سيبس یونیورسٹی جامشوورو میں آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ آرٹ ایوارڈ کے اشتراک سے “آرٹ اینڈ ڈیزائن ایز کیٹالسٹ 3.0” پر سیمینار کا انعقاد
جامشورو (16 اپریل 2026): شہید اللہ بخش سومرو (سيبس) یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز، جامشورو میں “آرٹ اینڈ ڈیزائن ایز کیٹالسٹ 3.0” کے عنوان سے ایک اہم اور دلچسپ سیمینار آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ آرٹ ایوارڈ (ادا) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس کا مقصد معاشرے میں آرٹ اور ڈیزائن کی تبدیلی لانے والی طاقت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس تقریب کا مشترکہ اہتمام ڈیپارٹمنٹ آف آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ اور ڈپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن ڈیزائن نے کیا، جس میں معروف آرکیٹیکٹس، ڈیزائنرز اور فنکاروں نے شرکت کی تاکہ طلبہ کو متاثر کیا جا سکے اور ان کی تخلیقی سوچ کو وسعت دی جا سکے۔
ڈیپارٹمنٹ آف آرکیٹیکچر کی چیئرپرسن آرکیٹیکٹ شازیہ ابڑو نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اپنے خطاب میں کہا کہ آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ آرٹ ایوارڈ ایک باوقار پلیٹ فارم ہے جو 2018 سے آرکیٹیکچر، ڈیزائن اور آرٹ میں نمایاں کارکردگی کو تسلیم کرتا آ رہا ہے اور اکیڈمیا کو صنعت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ يه ایوارڈز ملک کے جدید اور سماجی طور پر مؤثر منصوبوں کو سراہنے میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، جو تخلیقی صنعت میں مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم نئے ڈیزائنرز اور آرکیٹیکٹس کو جدت، تنقیدی سوچ اور عالمی سطح پر آگاہی کے مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ ایسے منصوبوں کو بھی نمایاں کرتا ہے جو معاشرتی اور ماحولیاتی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
سیمینار کے دوران معروف آرکیٹیکٹ طارق حسن نے سیاق و سباق سے ہم آہنگ اور پائیدار ڈیزائن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ مقامی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی معیار کو برقرار رکھیں۔ ايس آئی يو ٹی (SIUT) سے وابستہ صائمہ سلیم نے صحت کے شعبے میں جامع ڈیزائن کے حوالے سے اپنے تجربات شیئر کیے اور ڈاکٹر ادیب رضوی کی قیادت میں SIUT میں اشتہاری مہم اور فنکشنل ڈیزائن کے کردار پر روشنی ڈالی۔
ايس اے کے اے (SAKA) آرکیٹیکٹ فرم سے تعلق رکھنے والی آرکیٹیکٹ شازیہ قریشی نے روایتی جمالیات کو جدید ڈیزائن کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر گفتگو کرتے ہوئے طلبہ کو اپنی تخلیقات میں ثقافتی شناخت برقرار رکھنے کی ترغیب دی۔ عالمی شهرت يافته ڈیزائنر علی ريض نے ڈیزائن کے عمل میں ڈیجیٹل ٹولز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بات کی، جبکہ آرٹسٹ منور علی نے آرٹ کے اظہار اور سماجی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوانوں کو آرٹ کو کہانی سنانے اور سماجی تبدیلی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔
تقریب کے دوران ایک پینل ڈسکشن بھی منعقد کی گئی، جس میں آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ آرٹ ایوارڈ کی فاؤنڈنگ ڈائریکٹر آرکیٹیکٹ ماریہ اسلم، آرکیٹیکٹ طارق حسن، آرکیٹیکٹ شازیہ قریشی، آرٹسٹ منور علی اور ڈیزائنر آسماء قریشی نے بطور پینلسٹ شرکت کی۔ اس بحث کا محور آرٹ اور ڈیزائن کی تعلیم کے بدلتے ہوئے تقاضے، صنعت کی توقعات اور تعلیمی و پیشہ ورانہ میدان کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی ضرورت تھا۔ سیشن کو آرکیٹیکٹ شازیہ ابڑو نے ماڈريٹ کیا، جنہوں نے خیالات کے بامقصد تبادلے کو یقینی بنایا۔
یہ سیمینار طلبہ کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہوا، جہاں انہوں نے صنعت کے ماہرین سے براہِ راست سیکھنے، حقیقی دنیا کے چیلنجز کو سمجھنے اور یہ جاننے کا موقع حاصل کیا کہ آرٹ اور ڈیزائن کس طرح جدت، ثقافتی اظہار اور سماجی ترقی کے لیے مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔





















































































