اضافہ بھی۔





















































































