وینزویلا میں 7.5 شدت کا ہولناک زلزلہ

جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں وقفے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے باعث دارالحکومت کراکس سمیت متعدد شہروں میں کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں بڑے جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکی اداروں نے بھی ممکنہ ہلاکتوں سے متعلق سنگین انتباہ جاری کر دیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلا زلزلہ 7.1 شدت کا ریکارڈ کیا گیا، جس کے چند منٹ بعد 7.5 شدت کا ایک اور شدید جھٹکا محسوس کیا گیا۔ مقامی وقت کے مطابق یہ زلزلے شام 6 بجے آئے، جس کے باعث بلند و بالا عمارتیں ہل کر رہ گئیں اور شہری خوف کے عالم میں گھروں اور دفاتر سے نکل کر کھلے مقامات پر جمع ہو گئے۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے صورتحال کو قومی المیہ قرار دیتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق زلزلے سے کراکس کا مرکزی مائی کیٹیا ایئرپورٹ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، جہاں پروازوں کا آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے اب تک 32 افراد کی ہلاکت اور 700 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم ملبے تلے دبے افراد کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔ امدادی اداروں اور سیکیورٹی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیز کر دیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت اور تباہی کے دائرے کو دیکھتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب وینزویلا کے ساتھ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی علاقے بھی زلزلے کے جھٹکوں سے متاثر ہوئے، جہاں 5.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے تقریباً 10 لاکھ افراد کو الرٹ جاری کر دیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے امریکی امدادی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وینزویلا کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