
محسن نقوی کی سیاسی اٹھان ؟
کامیابی کی شاہراہ پر تیزی سے طے کیے جانے والے سفر کی کہانی ، جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی زبانی




صحافت سے سیاست تک اور کرکٹ سے عالمی سفارت کاری تک ۔۔۔۔۔۔کب کیوں کیسے ؟
خصوصی رپورٹ

coming soon
بطورِ خاص آپ کے اصرار پر، یہ ہیں **چار منفرد اور تفصیلی پیراگراف** اردو میں، جن میں محسن نقوی کے کامیاب سفر کو ایک اسٹوری ٹیلر کے انداز میں پیش کیا گیا ہے:
—
**: سی این این کی رپورٹنگ سے خود شناسی تک**
محسن نقوی کا سفر اُس وقت شروع ہوا جب وہ امریکی نیٹ ورک سی این این کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے—ایک ایسا دور جب دنیا بھر کی خبریں اُن کی آواز اور قلم سے عبارت تھیں۔ لیکن محسن نقوی صرف خبریں پڑھنے والا ایک چہرہ نہیں تھے؛ وہ ہر اسٹوری کی پڑتال، ہر انٹرویو کی گہرائی اور ہر بریکنگ نیوز کے پس منظر کو سمجھتے تھے۔ اس تجربے نے اُنہیں نہ صرف عالمی میڈیا کی حکمت عملی سکھائی بلکہ خود اعتمادی کا ایسا مجسمہ عطا کیا کہ وہ جلد ہی کسی اور کی کمپنی میں کام کرنے کے بجائے اپنی سلطنت تعمیر کرنے کا خواب دیکھنے لگے۔
—
**: ایک میڈیا ہاؤس کا مالک بننے کا سنہری لمحہ**
اپنی محنت اور میڈیا کی سمجھ بوجھ کو سرمایہ بنا کر، محسن نقوی نے ایک ایسا میڈیا گروپ قائم کیا جو چند سالوں میں پاکستان کے طاقتور ترین میڈیا پلیئرز میں شمار ہونے لگا۔ وہ صرف ایک بزنس مین نہیں بنے بلکہ ایک وژنری بن کر ابھرے—جنہوں نے نیوز رومز کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا، صحافتی معیارات کو بلند کیا، اور نوجوان صحافیوں کو پلیٹ فارم دیا۔ یہ وہ موڑ تھا جب محسن نقوی نے ثابت کیا کہ رپورٹر کی آنکھ اور مالک کا دماغ ایک ساتھ مل کر صنعت کو نئی سمت دے سکتے ہیں، اور یہی کامیابی اُنہیں سیاست کے دروازے تک لے کر آئی۔
—
**: سیاست میں قدم اور نیا راستہ**
سیاست میں داخل ہوتے ہی محسن نقوی نے وہی کچھ کیا جو اُن کا خاصہ ہے—سخت محنت، تیز فیصلے، اور لوگوں سے براہِ راست رابطہ۔ انہوں نے اپنے میڈیا کے تجربے کو سیاست کے میدان میں منتقل کیا، جہاں وہ عوام کے مسائل کو نہ صرف سنتے ہیں بلکہ انہیں پالیسی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ میں ایک خاص پختگی ہے، جو شاید اسی وجہ سے ہے کہ انہوں نے دنیا کو قریب سے دیکھا ہے۔ حکومت کے مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ ایک “آدمی” والا انداز رکھتے ہیں، جو انہیں عام سیاستدانوں سے ممتاز کرتا ہے۔
—
**: پی سی بی کا چیئرمین—کرکٹ کی نئی روح**
اور پھر وہ دن آیا جب محسن نقوی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا—ایک ایسا چیلنج جہاں میڈیا، سیاست اور کھیل تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر کرکٹ کو ایک پیشہ ورانہ نظام دینے کی کوشش شروع کی، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، انفراسٹرکچر کی تعمیر، اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کو اپنی ترجیحات بنایا۔ محسن نقوی آج پی سی بی میں ایک نئی توانائی لے کر آئے ہیں—وہ چاہتے ہیں کہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہ رہے بلکہ پاکستان کا تشخص بنے۔ ایک CNN رپورٹر سے کرکٹ بورڈ کے سربراہ تک کا یہ سفر اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر انسان اپنے ہنر، تجربے اور عزم کو جمع کر لے تو وہ ہر میدان میں کامیابی کا پرچم لہرا سکتا ہے۔
====================

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ریاض پہنچ گئے
ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا
وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی منگل کو سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے۔ یہ بات سعودی وزارتِ داخلہ نے بتائی ہے۔
شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق پاکستانی وزیرِ داخلہ سرکاری دورے پر مملکتِ سعودی عرب پہنچے ہیں۔
توقع ہے کہ اس دورے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان داخلی سلامتی، انسدادِ منشیات اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔


















































































