
پریس ریلیز
کوئٹہ، 30 جون 2026: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ضلع آواران میں ایک اہم قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین، طلبہ و طالبات اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں قبائلی عمائدین اور عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن عوام، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت آوران میں ترقیاتی منصوبے لیکر آرہی ہے ، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہی ہیں۔
وزیراعلی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان آوران سمیت پورے مکران ڈویژن کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، جن کے نتیجے میں علاقے کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے علاقے میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے اسی نوعیت کے مزید ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ علاقے کی پائیدار ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کے فروغ کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آواران کے عوام امن پسند، باشعور اور ترقی پسند ہیں، جنہوں نے علاقے کی ترقی اور استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواران کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور آہنی ہاتھوں سے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
جرگے میں رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین اور دیگر شرکاء نے علاقے میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے قومی یکجہتی، پائیدار امن اور علاقائی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
جرگے کے دوران شرکاء نے علاقے کو درپیش مسائل اور عوامی اہمیت کے مختلف امور پر سوالات اور تجاویز پیش کیں، جن پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے تفصیلاً جوابات دیے ۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو عوامی مسائل کے فوری، مؤثر اور دیرپا حل کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
جرگے میں ضلع آواران کے معززینِ علاقہ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں عوام اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
=========================
خبر نامہ نمبر5220/2026
کوئٹہ، 30 جون: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ضلع آواران میں ایک اہم قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین، طلبہ و طالبات اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں قبائلی عمائدین اور عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن عوام، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت آوران میں ترقیاتی منصوبے لیکر آرہی ہے، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہی ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان آوران سمیت پورے مکران ڈویژن کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، جن کے نتیجے میں علاقے کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے علاقے میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے اسی نوعیت کے مزید ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ علاقے کی پائیدار ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کے فروغ کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آواران کے عوام امن پسند، باشعور اور ترقی پسند ہیں، جنہوں نے علاقے کی ترقی اور استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواران کے پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور آہنی ہاتھوں سے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ جرگے میں رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین اور دیگر شرکاء نے علاقے میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے قومی یکجہتی، پائیدار امن اور علاقائی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔جرگے کے دوران شرکاء نے علاقے کو درپیش مسائل اور عوامی اہمیت کے مختلف امور پر سوالات اور تجاویز پیش کیں، جن پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے تفصیلاً جوابات دیے۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو عوامی مسائل کے فوری، مؤثر اور دیرپا حل کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ جرگے میں ضلع آواران کے معززینِ علاقہ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین اور طلبہ و طالبات کی بھرپور شرکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں عوام اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
خبر نامہ نمبر5221/2026
کوئٹہ/30 جون: ملاوٹی دودھ اور غیر معیاری خوراک کے خاتمے کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوبے کے مختلف اضلاع میں بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے 2 دودھ کی دکانیں سیل، 25 فوڈ بزنس آپریٹرز کو جرمانے اور 18 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔ کارروائیوں کے دوران دودھ میں ملاوٹ، صفائی کی ناقص صورتحال، زائد المیعاد اشیاء کی فروخت، غیر قانونی رنگوں، ناقص اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں پر قانونی ایکشن لیا گیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق ژوب میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے اسسٹنٹ کمشنر ژوب کے ہمراہ متعدد دودھ کی دکانوں اور ڈیری فارمز کا معائنہ کیا۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ اور اسکمڈ ملک ثابت ہونے پر 2 دودھ کی دکانیں سیل کر دی گئیں جبکہ 2 ڈیری فارمز سمیت مجموعی طور پر 4 یونٹس کو جرمانہ کیا گیا اور 5 بہتری نوٹسز جاری کیے گئے۔ معائنے کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ، چکنائی کی کمی، حشرات کی موجودگی، آلودہ برتن، غیر صحت بخش ماحول اور صفائی کے ناقص انتظامات جیسے سنگین نقائص سامنے آئے۔علاوہ ازیں کوئٹہ میں مختلف انسپیکشن ٹیموں نے کاسی روڈ، علمدار روڈ، نچاری روڈ، ہزارہ ٹاؤن، ایئرپورٹ روڈ، پٹیل روڈ، میر احمد خان روڈ اور سرکی روڈ پر کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 13 فوڈ بزنس آپریٹرز کو جرمانے اور 5 اصلاحی نوٹسز جاری کیے۔ کارروائیوں کے دوران دودھ میں پانی کی ملاوٹ پر 2 ملک شاپس کے خلاف ایکشن لیا گیا جبکہ 3 ملک شاپس کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ مختلف جنرل اسٹورز، ریسٹورنٹس، ہوٹلز، بیکریز، بیف شاپس اور دیگر مراکز میں ناقص صفائی، بغیر لائسنس کاروبار، خراب گوشت، غیر معیاری اسٹوریج، حشرات کی موجودگی، کھلے کوڑے دان، غیر فوڈ گریڈ رنگوں، زائد المیعاد اشیاء اور ممنوعہ مصنوعات کی موجودگی پر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ اسی دوران نئے واٹر پلانٹ مالکان کو بی ایف اے ایس او پیز، رجسٹریشن اور محفوظ پانی کی تیاری سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی گئی جبکہ نان شاپس میں کارکنوں کو ذاتی حفاظتی سامان (PPEs) تقسیم کرکے محفوظ خوراک کی تیاری سے متعلق عملی آگاہی دی گئی۔اسی طرح پنجگور میں پرانا تربت روڈ اور شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 2 جنرل اسٹورز کو جرمانہ اور 5 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ معائنے کے دوران زائد المیعاد مشروبات، اسنیکس، ملک کریم، جوسز، مصالحہ جات، پابندی عائد چائنیز نمک اور نان فوڈ گریڈ کلرز ضبط کر لیے گئے۔خضدار میں آر سی ڈی روڈ پر قائم مختلف فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کے دوران 2 ریسٹورنٹس، 3 جنرل اسٹورز اور 1 نان شاپ سمیت 6 مراکز کو جرمانہ جبکہ 8 مراکز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران انتہائی ناقص صفائی، گندگی، مکھیوں کی بھرمار، زنگ آلود برتن، ناقص نکاسی آب، کم وزن روٹی کی تیاری اور زائد المیعاد اشیاء کی فروخت پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ملاوٹی دودھ، غیر معیاری خوراک اور عوامی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بی ایف اے قوانین، حفظانِ صحت کے اصولوں اور فوڈ سیفٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
خبر نامہ نمبر5222/2026
کوئٹہ30 جون: پی ایس پی آفیسر محترمہ شہلہ قریشی نے ڈپٹی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری کا چارج سنبھال کر باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں۔چارج سنبھالنے کے بعد بلوچستان کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر بدر لائن میں ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈپٹی کمانڈنٹ محترمہ شہلہ قریشی نے کی۔ اجلاس میں تمام زونل کمانڈرز، ونگ کمانڈرز اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمانڈنٹ نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ فورس میں نظم و ضبط کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ہر افسر و اہلکار اپنی حاضری اور ڈیوٹی کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں کی فلاح و بہبود (ویلفیئر) کو اولین ترجیح دی جائے گی اور ان کے پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔محترمہ شہلہ قریشی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دورانِ ڈیوٹی عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ذمہ داری سمجھتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری عوام کی خدمت، امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی۔اجلاس کے اختتام پر افسران نے ڈپٹی کمانڈنٹ کو اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور بلوچستان کانسٹیبلری کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
=======================
خبر نامہ نمبر 2026/5223
کوئٹہ 30 جون۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ اور میٹرو ولیٹن کارپوریشن کا صوبائی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے تحت کاسی روڈ پر انسدادِ تجاوزات آپریشن کیا گیا۔آپریشن اسسٹنٹ کمشنر سٹی امیر حمزہ کی نگرانی میں ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے مشترکہ طور پر کیا، جس دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری اراضی سے غیرقانونی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں و تاجروں سے شہر کو صاف اور منظم رکھنے میں تعاون کی اپیل کی گئی۔
خبر نامہ نمبر 2026/5224
ضلع چمن30جون :ـڈپٹی کمشنر چمن، حبیب احمد بنگلزئی نے آج ضلع چمن کے مختلف علاقوں میں بی ایس ڈی آئی (BSDI) فیز ٹو اور فیز تھری کے تحت جاری تعمیراتی اور مرمتی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے جاری ترقیاتی کاموں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل، کام کے معیار، رفتار اور مجموعی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں اعلیٰ معیار کے تعمیراتی میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے اور کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ منصوبوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص تعمیراتی کام کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ضلع چمن کے عوام ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے ضلع کے مختلف علاقوں میں سڑکوں، پولیس تھانوں، بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) اور سرکاری اسکولوں میں جاری تعمیراتی و مرمتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے منصوبوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی میٹریل، کام کے معیار اور پیش رفت کا معائنہ کرتے ہوئے متعلقہ افسران اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعمیراتی کاموں میں غفلت، غیر معیاری میٹریل یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ تمام منصوبوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
خبر نامہ نمبر 2026/5225
ضلع چمن20جون:ـاسسٹنٹ کمشنر سٹی چمن، عزیز اللہ کاکڑ نے آج چمن شہر کے مختلف شاہراہوں اور بازاروں کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا، تجاوزات کا جائزہ لینا اور ریڑھی بانوں کو مختص کردہ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کا معائنہ کرنا تھا۔دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے ریڑھی بانوں کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی شاہراہ، بازار یا عوامی گزرگاہ پر ریڑھیاں کھڑی کرکے خرید و فروخت نہ کریں، کیونکہ اس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے، پیدل چلنے والوں کو مشکلات پیش آتی ہیں اور دکانداروں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےانہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریڑھی بانوں کے لیے مخصوص جگہ مختص کی گئی ہے، لہٰذا تمام ریڑھی بان اپنی ریڑھیاں اسی مقررہ مقام پر منتقل کریں اور وہیں اپنا کاروبار جاری رکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ شہر میں ٹریفک کی روانی اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے تجاوزات کے خلاف کارروائی اور نگرانی کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے۔


















































































