
ایم پی پی کے انچارج سینٹرل کمیٹی نہال احمد صدیقی کی رضوان احمد فکری کی عیادت
ڈاکٹر عشرت العباد خان کی جانب سے پھولوں کا گلدستہ پیش، جلد صحت یابی کی دعا
محمد پناہ پنہیار کی بھی اسپتال آمد، کامیاب آپریشن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
ایم پی پی قیادت اور کارکنان رضوان احمد فکری کی صحت یابی کے لیے دعاگو
مقامی اسپتال میں زیر علاج رضوان احمد فکری کی عیادتوں کا سلسلہ جاری
کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل/اسٹاف رپورٹر) میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے انچارج سینٹرل کمیٹی نہال احمد صدیقی نے مقامی اسپتال میں زیر علاج ایم پی پی کے سیکریٹری نشر و اشاعت رضوان احمد فکری کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
اس موقع پر نہال احمد صدیقی نے رضوان احمد فکری کی جلد اور مکمل صحت یابی، کامیاب آپریشن اور درازیٔ عمر کے لیے خصوصی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ رضوان احمد فکری تنظیم کا قیمتی اثاثہ ہیں اور پوری تنظیم ان کی صحت کے لیے دعاگو ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی سماجی، صحافتی اور تنظیمی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔
دریں اثناء ایم پی پی کے رہنما محمد پناہ پنہیار نے بھی اسپتال پہنچ کر رضوان احمد فکری کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر سابق گورنر سندھ، نشانِ امتیاز اور میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے روحِ رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان کی جانب سے رضوان احمد فکری کے لیے پھولوں کا خوبصورت گلدستہ پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے خصوصی پیغام میں رضوان احمد فکری کی جلد صحت یابی، کامیاب علاج اور مکمل تندرستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایم پی پی کی مرکزی قیادت، سینٹرل کمیٹی، صوبائی و ضلعی عہدیداران، کارکنان، سماجی و ادبی شخصیات اور صحافتی حلقوں نے بھی رضوان احمد فکری کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد صحت مند ہو کر اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گے۔
رضوان احمد فکری نے ڈاکٹر عشرت العباد خان، نہال احمد صدیقی، محمد پناہ پنہیار، پارٹی قیادت، دوستوں، صحافی برادری اور تمام خیرخواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ملنے والی محبت، دعائیں اور حوصلہ افزائی ان کے لیے باعثِ قوت ہیں۔
==========================
رضوان احمد فکری کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری
آپریشن طبی وجوہات کی بنا پر مؤخر، ملک بھر کی سماجی، صحافتی، سیاسی اور فلاحی شخصیات کی نیک تمنائیں
ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج جاری، صحت یابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل
مختلف تنظیموں، صحافیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں کا اظہارِ یکجہتی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)
مِیری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے سیکریٹری نشر و اشاعت رضوان احمد فکری ان دنوں زیرِ علاج ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کا مجوزہ آپریشن طبی حالت مکمل طور پر مستحکم نہ ہونے کے باعث ایک دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ معالجین مسلسل ان کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ طبی صورتحال بہتر ہونے پر آپریشن کا نیا شیڈول جاری کیا جائے گا۔
رضوان احمد فکری کی علالت کی خبر کے بعد سیاسی، سماجی، صحافتی، ادبی اور فلاحی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ملک بھر سے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما اور رضوان احمد فکری کے دیرینہ دوست زاہد فخری، لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عمران علی شاہ، سینئر کالم نگار اور ویب اونر محبوب چشتی، سینئر صحافی شکیل سواتی، قومی حمایت گروپ کے سی ای او وحید منظر، سابق گورنر سندھ کے صاحبزادے شمس العباد خان، نیہال احمد صدیقی، نعیم نمک والا، جنگ گروپ کے سید ناصر، ایم پی اے علی احمد جان، راحیل میمن، سالک مجید، ڈیلی وینس کے ایڈیٹر، آزاد رائٹرز فورم پاکستان، انجمن اتحادِ ملت، مہاجر اتحاد نیشنل موومنٹ (MINM) اور دیگر تنظیموں کے نمائندوں نے رضوان احمد فکری کی جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اظہار کیا ہے۔
اسی طرح یونس میمن، عقیل انبالوی، محمد ابراہیم سومرو ایڈووکیٹ، وزیر ساہتو، نیلوفر بختیار، بریگیڈیئر شاہد، کرنل ثاقب مبین، علی گوہر، میجر فیصل، کرنل حسن، فیصل حسین، صلاح الدین، ابرار بختیار، عابد حسین، ریحان ظفر، ایس ایم نقی، زبیر قریشی، جواد خان، فیضان خان، فرقان فاروقی، نبیل خان، اصغر ایڈووکیٹ، لوڈھی ایڈووکیٹ، طارق ایڈووکیٹ، عرفان ایڈووکیٹ، احسان انجینئر، فرحان خان، شاکر علی، محمد علی، حسن شاریق، عمار شاریق، اطہر قریشی، اظہر قریشی، مظہر قریشی، محمد کاشف حبیب، ظفر قریشی، مظفر قریشی، ایم پی اے اقبال قریشی، زاہد قریشی، عرفان غفور خان، پروین اختر، حسین اختر، یاسمین اختر، حدیقہ شاریق، فائزہ عظیم، عظیم احمد، قمر خانزادہ اور دیگر شخصیات نے بھی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
