
کیپٹن محمد صفدر کی مصروفیات کیا ہیں ؟
اہم رپورٹ

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی

مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے اپنے آپ کو سرکاری سرگرمیوں سے یکسر الگ کر لیا ہے۔ وہ نہ تو سرکاری تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، نہ ہی کسی باضابطہ محفل یا پروگرام میں وزیراعلیٰ کے ہمراہ نظر آتے ہیں۔ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ایک شعوری اقدام ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ سرکاری معاملات میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں یا ان کا کوئی متوازی اثر و رسوخ ہے۔
کیپٹن صفدر نے نہ صرف سرکاری تقریبات سے کنارہ کشی اختیار کی ہے، بلکہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس، سیکرٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر میں جانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح اظہار ہے کہ وہ انتظامی امور میں کسی قسم کی مداخلت کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا ماننا ہے کہ وزیراعلیٰ کا عہدہ ایک مکمل آئینی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی دوسرے کی موجودگی، چاہے وہ میاں ہی کیوں نہ ہو، غیر مناسب ہوگی۔
سرکاری سرگرمیوں سے علیحدگی کے باوجود کیپٹن صفدر سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، مگر یہ سرگرمیاں مکمل طور پر پارٹی کی عوامی سیاست اور کارکنوں سے روابط تک محدود ہیں۔ وہ مختلف شہروں میں پارٹی کے کارکنوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں، عوام کے دکھ درد سنتے ہیں، اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں، لیکن ان تمام سرگرمیوں میں وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ ان کا تعلق سرکاری انتظامیہ سے نہ جوڑا جائے۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ کیپٹن صفدر کا یہ طرزِ عمل ان کی سیاسی بصیرت اور ذمہ داری کا مظہر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے طور پر مریم نواز کی شخصیت کو ایک خودمختار اور مضبوط حیثیت دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو پیچھے رکھیں۔ اس لیے انہوں نے خود کو ایک معاون اور ہمدرد میاں کے کردار تک محدود کر لیا ہے، جو گھر میں حوصلہ افزائی تو کرتا ہے مگر سرکاری فیصلہ سازی کے عمل سے بالکل باہر ہے۔
کیپٹن محمد صفدر کے اس اقدام کو سیاسی حلقوں میں بڑی دانشمندی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک باشعور اور سمجھ دار سیاسی شخصیت ہیں، جو عہدے اور اختیار کی چمک سے متاثر ہوئے بغیر اپنی حدود کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ آج وہ وزیراعلیٰ کے سرکاری پروگراموں میں شریک نہیں ہوتے، نہ کوئی مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہیں، اور نہ ہی کسی سرکاری دستاویز یا فیصلے پر کوئی تبصرہ کرتے ہیں — یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پنجاب کی گورننس مکمل طور پر وزیراعلیٰ کے سپرد ہے۔


















































































