دنیا کی آبادی 8.3 ارب سے تجاوز کر گئی، جیوے پاکستان ڈاٹ کام کا ایک خصوصی ایڈیشن


(جیوے پاکستان ڈاٹ کام) 11 جولائی 2026**

آج دنیا بھر میں یوم آبادی منایا جا رہا ہے، اور اس موقع پر پاکستان کی اولین نیوز ویب سائٹ **جیوے پاکستان ڈاٹ کام** ایک خصوصی ایڈیشن (سپلیمنٹ) شائع کر رہی ہے، جس کا مقصد عوام میں آبادی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی آبادی 8.3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث پائیدار ترقی، غربت، ماؤں کی صحت اور انسانی حقوق جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یوم آبادی ہر سال 11 جولائی کو منایا جاتا ہے تاکہ خاندانی منصوبہ بندی، جنسی مساوات اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

**اس سال 2026 کا خصوصی موضوع ہے:**
“نوجوانوں کو بااختیار بنانا تاکہ وہ ایک منصفانہ اور پرامید دنیا میں اپنی مرضی کے خاندان تشکیل دے سکیں۔”

**جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی اس خصوصی اشاعت میں درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے:**

– تولیدی حقوق کی وکالت
– نوجوانوں کو بااختیار بنانا
– پائیدار ترقی کو فروغ دینا
– صنفی مساوات کو یقینی بنانا

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کا کہنا ہے کہ وہ اس عالمی دن پر اپنے قارئین میں شعور اجاگر کرنے، علم کو فروغ دینے اور بہتر، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کی ترغیب دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ یوم آبادی کا آغاز 1989 میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے کیا تھا، جبکہ یہ دن 11 جولائی 1987 کو منائے جانے والے “پانچ ارب دن” سے متاثر ہے۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام نے اپنے قارئین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم مسئلے پر گفتگو میں شامل ہوں، باخبر رہیں اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید معلومات اور سرکاری تقریبات کے لیے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں:
www.un.org/en/observances/world-population-day

**جیوے پاکستان ڈاٹ کام – پہلی معروف نیوز ویب سائٹ**
**بات کریں، باخبر رہیں، فرق پیدا کریں۔**
🌐 www.jeeveypakistan.com
📱 /JeeveyPakistan

=============================

پاپولیشن ویلفیئر کے شعبے میں وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں اور کردار

وفاقی وزیر مصطفی کمال کی متحک اور فعال قیادت میں حکومتی سطح پر اہم پیشرفت اور کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔
آبادی میں جس رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے وہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ اور چیلنج ہے ، اس حوالے سے آگاہی اور ذمہ داری کا مظاہرہ وقت کا تقاضہ ہے ۔

خواتین کی تولیدی صحت اور زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔

پاکستان میں این جی اوز کا کردار بھی قابل تعریف ہے لیکن حکومت اور این جی اوز کے درمیان کوارڈینیشن کو مزید بہتر مربوط اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے ۔
===================

پاپولیشن ویلفیئر کے شعبے میں وزیر سندھ ڈاکٹر عذرا بیچو ہو کی کارکردگی سب کے لیے مثالی ۔
سندھ میں سیاسی مخالفین بھی ان کی شاندار کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں ۔
دیگر صوبوں کے لیے ان کی کارکردگی اور اقدامات کو رول ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔

پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سندھ کی پروکیورمنٹ کو ٹرانسپیرنٹ اور کرپشن فری بنا کر انہوں نے ایک قابل تحسین اقدام اٹھایا ۔

ماؤں کی زندگی بچانے اور ان کی صحت کو لاحق خطرات سے انہیں محفوظ رکھنے کے لیے صوبائی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ان کی عالمی سطح پر تعریف کی جاتی ہے ۔

نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے اگاہی مہم اور کنونسنگ کی کاوشیں قابل قدر ہیں جن کے بہتر اور حوصلہ افزا نتائج برامد ہو رہے ہیں ۔

