ادب کی تاریخ میں فرانسیسی شاعر آرتھر رمبو کا شمار غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کم عمری میں ہی اپنی منفرد اور تجرباتی شاعری سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔
رمبو نے اپنی مشہور نثری تخلیق “Illuminations” اور خود شائع کردہ کتاب “A Season in Hell” کے ذریعے شاعری میں نئے اسلوب متعارف کرائے۔ ان کی مشہور نظم “Le Bateau Ivre” بھی اسی دور کی یادگار تخلیقات میں شمار کی جاتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ صرف 20 سال کی عمر میں آرتھر رمبو نے شاعری کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ شاعری کے تمام تخلیقی امکانات کو آزما چکے ہیں اور اب اس میدان میں مزید کچھ نیا پیش کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔
شاعری ترک کرنے کے بعد رمبو نے اپنی زندگی کا رخ شمالی افریقہ کی جانب موڑ لیا، جہاں انہوں نے ایک کامیاب تاجر اور مہم جو کے طور پر نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کا یہ غیر معمولی فیصلہ آج بھی ادبی دنیا میں ایک دلچسپ اور منفرد مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
رپورٹ صبیح سالک


















































































