جی ایچ آر ایف اور سوان کے زیرِ اہتمام 20 خواتین کی سلائی گریجویشن تقریب، سلائی مشینیں اور اسناد تقسیم کی گئیں

میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
جی ایچ آر ایف اور سوان کے زیرِ اہتمام 20 خواتین کی سلائی گریجویشن تقریب، سلائی مشینیں اور اسناد تقسیم کی گئیں تفصیلات کے مطابق گلوبل ہیومینیٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن (GHRF) اور سدرن ویمنز ایڈ نیٹ ورک (SWAN) کے زیرِ اہتمام میرپورخاص میں 20 خواتین کی سلائی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی جس میں کورس مکمل کرنے والی طالبات میں اسناد اور سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں تاکہ وہ اپنے ہنر کو ذریعہ معاش بنا کر خود کفیل زندگی گزار سکیں اس موقع پر جی ایچ آر ایف کے کنٹری ہیڈ امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ آر ایف اور سوان ملک بھر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف فلاحی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ میرپورخاص میں سلائی سینٹر کی طالبات نے کامیابی سے اپنا کورس مکمل کیا ہے جنہیں تنظیم کی جانب سے سلائی مشینیں تحفے میں دی گئی ہیں تاکہ وہ گھروں میں رہ کر باعزت روزگار حاصل کر سکیں انہوں نے بتایا کہ تنظیم کے سلائی سینٹرز لاہور، قصور، چکوال، کراچی، میرپورخاص، بدین سمیت ملک کے تقریباً 12 سے 15 شہروں میں فعال ہیں اور یہ منصوبے مستقل بنیادوں پر جاری ہیں ان کا کہنا تھا کہ پہلے سلائی کورس چھ ماہ پر مشتمل تھا تاہم اب اسے نو ماہ کا کر دیا گیا ہے جس کے لیے باقاعدہ نصاب بھی متعارف کرایا گیا ہے کورس مکمل کرنے والی طالبات کو سلائی مشین فراہم کی جاتی ہے جبکہ مستحق بچیوں کی شادی کے لیے بھی ہر ممکن تعاون کیا جاتا ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا اظہر حسین نے کہا کہ جی ایچ آر ایف کی یہ کاوش قابلِ تحسین ہے جس کے ذریعے دیہی علاقوں کی بچیوں کو ہنر سکھا کر انہیں خود اعتمادی اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فلاحی منصوبوں کو مزید فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر فوکل پرسن انتصار بلوچ ان کی ٹیم، اساتذہ اور طالبات کے والدین کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جی ایچ آر ایف مستقبل میں بھی خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھے گی تقریب میں یاسر اشفاق، ارشد خان، محمد منصور خان اور فوکل پرسن انتصار بلوچ سمیت سماجی شخصیات، اساتذہ، طالبات اور ان کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔
=====================

میرپورخاص
رپورٹ
تحسین احمد خان
پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے صوبائی رہنما آصف معراج راجپوت نے کہا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی حالیہ رپورٹ نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی کارکردگی پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ادارے کو سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے شعبوں میں سنجیدہ چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات براہِ راست بجلی صارفین پر مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نیپرا رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-21 سے 2024-25 کے دوران حیسکو کے لیے 72.6 ارب روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات کی منظوری دی گئی، تاہم صرف 13.4 ارب روپے خرچ کیے جا سکے۔ اس بڑے عملدرآمدی خلا کے باعث فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور گرڈ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن مطلوبہ رفتار سے مکمل نہ ہو سکی، جبکہ صارفین آج بھی کم وولٹیج، بار بار ٹرانسفارمرز کی خرابی اور بجلی کی غیر مستحکم فراہمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔آصف معراج راجپوت نے کہا کہ حیسکو نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے 112.35 ارب روپے کا سرمایہ کاری منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں نئے گرڈ اسٹیشنز، 66 کے وی سے 132 کے وی نظام کی اپ گریڈیشن، ٹرانسفارمرز کی توسیع اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کی بحالی شامل ہے، تاہم نیپرا نے خبردار کیا ہے کہ اگر عملدرآمد کی صلاحیت بہتر نہ بنائی گئی تو مستقبل کی سرمایہ کاری بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گی۔انہوں نے کہا کہ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ منصوبوں کی لاگت پیشگی صارفین پر منتقل نہیں کی جا سکتی اور صرف تصدیق شدہ عملدرآمد کے بعد ہی اخراجات کی منظوری دی جائے گی، جو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ 2025 کے بعد حیسکو میں منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے شعبوں میں بہتری کے ابتدائی آثار سامنے آئے ہیں اور چیف ایگزیکٹو آفیسر فیض اللہ ڈاہری کی قیادت میں اصلاحاتی اقدامات مثبت سمت میں پیش رفت قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم ان اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔آصف معراج راجپوت نے مطالبہ کیا کہ نیپرا کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے منصوبوں کی سخت مانیٹرنگ، فیڈر سطح پر نقصانات کی ذمہ داری کا تعین، شفاف ٹائم لائنز اور آزاد نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ بجلی صارفین کو دیرپا ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حیسکو کا معاملہ پاکستان کے پاور سیکٹر کے اس بنیادی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے کہ وسائل اور منصوبے موجود ہونے کے باوجود اصل کامیابی مؤثر عملدرآمد سے مشروط ہے۔ اگر اصلاحات کا موجودہ عمل مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا تو بجلی کی فراہمی کے نظام میں نمایاں بہتری ممکن ہے، بصورت دیگر صارفین کو درپیش مسائل برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