نیلم ویلی کو زمین پر جنت کا ایک حسین خطہ کہا جاتا ہے، تاہم یہاں کا سب سے دلکش مگر خطرناک راستہ تاؤبٹ تک جاتا ہے، جو کشمیر کا آخری گاؤں ہے۔ اگر آپ اس خوبصورت علاقے کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ رپورٹ آپ کیلئے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے تاکہ آپ وقت اور پیسے دونوں کی بچت کر سکیں۔

تاؤبٹ تک کا راستہ
سفر کا آغاز کیرن سے ہوتا ہے، جو لائن آف کنٹرول (LOC) کے قریب واقع ایک خوبصورت مقام ہے۔ کیرن تک اسلام آباد اور لاہور سے گاڑیوں کے ذریعے آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ یہاں سے آگے کا سفر نیلم ویلی کی دلکش وادیوں سے گزرتا ہوا شاردہ اور دیگر علاقوں تک جاتا ہے۔
سڑک کی صورتحال
راستے میں کئی مقامات پر سڑک کی حالت مختلف ہے۔ حال ہی میں کیل-سیری پل کی تعمیر کے بعد سفر نسبتاً بہتر ہوا ہے، تاہم کچھ حصے اب بھی زیرِ تعمیر ہیں، جہاں احتیاط لازمی ہے۔ یہ راستہ جیپ اور بعض جگہوں پر پرائیویٹ گاڑیوں کیلئے قابلِ رسائی ہے، مگر موسمی حالات کے مطابق صورتحال بدل سکتی ہے۔
جنگلی حیات اور قدرتی نظارے
نیلم ویلی کے اس سفر کے دوران سڑک کے کنارے جنگلی حیات بھی دیکھی جا سکتی ہے، جن میں بندروں کی موجودگی پہلی بار نوٹ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بلند و بالا گلیشیئرز اور سرسبز پہاڑ اس سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔
پوشیدہ سیاحتی مقامات
راستے میں دودھنیال، داسوت اور مشہور مرگلہ آبشار جیسے دلکش مقامات بھی آتے ہیں جو سیاحوں کیلئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔
سفری تجاویز
سیاحوں کیلئے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ شاردہ کے رش سے بچنے کیلئے واڑی ہوٹل جیسے پرسکون مقامات پر قیام کریں، تاکہ سفر زیادہ آرام دہ اور پر سکون ہو سکے۔
نیلم ویلی سے تاؤبٹ تک کا یہ سفر نہ صرف خطرات سے بھرپور ہے بلکہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ بھی فراہم کرتا ہے۔
Trotter Pakistan youtube channel

رپورٹ صبیح سالک


















































