سندھ میں خواتین کی تولیدی صحت اور تولیدی مصنوعات کی باآسانی دستیابی اور فراہمی کو یقینی بنا کر حکومت سندھ نے ایک قابل تحسین اقدام اٹھایا ہے ۔
====================

پارلیمانی سیکرٹری پاپولیشن پرنس آغا عمر احمد زئی سے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی ملاقات کررھے ھیں
==================

تیزی سے بڑھتی آبادی، خطرے کی گھنٹی
پاکستان کی سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد کا اضافہ ہورہا ہے، یہ پھیلاؤ پہلے سے انتہائی خستہ حال سماجی اور فزیکل انفرااسٹرکچر پر دباؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے آبادی میں اضافے کی اس شرح کو ایک تشویشناک رجحان قرار دیا جوجی ڈی پی کی شرح نمو کو ختم کردیتی ہے اور قدرتی وسائل پر بوجھ بنتی ہے۔ انہوں نے بارہا آبادی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ملک کے نوجوانوں کو پیداواری معاشی اثاثوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم اگرچہ وزیراعظم نے سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں (بشمول نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضے، جن کے لیے بجٹ 27-2026 میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 40 کروڑ روپے تھی)، اس کے باوجود اپریل 2022 میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سے ملک کے بجٹوں میں خاندانی منصوبہ بندی (پاپولیشن پلاننگ) کے لیے مختص رقوم کی کمی رہی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آبادی میں اضافے کو پاکستان کے لیے وجودی خطرہ قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم کے اس جائز مؤقف کی تائید بھی کی ہے کہ تیزی سے بڑھتی آبادی نہ صرف معاشی ترقی کے ثمرات کو زائل کر رہی ہے بلکہ بچوں میں غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کو فروغ دے رہی ہے اور لاکھوں افراد کو بنیادی تعلیم سے بھی محروم کررہی ہے۔ تاہم بجٹ دستاویزات برائے 27-2026 کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ متعلقہ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن نے آبادی پر قابو پانے کے لیے مختص کسی رقم کا ذکر نہیں کیا ، اگرچہ صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے جو اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکز اب اس مسئلے کے لیے فنڈز مختص کرنا مناسب کیوں نہیں سمجھتا؟ بالخصوص جبکہ وزیر خزانہ کے مطابق یہ ملک کے لیے وجودی خطرہ ہے اور صوبے بھی واضح طور پر اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

اور اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں 82 فیصد وزن آبادی کو دیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جس صوبے کی آبادی جتنی زیادہ ہوگی، اسے قابلِ تقسیم محاصل کے مشترکہ فنڈ (ڈویزیبل پول) سے اتنا ہی زیادہ حصہ ملے گا اور اسی بنیاد پر یہ بھی طے ہوتا ہے کہ وفاقی ملازمتوں میں کسی مخصوص صوبے کا حصہ کتنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2010 سے نافذ العمل این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کریں اور باہمی اتفاقِ رائے سے ایسا فیصلہ کریں جس کے تحت آبادی کو دیے جانے والے وزن میں کم از کم مزید 15 فیصد کمی کی جائے۔

اس کے برعکس بھارت نے اپنی شرحِ پیدائش کو کنٹرول کرلیا ہے جو گر کر 1.9 فیصد پر آ گئی ہے، یعنی یہ آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے درکار 2.1 فیصد کی سطح سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ تاہم یہ فرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ یورپی ممالک کے برعکس، جہاں ریپلیسمنٹ لیول سے کم آبادی کی شرح ریاست کی جانب سے چائلڈ سپورٹ میں توسیع جیسے خدشات کو جنم دے رہی ہے، بھارت ابھی تک اس حد تک نہیں پہنچا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی آبادی کی پالیسی کا مرکز رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی دیکھ بھال ہے اور شاید پاکستان، اپنی محدود مالی گنجائش کے پیشِ نظر اس سے کچھ قیمتی اسباق سیکھ سکتا ہے۔

بنگلہ دیش میں بھی شرحِ پیدائش میں گراوٹ دیکھی گئی ہے جو کہ ریپلیسمنٹ لیول یعنی 2.1 فیصد کے قریب یا اس سے قدرے کم ہو چکی ہے اور بھارت کی طرح یہ کامیابی بھی رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے ذریعے حاصل کی گئی۔

