حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت


تحریر: سہیل دانش
سید الشُہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات کے ان گنت پہلو ہیں، آپ کی شخصیت میں ایسے ایسے رنگ موجود ہیں جن کا احاطہ مورخین چودہ سو سال سے کررہے ہیں لیکن حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہورہا۔ آپ دس محرم کے دِن کو لے لیجئے یہ دِن آپ کی شہادت سے قبل مختلف حوالوں سے پہچانا جاتا تھا، مثلاً اللہ تعالیٰ نے عرش، زمین کرسی چاند سورج ستارے اور جنت دس محرم کو تخلیق کی تھیں، حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا نے بھی اس دن آنکھ کھولی تھی، اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن انہیں آتشِ نمرود سے نجات ملی تھی اسی دن فرعون کا لشکر پانی میں غرق ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فتح نصیب ہوئی تھی اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے برآمد ہوئے تھے اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے تھے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو بینائی لوٹائی گئی تھی، اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اور اسی دن وہ دنیا سے زندہ اُٹھالئے گئے تھے، لیکن پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے دس محرم الحرام کو شہادت قبول فرماکر اس دن کا حوالہ بدل دیا۔ در حقیقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ایک جدوجہد کا نام ہیں، یہ دن آپ کے خاندان اور کنبہ رسولﷺ کی شہادت کا نام ہے یہ دن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ایمان، جرات اور جہاد کی عملی شکل کا نام ہے میں دِل ک اتھاہ گہرائیوں سے سمجھتا ہون اگر دنیا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نہ ہوتے اگر وہ کربلا میں اپنے خاندان کی قربانی نہ دیتے تو دنیا میں کوئی بھی شخص برائی کے خلاف اکیلا کھڑا ہونے کی جرات نہ کرتا، یہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی تھی، جس نے لوگوں کو لڑنے ٹکرانے اور وقت کے فرعونوں کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا، اُس نے تاریخ عالم کو سمجھایا کہ دنیا کی ہر شکست وقتی اور ہر فتح عارضی ہوتی ہے اور دنیا میں صرف سچ اور حق کو مستقل حیثیت حاصل ہے اس قربانی نے یہ سبق دیا کہ حق کا ساتھ دو اور باطل سے ٹکرا جاؤ مجھے آج وہ مکالمہ یاد آرہا ہے جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے پہلے جناب لاریجانی اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں حاضر ہوکر اُنہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ کچھ عرصے کے لئے کسی محفوظ اور پوشیدہ جگہ پر منتقل ہوجائیں اُس کے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای نے یہ تاریخی الفاظ کہے۔ “مسٹر لاریجانی آؤ ہم ایک ایسی زبان میں بات کریں جو سیاست سے بھی پرانی ہے، میں اپنے سپاہیوں کو موت کا سامنا کرنے کا کیسے کہہ سکتا ہوں اگر اُس کا کمانڈر خود غائب ہوجائے اُنہیں ثابت قدم رہنے کا کیسے کہہ سکتا ہوں اگر میں خود سب سے پہلے خطرے کے میدان سے چلاجاؤں وہ اس طرح بولے جیسے کربلا کا دروازہ اُن کے دل میں کھل گیا ہوں ہم اُس کے فرزند ہیں جس کا نام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ ہے۔ اُنہیں اپنے انجام کا علم تھا لیکن پھر بھی وہ اُس طرف ایسے بڑھے جیسے کوئی خدا کے وعدے کی طرف بڑھتا ہے۔