دعا گو شخصیات نے کہا کہ رضوان احمد فکری صحافت، سماجی خدمت اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی خدمات کو مختلف حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ رضوان احمد فکری کو جلد مکمل صحت عطا فرمائے، کامیاب آپریشن نصیب کرے اور انہیں دوبارہ صحت و توانائی کے ساتھ اپنی قومی، سماجی اور صحافتی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔
آخر میں تمام دوستوں، ساتھیوں، کارکنوں، صحافیوں اور سماجی شخصیات نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ رضوان احمد فکری کی جلد صحت یابی، کامیاب آپریشن اور درازیٔ عمر کے لیے خصوصی دعا کریں۔
======================
کے ایم سی اور ٹی ایم سیز کے بجٹ عوام دشمن، میگا فراڈ اور جھوٹے دعوؤں کا پلندہ ہیں، ایم پی پی
تین سال میں کراچی کو تباہ کرنے والوں کے پاس اب عوام کو دینے کے لیے کیا ہے؟
بجٹ اجلاس کے باہر ملازمین اپنے حقوق اور بقایاجات مانگتے رہے، بجٹ میں ان کے لیے کیا رکھا گیا؟
ہیلتھ کارڈ صرف فروری 2027 تک کیوں؟ انشورنس کمپنی کے انتخاب کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں
کراچی کو تجربہ گاہ اور اے ٹی ایم مشین سمجھنا بند کیا جائے، ایم پی پی آرگنائزنگ کمیٹی
کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل/ اسٹاف رپورٹر)
مِیری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور مختلف ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز (ٹی ایم سیز) کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو عوام دشمن، حقائق سے دور اور محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہری مسائل کے انبار کے باوجود کراچی کے عوام کو ایک بار پھر وعدوں، دعوؤں اور اعلانات کے سہارے چھوڑ دیا گیا ہے۔
کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کراچی کے میئر پہلے یہ بتائیں کہ مفتیٰ وصولیوں (MUCT) کے علاوہ کے ایم سی کے دیگر تمام محکموں کی گزشتہ تین برسوں میں مجموعی ریکوری کیا رہی؟ کون سے ادارے منافع میں گئے اور کون سے خسارے میں؟ شہریوں کو اصل اعداد و شمار سے آگاہ کیا جائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران کراچی کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہیں، سیوریج کا نظام بدترین صورتحال سے دوچار رہا، پارکس، کھیل کے میدان، اسپتال، ڈسپنسریاں اور دیگر شہری سہولیات زبوں حالی کا شکار رہیں۔ ایسے میں وہ عناصر جو تین سال کے دوران شہر کی حالت بہتر نہ بنا سکے، اب نئے بجٹ کے ذریعے کون سا تیر مارنے جا رہے ہیں؟
ایم پی پی کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران کے ایم سی اور دیگر بلدیاتی اداروں کے ملازمین اپنے بقایا جات، تنخواہوں، پنشن اور دیگر مالی حقوق کے لیے اجلاس کے باہر احتجاج کرتے رہے، مگر بجٹ دستاویزات میں ان ملازمین کی فلاح و بہبود، مستقل روزگار، تنخواہوں میں اضافے اور بقایا ادائیگیوں کے لیے کیا عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔
رہنماؤں نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے ملازمین کے لیے ہیلتھ کارڈ اسکیم کا اعلان خوش آئند ہو سکتا ہے، لیکن یہ بتایا جائے کہ یہ سہولت صرف فروری 2027 تک ہی کیوں محدود رکھی گئی ہے؟ اس منصوبے کے لیے منتخب کی گئی انشورنس کمپنی کون ہے؟ اس کے انتخاب کا طریقہ کار کیا تھا؟ اور کیا اس عمل میں مکمل شفافیت اختیار کی گئی؟ عوام اور ملازمین کو ان تمام سوالات کے جوابات دیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، مگر افسوس کہ اسے مسلسل سیاسی مفادات، نمائشی منصوبوں اور اعلانات کی نذر کیا جا رہا ہے۔ شہر کے عوام صاف پانی، بہتر ٹرانسپورٹ، نکاسیٔ آب، صحت، تعلیم اور بنیادی بلدیاتی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ بجٹ میں بلند و بانگ دعوؤں کے سوا کوئی واضح روڈ میپ نظر نہیں آتا۔
ایم پی پی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کے ایم سی اور تمام ٹی ایم سیز اپنے مالی معاملات، ترقیاتی منصوبوں، ریکوری، اخراجات اور ملازمین سے متعلق پالیسیوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کریں۔ کراچی کے شہری اب خالی وعدوں اور نمائشی اعلانات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ کراچی کو کسی کی جاگیر، تجربہ گاہ یا ٹرن اوور مشین نہ سمجھا جائے۔ شہر کے کروڑوں شہری جوابدہی، شفافیت اور حقیقی ترقی چاہتے ہیں۔ اگر عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو مِیری پہچان پاکستان (ایم پی پی) شہریوں، مزدوروں، ملازمین اور مختلف سماجی طبقات کے ساتھ مل کر بھرپور عوامی آواز بلند کرے گی۔


















































