پاکستان اور دیگر دو جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان بنیادی فرق خواندگی کی شرح میں ہے جہاں پاکستان میں یہ شرح 63 فیصد ہے، وہیں بھارت میں یہ 77 فیصد اور بنگلہ دیش میں 79 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

تعلیم کا شعبہ بھی 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے سپرد کر دیا گیا تھا، تاہم کسی بھی صوبے میں اس شعبے کو درکار مالی وسائل فراہم کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی خواہش۔

خلاصہ یہ کہ حکومت کے لیے اشد ضروری ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرے تاکہ صوبائی حصص کی تقسیم کے لیے آبادی کو دیے گئے بے تحاشا وزن پر نظر ثانی کی جاسکے اور صوبائی حکومتیں اپنے تعلیمی بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔
courtesy to BR ….https://urdu.brecorder.com/news/40287895/
========================

نیشنل پاپولیشن کونسل کا قیام، بڑھتی آبادی ترقی کیلئے بڑا چیلنج، وزیراعظم
رانا غلام قادر
آج کا اخباراہم خبریں01 جولائی ، 2026
نیشنل پاپولیشن کونسل کا قیام، بڑھتی آبادی ترقی کیلئے بڑا چیلنج، وزیراعظم
اسلام آباد( رانا غلا م قادر )وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، تیزی سے بڑھتی آبادی سے قومی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ترقی کیلئے بڑا چیلنج ہے۔آ بادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے ان خیا لات کا اظہار گزشتہ روز اپنی زیرِ صدارت بہبود آبادی کے حوالے سےمنعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،وزیراعظم نےنیشنل پاپولیشن کونسل کا افتتاحی اجلاس جلد بلانے اور قومی سطح پر آبادی سے متعلق پالیسی سازی کیلئے نیشنل پاپولیشن کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ جلدمرتب کرنے کی ہدایت کی۔
================
: لاہور میں آبادی کے استحکام اور خاندانی منصوبہ بندی پر اہم اجلاس ، سینئر وزیر مریم اورنگزیب خصوصی شرکت **

**لاہور (ویب ڈیسک) –** پنجاب میں آبادی کے استحکام اور خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لیے آج پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں ایک اہم لرننگ ایونٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں صوبائی حکومت، محکمہ صحت، بین الاقوامی شراکت داروں اور طبی ماہرین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔

“آبادی کے استحکام کے لیے خاندانی منصوبہ بندی میں مزید سرمایہ کاری ناگزیر” کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس پروگرام کا مقصد شواہد پر مبنی تحقیقات پیش کرنا ہے تاکہ پنجاب میں شرح پیدائش کو مؤثر اور جدید حکمت عملیوں کے ذریعے کم کرکے آبادی کو کنٹرول کرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی پنجاب کی سینئر وزیر محترمہ مریم اورنگزیب ہوں گی، جو اختتامی خطاب کریں گی۔ جبکہ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمیران نذیر بطور مہمانِ اعزاز شرکت کریں گے اور اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

اس موقع پر سیکرٹری صحت و آبادی پنجاب نادیہ ثاقب، برطانوی ہائی کمیشن لاہور کے ڈپٹی ہائی کمشنر بین وارنگٹن، اور پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آراء منظور وٹو بھی خطاب کریں گی۔ اس کے علاوہ پاپولیشن کونسل، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، محکمہ صحت، سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان (SOGP) اور پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام کے ماہرین بھی شرکت کریں گے۔

اجلاس کے اہم حصوں میں “پنجاب میں آبادی کے استحکام کی جانب پیش رفت” کے موضوع پر ایک خصوصی پینل مباحثہ بھی شامل ہے، جس میں خاندانی منصوبہ بندی، ماں اور بچے کی صحت، اور پائیدار آبادی کے حصول کے لیے عملی پالیسیوں اور اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ اس مباحثے کا مقصد شرکا کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے تجربات اور سفارشات کا تبادلہ کر سکیں۔

