
ٹھٹھہ (جے پی) جسقم (بشیر خان گروپ) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے مرکزی جنرل سیکریٹری پنہل ساریو کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے دریائے سندھ کے پانی پر مبینہ ڈاکے، چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند لنک کینال میں پانی چھوڑنے کے خلاف 8 جولائی کو سجاول میں احتجاجی مارچ اور دھرنے کا اعلان کردیا۔ ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پنجاب کی جانب سے متنازع فلڈ کینال مسلسل چلائے جا رہے ہیں، جس کے باعث پانی کی قلت کے دوران دریائے سندھ کا پانی چوری کرکے سندھ کو بنجر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے سب سے زیادہ کوٹری بیراج سے سیراب ہونے والے زیریں سندھ کے اضلاع، خصوصاً ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور ٹنڈو محمد خان متاثر ہو رہے ہیں۔ نیشنل پریس کلب ٹھٹھہ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز کالانی، پنہل ساریو، جسقم ٹھٹھہ کے ضلعی صدر بابو خشک، جسقم سجاول کے ضلعی صدر محمد خان پٹھان اور منظور میمن نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانی پر مسلسل ڈاکا ڈالا جا رہا ہے، جس کے ذمہ دار براہ راست پنجاب ہے۔ ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ ان کے مؤقف کے مطابق دریائے سندھ پر پنجاب کا قانونی، آئینی، اخلاقی، مذہبی یا بین الاقوامی سطح پر کوئی حق نہیں بنتا، تاہم گزشتہ دو سو برس سے دریائے سندھ پر قبضے کی کوششیں جاری ہیں اور بالآخر لنک کینالوں کے ذریعے سندھ کے حصے کا پانی منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی اس قلت کے باعث پورا سندھ، بالخصوص زیریں سندھ کے اضلاع شدید متاثر ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ میت کو غسل دینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 جولائی کے احتجاج کے ذریعے دنیا کو بتایا جائے گا کہ سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔


















































































