پاکستان ہمیشہ زندہ باد — ریاست پہلے، سیاست بعد میں بسترِ علالت سے رضوان احمد فکری کا خصوصی کالم


پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں، بزرگوں کی دعاؤں، محنت کش عوام کی امیدوں اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا نام ہے۔ آج جب میں بسترِ علالت پر ہوں اور کل میرا آپریشن ہونا ہے تو زندگی، موت، وطن اور قوم کے بارے میں کئی خیالات ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا کامل یقین ہے کہ زندگی اور موت، صحت اور بیماری، عزت اور آزمائش سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ انسان تدبیر کرتا ہے مگر تقدیر کا مالک صرف ربِ کائنات ہے۔

کل میرا آپریشن ہے۔ میں اپنے تمام دوستوں، ساتھیوں، اہلِ قلم، صحافی برادری، سیاسی و سماجی کارکنوں، میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے عہدیداران، کارکنان اور تمام اہلِ وطن سے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے صحتِ کاملہ عطا فرمائے تاکہ میں دوبارہ اپنی قومی، سماجی اور فکری ذمہ داریاں ادا کر سکوں۔ ایک مسلمان ہر مشکل گھڑی میں لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ورد کرتا ہے، درودِ پاک پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید وابستہ رکھتا ہے۔ جو فیصلہ اللہ کی طرف سے ہو، وہی بہتر اور قابلِ قبول ہے۔

آج دنیا ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازعات اور طاقت کی سیاست نے پوری دنیا کو بے چینی اور عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے۔ افسوس کہ عالمی طاقتیں امن کے بجائے اپنے مفادات کے حصول میں مصروف نظر آتی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انسانیت آج بھی امن، انصاف اور باہمی احترام کی متلاشی ہے۔

پاکستان کے اندر بھی سیاسی کشیدگی، احتجاجی سیاست، الزام تراشی اور باہمی اختلافات نے قومی یکجہتی کو متاثر کیا ہے۔ میری تمام سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ ذاتی، جماعتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف پاکستان کے بارے میں سوچیں۔ اگر ہم سب کا مقصد صرف پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم دنیا کی عظیم ترین اور باوقار قوموں میں شامل نہ ہوں۔

آج ہمیں اس قومی سوچ کی ضرورت ہے جس کا عملی اظہار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور قومی سلامتی کے حوالے سے نظر آتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت، سماجی تنظیمیں، دانشور اور عوام بھی اسی جذبے کے ساتھ قومی مفاد کو مقدم رکھیں تو پاکستان ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔

اسی تناظر میں سابق گورنر سندھ، نشانِ امتیاز اور روحِ رواں میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) ڈاکٹر عشرت العباد خان کی یہ سوچ قابلِ تقلید ہے کہ “ریاست پہلے، سیاست بعد میں”۔ آج ہر سیاست دان، ہر کارکن اور ہر ذمہ دار شہری کو اس نظریے کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ سیاست ضرور ہو، لیکن شرافت، برداشت، خدمت اور قومی مفاد کے دائرے میں ہو۔ قومیں نفرت، تقسیم اور انتشار سے نہیں بلکہ اتحاد، کردار اور قربانی سے ترقی کرتی ہیں۔

ہماری افواجِ پاکستان، رینجرز، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز دن رات وطنِ عزیز کے دفاع میں مصروف ہیں۔ سرحدوں سے لے کر شہروں تک ہمارے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تاکہ پاکستان محفوظ رہے۔ ان تمام شہداء اور غازیوں کو سلام جن کی قربانیوں کی بدولت ہم امن کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اگر ہم بھی اپنی ذمہ داریاں اسی جذبے، اخلاص اور استقامت کے ساتھ ادا کریں تو فتنہ، انتشار، بدامنی اور نفرت کے تمام دروازے بند ہو سکتے ہیں۔

میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ احتجاج، نفرت اور تقسیم کے بجائے پاکستان کے لیے دعا کریں، نوافل ادا کریں، اتحاد کو فروغ دیں اور وطن کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کسی ایک جماعت، زبان، نسل یا طبقے کا نہیں بلکہ 25 کروڑ پاکستانیوں کا مشترکہ گھر ہے۔ اس گھر کی حفاظت، ترقی اور خوشحالی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

آج میں بسترِ علالت سے پوری قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مایوسی کفر ہے، امید زندگی ہے اور پاکستان ہمارا فخر ہے۔ مشکلات آئیں گی، آزمائشیں بھی ہوں گی، لیکن اگر ہم متحد رہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا اور قومی مفاد کو مقدم رکھا تو کوئی طاقت پاکستان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

میں ایک مرتبہ پھر تمام دوستوں، احباب، صحافی برادری، سیاسی و سماجی شخصیات اور اہلِ وطن سے اپنی کامیاب سرجری اور جلد صحت یابی کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرے سمیت تمام بیماروں کو شفا عطا فرمائے، شہداء کے درجات بلند کرے، سیکیورٹی فورسز کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
سیکیورٹی فورسز کو سلام
ریاست پہلے، سیاست بعد میں
سیاست میں شرافت، قوم میں وحدت اور پاکستانیت ہماری اصل پہچان ہے
ہم ہوں یا نہ ہوں، آنے والا وقت پاکستان، قومی اتحاد اور مثبت سوچ کا ہوگا۔

— رضوان احمد فکری
(بسترِ علالت سے خصوصی کالم)