=========================

آبادی کا بم، پانی، خوراک اور وسائل کے لیے خطرہ، خاندانی منصوبہ بندی مربوط حکمت عملی کی ضرورت، وقفہ مہم کا سیمنار
03 جولائی ، 2026
لاہور ( محمد صابر اعوان سے )آبادی کا بم پانی ، خوراک اور دیگر وسائل کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے ، پہلے سے موجود سکول ، ہسپتال ، پبلک ٹرانسپورٹ اوردیگر وسائل کم پڑتے جا رہے ہیں،بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی دن بدن چیلنج بنتا جا رہا ہے پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آبادی میں توازن کا مسئلہ حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی ، خاندانوں، برادریوں، مذہبی رہنماؤں، شراکت داروں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہے وزیر صحت و آبای خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت و آبادی کیلئے خطیر بجٹ رکھا ہے،، وزیر اعلی ٰ مریم نے اس معاملہ میں لیڈ لیتےہوئے اسے اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے پاپولیشن کونسل کا اعلان خوش آئند۔ان خیالات کا اظہار جنگ گروپ اور جیو ٹی وی کی وفقہ مہم نے آبادی کو توازن میں رکھنے کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کئے ہیں اور لوگوں کی سوچ بدلی ہے مقرین نے جنگ جیو گروپ کا ایک مضبوط اور موثر مہم چلانے پر شکریہ ادا کیا ان خیالات کا اظہار مسٹر بین وارنگٹن،زیبا ستار،علی میر،ذکیہ شاہنواز،جہاں آراء منظوروٹو عشرت اشرف و دیگر مقررین نے پاپولیشن کونسل کی جانب سے برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (FCDO) کے تعاون سےمقامی ہوٹل میں ڈیلیورنگ ایکسیلیریٹڈ فیملی پلاننگ اِن پاکستان (DAFPAK) پروگرام کے تحت منعقدہ سیمینار”لرننگ ایونٹ برائے آبادی میں استحکام” سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ تقریب میں برطانوی ہائی کمیشن کے نمائندے مسٹر بین وارنگٹن ، پاپولیشن کونسل کےکنٹری ڈائریکٹر علی میر ، زیبا ستار ، رکن اسمبلی ذکیہ شاہنواز ، جہاں آراء منظور وٹو ، ذوالفقار علی شاہ ، عشرت اشرف ، سیکرٹری محکمہ صحت و آبادی ثانیہ ثاقب اور دیگر موجود تھے۔ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا حکومت پنجاب آبادی میں استحکام کو ترقیاتی ترجیحات میں سرفہرست رکھنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں توازن کا مسئلہ صرف حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے خاندانوں، مقامی برادریوں، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ پنجاب شواہد پر مبنی پالیسیوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہوئے اس حوالے سے قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
=======================

پاکستان کی آبادی 40 کروڑ سے تجاوز کر گئی تو تباہی ہوگی، وزیر خزانہ کا انتباہ
04 جولائی ، 2026
فیصل آباد(- وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی 40 کروڑ سے تجاوز کرگئی تو تباہی ہوگی۔فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف سی سی آئی ) میں خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی کا 40 کروڑ سے تجاوز کرنا تباہی لائے گا،انہوں نے کہا کہ حکومت بزنس کمیونٹی کو اسلام آباد بلانے کے بجائے خود ان کے پاس حاضر ہو رہی ہے تاکہ اسٹیک ہولڈرز سے یہ جانا جا سکے کہ بجٹ میں کیا درست ہوا اور کن امور پر تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے چیمبرز سے تعاون کی بھی اپیل کی۔وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ پوسٹ بجٹ میٹنگ کا یہ تاثر غلط ہے کہ یہ اگلے بجٹ کی تیاری کا آغاز ہے، ایکسپورٹرز کو سبسیڈائز فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔وزیرِ خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ کے خاتمے سے ایران کے ساتھ تعلقات کا فائدہ ملکی معیشت کو ملے گا۔