
SIBA ٹیسٹنگ سروسز سکھر – میرٹ، شفافیت اور ڈیجیٹل دور کی پہچانسکھر – سندھ میں میرٹ پر مبنی بھرتیوں اور شفاف امتحانی نظام کی علامت بن چکی “SIBA ٹیسٹنگ سروسز سکھر” نے گزشتہ برسوں میں صوبے کے تعلیمی و سرکاری شعبے میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ اپنی جدید ٹیکنالوجی، غیر جانبدار نظام اور پروفیشنل مینجمنٹ کی بدولت SIBA آج سندھ حکومت کا سب سے قابلِ اعتماد ٹیسٹنگ پارٹنر بن چکا ہے۔حکومتی اعتماد اور بڑے پروجیکٹس

سندھ حکومت نے طبی شعبے میں داخلے کے لیے MDCAT کا انعقاد SIBA کے سپرد کیا، کیونکہ ماضی میں ادارے نے صوبائی صحت کے قوانین کے مطابق شفاف اور منظم انداز میں امتحانات مکمل کروائے۔ اسی طرح BPS-05 سے BPS-15 تک کی سرکاری بھرتیوں کے لیے بھی سندھ حکومت نے SIBA ٹیسٹنگ سروسز کے ساتھ کئی سالہ معاہدہ کیا تاکہ میرٹ کی بنیاد پر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں۔ ہزاروں امیدواروں نے ان ٹیسٹوں میں حصہ لے کر اپنی قابلیت ثابت کی۔جدید نظام اور قومی سطح پر پہچان
SIBA ٹیسٹنگ سروسز سکھر کا سب سے بڑا امتیاز اس کا کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ سسٹم ہے۔ جدید لیبز، بائیو میٹرک ویریفکیشن، CCTV مانیٹرنگ اور رزلٹ کا فوری اجرا اس ادارے کو روایتی نظام سے ممتاز کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق SIBA کا یہ ماڈل انسانی غلطی کے امکانات کو کم کر کے شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی ادارے، سرکاری محکمے اور نجی شعبے اب SIBA کی خدمات پر اعتماد کرتے ہیں۔نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت
SIBA نے نہ صرف امتحان لینے کا کام کیا بلکہ ہزاروں نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار کی راہ بھی دکھائی۔ ادارے کی شفاف پالیسی کی وجہ سے دیہی سندھ کے طلبہ کو بھی شہری علاقوں کے برابر مواقع مل رہے ہیں۔ SIBA ٹیسٹنگ سروسز نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو میرٹ کا کلچر عام کیا جا سکتا ہے۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ SIBA ٹیسٹنگ سروسز سکھر سندھ کی ترقی میں ایک خاموش انقلاب ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف امتحانات کا انعقاد کر رہا ہے بلکہ ایک نئی نسل کو یہ یقین بھی دے رہا ہے کہ محنت اور قابلیت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔
SIBA ٹیسٹنگ سروسز سکھر کی کامیابی کا کریڈٹ اس کے وژنری سی ای او پروفیسر ڈاکٹر آصف اے شیخ کو جاتا ہے۔ اپنی علمی قابلیت، جدید سوچ اور شفافیت پر مبنی قیادت کی بدولت انہوں نے SIBA کو ملک کا سب سے قابلِ اعتماد ٹیسٹنگ ادارہ بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر آصف شیخ کا ماننا ہے کہ “میرٹ کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں” اور اسی فلسفے کے تحت انہوں نے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ، بائیو میٹرک ویریفکیشن اور رزلٹ کے فوری اجرا جیسے نظام متعارف کروائے، جس سے ہزاروں نوجوانوں کا اعتماد بحال ہوا۔


















































































