صرافہ بازار دکان تنازع: صدر حاجی حنیف میمن کی ہنگامی پریس کانفرنس، وقار میمن کے الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر دیا

میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
صرافہ بازار دکان تنازع: صدر حاجی حنیف میمن کی ہنگامی پریس کانفرنس، وقار میمن کے الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مسترد کر دیا وقار میمن کی معافی تلافی الزامات واپس لے لیے تفصیلات کے مطابق میرپورخاص شہر کے اہم اور معروف تجارتی مرکز صرافہ بازار کے متحرک صدر حاجی حنیف میمن نے صرافہ بازار یونین کے سرپرست اعلیٰ حاجی حنیف میمن، سینیئر نائب صدر عبدالحق شیخ، جنرل سیکرٹری چاند شیخ اور دکان نمبر 617 کے سابقہ مالکان عتیق الرحمن راجپوت اور احسن راجپوت کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ واضح رہے کہ آج چند گھنٹوں پہلے وقار میمن نامی شخص نے حاجی حنیف میمن پر ایک پریس کانفرنس کے دوران متعدد الزامات لگائے تھے، جن کا جواب دینے کے لیے حاجی حنیف میمن نے اس ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔​صحافیوں سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے صرافہ بازار کے صدر حاجی حنیف میمن نے دکاندار وقار میمن کی جانب سے سوشل میڈیا اور پریس کانفرنس میں صرافہ بازار کی دکان نمبر 617 کی فروخت کے معاملے پر مبینہ طور پر لگائے گئے تمام الزامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور میرپورخاص پولیس سمیت اعلیٰ ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لے کر شفاف انکوائری کے ذریعے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران حاجی حنیف میمن نے وقار میمن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکشاف کیا کہ ہری رام کشوری لال اور میر بابو تالپور سمیت شہر اور بیرونِ شہر کے متعدد افراد کے کروڑوں روپے کھا جانے والا اور فراڈ میں ملوث شخص وقار میمن خود کو بچانے کے لئے اب ہم پر اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے الزام تراشی کر رہا ہے۔​اس موقع پر حاجی حنیف میمن کے ہمراہ وہ تمام مالکان بھی موجود تھے جنہوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے دکان کی رجسٹری حاجی حنیف میمن کے نام منتقل کی تھی اور جگہ بھی باہمی رضا مندی سے فروخت کی تھی۔ دکان فروخت کرنے والے سابقہ مالکان نے صحافیوں کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا صرف ایک شریک کار مصباح تھا جس نے حاجی حنیف میمن کو جگہ فروخت کرنے کے بجائے وقار میمن کو فروخت کی تھی، جبکہ باقی تمام مالکان نے وقار میمن کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حاجی حنیف میمن تو وقار کو بیٹوں کی طرح عزیز رکھتے تھے مگر آج اس نے محسن کشی کرتے ہوئے حنیف میمن کے ساتھ دشمنوں والا رویہ اختیار کیا ہے حاجی حنیف میمن نے پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ ہمارے ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بالکل پاک ہیں اور ان کی کبھی بھی شہری یا تجارتی امور میں کوئی دخل اندازی نہیں رہی، ہماری تمام عمر میرپورخاص میں گزر گئی ہے مگر ہم نے کبھی بھی اپنے اداروں کی شہری معاملات میں ایسی کوئی مداخلت نہیں دیکھی۔ انہوں نے سیاسی وابستگی کے حوالے سے دبنگ مؤقف اپنائے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اور اس کے خلاف ایک قدم بھی نہیں جائیں گے، انہوں نے تمام تر صورتحال اور معاملات سے اعلیٰ عہدیداروں کو تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے اور وہ پارٹی کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائن اور پالیسی پر سختی سے کاربند رہیں گے کیونکہ وہ پارٹی کے ایک دیرینہ, مخلص اور ادنیٰ کارکن ہیں۔​پریس کانفرنس کے اختتام پر حاجی حنیف میمن نے وقار میمن کے خلاف فوری اور عبرتناک کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے الزامات عائد کرنے والے عناصر کے خلاف ایسی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جو مثال بن سکے تاکہ آئندہ کسی بھی معزز شہری یا تاجر رہنما پر اس طرح کی بے بنیاد الزام تراشی کرنے کی کوئی جرأت نہ کر سکے